hafizSaeed

دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں حافظ سعید پر فرد جرم عائد

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(جتن آن لائن نیوز رپورٹر) حافظ سعید

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں کالعدم جماعت الدعو کے سربراہ حافظ

سعید اور ان کے 4 ساتھیوں پر فرد جرم عائد کردی ہے۔ حافظ سعید اور ان کے دیگر ساتھیوں کو سخت سیکیورٹی حصار میں بدھ کو

عدالت پہنچایا گیا اور سماعت کے دوران ان کے وکیل نے اپنے دلائل پیش کیے۔ الزامات عائد کیے جانے کے بعد عدالت نے مدعا

علیہان کے گواہوں کو طلب کیا جس کے بعد مقدمے کی سماعت کرنے والی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج ملک

ارشد بھٹہ نے آج جمعرات تک سماعت ملتوی کردی۔ مزید پڑھیں

17جولائی سے حافظ سعید دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں گوجرانوالہ سے گرفتار ہیں

دہشت گردوں کی مالی امداد کا یہ مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی نے درج کیا تھا اور ہفتے کو ایک مشتبہ ملزم کی عدم دستیابی

کے سبب عدالت نے فرد جرم عائد نہیں کی تھی۔جماعت الدعو نے اپنے اوپر لگائے گئے ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور پاکستان پر

عالمی دبا کا نتیجہ قرار دیا ہے اور ساتھ ساتھ دعوی کیا کہ انہیں کالعدم لشکر طیبہ کا رہنما بتا کر اس مقدمے میں شامل کیا گیا۔ملزمان

نے استدعا کی کہ وہ کالعدم لشکر طیبہ پر 2002 میں لگائی گئی پابندی سے قبل ہی اسے چھوڑ چکے تھے اور یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے

جس کا ذکر اعلی عدلیہ کے فیصلے میں بھی موجود ہے۔1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دہشت گردوں کی مالی

معاونت اور منی لانڈرنگ کے الزام میں 3جولائی کو جماعت الدعو کے صف اول کے 13رہنماوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے

تھے۔

عالمی سطح پر لگنے والی پابندی کے خطرے کے پیش نظر حکومتی مشینری متحرکت

محکمہ انسداد دہشت گردی نے پنجاب کے پانچ شہروں میں مقدمات درج کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ الانفال ٹرسٹ، دعوت

الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ وغیرہ جیسی فلاحی تنظیموں اور ٹرسٹ سے اکٹھا ہونے والی رقم اور فنڈز کو جماعت الدعو نے

دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا۔ محکمہ انسداد دہشت گردی نے ان تنظیموں پر اپریل میں پابندی عائد کردی تھی

جہاں تفصیلی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی تھی کہ ان تنظیموں کے 9ے A78%D5ع %F%D94بع %D رAا ҩ %8B%A ح8س %7%D88ثب %D1ں %3 ے8
17F
%%D
9%جA79%D4ئ %8%اٸ D83غی ө%%D ػی 8C ۈ%پA79%D ب8ن %DFش %F%ثی ׌ DB5ةل %D5%9%اAA9ن%%D کے B28%D4ا %A ڸ%گB19%DC%9%اA79%D8ل %8%رA79%D ر %ا تھا اور

انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔رواں سال فروری میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو

خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے وعدوں کا پاس رکھتے ہوئے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم میں ملوث

افراد کے خلاف کارروائی کرے۔عالمی سطح پر لگنے والی پابندی کے خطرے کے پیش نظر حکومتی مشینری فوری طور پر حرکت

میں آ گئی تھی تاکہ 2 ماہ کے اندر اندر اچھے نتائج دکھائے جا سکیں۔پاکستان نے بھارت کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے رواں

سال فروری میں جماعت الدعو اور فلاح انسانیت فانڈیشن پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا تھا جہاں پڑوسی ملک نے الزامات عائد

کیے تھے کہ پاکستان ان اور جیش محمد سمیت ان جیسی چھ تنظیموں کو سپورٹ کرتا ہے یا انہیں کم خطرے کی حامل تنظیمیں تصور

کرتا ہے۔اس کے چند ہفتوں بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جماعت الدعو، فلاح انسانیت فانڈیشن، جیش محمد دیگر کالعدم

تنظیموں کے خلاف کارروائیا تیز کرتے ہوئے 100 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا تھا، اس کے علاوہ ان کالعدم تنظیموں سے

منسلک 200 سے زائد مدرسے، سینکڑوں دیگر املاک اور اثاثے حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیے تھے۔

ایف اے ٹی ایف کی ہدایات پر منی لانڈرنگ کے مکمل خاتمے کیلئے اقدامات تیزی سے جاری

ایف اے ٹی ایف ہر تین ماہ میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے اور حالیہ رپورٹ میں ٹاس فورس نے پاکستان کی کارکردگی

کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک سے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے مکمل خاتمے کے لیے

حکومت کو اضافی اقدامات کرنے ہوں گے۔اس سلسلے میں پاکستان کو مزید اقدامات کے لیے فروری 2020 تک کی چھوٹ دی گئی

ہے اور اور اس وقت تک پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رہے گا۔2012 میں پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کردیا

گیا تھا اور 2015 تک نام اس فہرست کا حصہ تھا جس کے بعد 3سال تک پاکستان اس فہرست سے باہر رہا۔البتہ 29جون 2018 کو

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کا نام ایک مرتبہ پھر گرے لسٹ میں شامل کر لیا تھا اور پاکستان کو 15نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد

کے لیے 15ماہ کا وقت دیتے ہوئے انتباہ دیا گیا تھا کہ عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کر لیا

جائے گا۔اس وقت بلیک لسٹ میں شامل ممالک میں صرف ایران اور شنالی کوریا کے نام شامل ہیں۔

حافظ سعید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply