حج فارم سے ختم نبوتؐ کا بیان حلفی حذف کرنے پر سینیٹ میں اپوزیشن سراپا احتجاج

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (جنرل رپورٹر)سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے افغان امن معاہدہ پر پارلیمنٹ کو اعتماد

میںنہ لینے اور وزارت مذہبی امور کی جانب سے حج فارم میں ختم نبوت سے متعلق بیان حلفی حذف

کرنے پرشدید احتجاج کیا جس پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزارت مذہبی امور سے تفصیلی

رپورٹ سمیت وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو

آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔سینیٹ میں اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر خارجہ ایوان میں آکر

افغان امن معاہدے سے متعلق پالیسی بیان دیں ،افغان صدر کا بیان خوش آئندنہیں ،وزیر خارجہ پریس

کانفرنس کے بجائے ایوان میں آنا چاہیے تھا ،افسوس کی بات ہے حکومت دونوں ایوانوں کو سنجیدہ

نہیں لے رہی۔ان خیالات کا اظہار سینیٹر رضا ربانی ، شیری رحمن ، راجہ ظفر الحق و دیگرنے

اجلاس میں کیا۔ وفاقی وزیر اعظم سواتی نے کہا ہے کہ طالبان امریکہ معاہدے کے معاملے پر

حکومت اپنا نکتہ نظر ضرور دے گی ۔سینیٹ اجلاس میں گزشتہ روز توجہ دلاؤ نوٹس پربیرسٹر محمد

سیف نے کہاکہ افغان امن معاہدہ انتہائی خوش آئند ہے، افغان کمانڈر نے اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔

سینیٹر شیری رحمن نے وزیر خارجہ کا ایوان میں اکر افغان امن معاہدہ سے متعلق پالیسی بیان دینے کا

مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ہمسایہ ملک کو ازاد اور خود مختار سمجھتا ہے۔انہوںنے کہاکہ افغان

صدر نے سوال اٹھایا کہ انھیں اس معاہدہ میں شامل نہیں کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ یہ بات واضح نہیں کی

گئی کہ پانچ ہزار قیدی واپس کیسے آئینگے ۔ انہوںنے کہاکہ تیزی میں جو ڈیل سائن ہوئی وہ بیشک

ہمارے حق میں ہے ،پر یہ بتایا جائے امریکہ سے کیا بات ہوئی۔شیری رحمن نے کہاکہ صدر زرداری

نے حامد کرزئی کو پاکستان بلایا تھا، ہم نے شمسی ایئربیس بند کئے، تیزی میں ڈیل کی گئی ہے۔شیری

رحمان نے کہاکہ امن ڈیل کے حوالے سے افغان صدر اشرف غنی نے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔قائد

حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہاکہ افغان صدر کے جو بیان پڑھے وہ زیادہ خوش آئند نہیں۔

انہوںنے کہاکہ کئی بار پہلے بھی ہوا افغانستان میں لوگوں کو اکھٹا کرکے عبوری حکومت بنائی

گئی،اس معاملہ پر بہت بہتر ہوگا وزیر خارجہ ایوان میں آئے تاکہ معاملہ تفصیل سے بات ہوسکے۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہاکہ وزیرخارجہ نے گزشتہ روز جو پریس کانفرنس کی انہیں وہ بیان ہائوس

میں اکر دینا چاہئے تھا۔انہوںنے کہاکہ افسوس کی بات ہے حکومت دونوں ایوانوں کو سنجیدہ نہیں لے

رہی۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ اجلاس میں مشیر خزانہ سے ایوان میں اکر ائی ایم ایف سے ہونے والے

مذاکرات کے بارے میں اگاہ کرنے کا کہا گیالیکن ٹیکنو کریٹ وزیر خزانہ ایوان میں نہیں آئے۔سینیٹر

رضا ربانی نے کہاکہ وزیر خارجہ کو معلوم ہے کہ سینیٹ اجلاس چل رہا ہے،وزیر خارجہ کو امریکہ

افغانستان امن معاہدے پر ایوان کو اعتماد میں لینا چاہئے ۔۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے

کہاکہ طالبان امریکہ معاہدے کے معاملے پر حکومت اپنا نکتہ نظر ضرور دے گی انہوںنے کہاکہ

پورے خطے کی سیاست کا مستقبل کا انحصار دوحہ معاہدہ سے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت

کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے سب کو داد دینی چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت خود کو بھی

افغانستان کے معاملے پر خود کو فریق سمجھتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کا مقصد صرف پاکستان کو

تباہ کرنا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ افغان اپنے ملک کے اندر اور باہر ٹھوکریں کھا رہے ہیں،ہمیں اس

معاہدے کو مکمل سپورٹ کرنا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ طالبان، امریکہ معاہدے کو شک کی نگاہ سے

نہیں دیکھنا چاہیے۔قائد ایوان سنیٹر شبلی فراز نے کہاکہ وزیر خارجہ ضرور ایوان میں آئیں گے ۔

انہوںنے کہاکہ ملک میں نیشنل پاور ایمرجنسی لگنی چاہئے۔انہوںنے کہاکہ ماضی میں جو ہمارے

کنٹریکٹ ہوئے اس میں پاکستان کے مستقبل کا نہیں سوچا گیا،جب قیمتیں بڑھانا چاہئے تھی گزشتہ

حکومت نے نہیں بڑھائی۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ حکومتیں اس وقت قیمتوں کو برقرار نہیں رکھتی

تھیں،ہم اس وقت سیاسی قیمتیں ادا کررہے ہیں۔چیئرمین نے ہدایت کہ وزیر خارجہ ایوان میں آکر بیان

دیں۔سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہاکہ کروناوائرس کے معاملہ میں چین میں طلبا کو اب تک ضرورت کا

سامان مہیا نہیں گیا گیا،موجودہ حکومت کی ملیریا، ٹی بی اور ڈینگی پر کوئی کارکردگی نہیں۔سینیٹر

پرویز رشید نے کہاکہ حکومت کی ساری سیاست نواز شریف کو جیل میں رکھنے پر گھومتی

ہے،مشرف کی سیاست نوازشریف کو جلاوطن رکھنے پر ہوتی تھی۔ ان کو عوامی ایشوز یاد نہیں ہیں۔۔

سینیٹر میاں عتیق نے کہاکہ ملک کی معیشت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ

بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس میں حکومت کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا جو خوش آئند ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply