سانحہ کرائسٹ چرچ پر مبنی فلم "دے آراَس" پر جیسنڈا آرڈرن کا دبنگ موقف

سانحہ کرائسٹ چرچ پر مبنی فلم “دے آراَس” پر جیسنڈا آرڈرن کا دبنگ موقف

Spread the love

ویلنگٹن (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) جیسنڈا آرڈرن کا دبنگ موقف

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کرائسٹ چرچ میں مساجد پر

ہونیوالے حملوں کے تناظر میں بننے والی کسی بھی فلم میں انہیں یا کسی اور

کردار کو دکھانے کے بجائے مسلمانوں پر ڈھائے گئے ظلم کو دکھایا جانا چاہیے۔

جیسنڈا آرڈرن کا یہ بیان کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر 2019ء میں ہونے والے

دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر میں نیوزی لینڈ کی فلم ساز کی جانب سے فلم

بنائے جانے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ فلم ساز اینڈریو نکولو نے حال ہی

میں مساجد پر حملوں کے تناظر میں ” دے آر اَس” فلم بنانے کا اعلان کیا تھا جس

کی مرکزی کہانی مسلمانوں کیساتھ ظلم کے بجائے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی

جانب سے مذکورہ واقعے کے بعد کیے جانیوالے اقدامات کے گرد گھومتی ہے۔

=-.-= فلم کی کہانی صرف ڈھایا جانیوالا ظلم ہونی چاہیے، کیوی وزیراعظم

فلم کا نام بھی جیسنڈا آرڈرن کی مذکورہ حملوں کے بعد مسلمانوں سے اظہار یک

جہتی کیلئے کی گئی تقریر سے لیا گیا ہے جبکہ فلم میں صرف ان کی کاوشیں ہی

دکھائی جائیں گی۔ فلم میں جیسنڈا آرڈرن کا کردار آسٹریلوی اداکارہ روز بیرن ادا

کریں گی۔ فلم کے اعلان کے بعد نیوزی لینڈ کے مسلمانوں نے فلم کی کہانی پر

اعتراض کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا اور ٹوئٹر پر 10 جون کے بعد ” دے

آر اَس شٹ ڈاﺅن ” کا ٹرینڈ بھی ٹاپ پر رہا۔ بعد ازاں نیشنل اسلامک ایسوسی ایشن

نے بھی مذکورہ فلم کے اعلان کے بعد آن لائن پلیٹ فارم ” چینج ڈاٹ او آر جی ”

پر آن لائن پٹیشن بھی شروع کی تھی اور مسلمانوں نے فلم کو نہ بنانے کا مطالبہ

بھی کیا تھا۔ ابتدائی طور پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے فلم کے اعلان پر کوئی

تبصرہ نہیں کیا تھا مگر مسلمانوں کی تنقید کے بعد اب انہوں نے فلم کے موضوع

اور کہانی کو غلط قرار دیا ہے۔

=-= ایسی ہی مزید معلومات پر مبنی خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

میڈیا رپورٹ کے مطابق جیسنڈا آرڈرن نے” دے آر اَس” کی مجوزہ کہانی کو غلط

قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ مساجد پر حملوں کے تناظر میں بننے والی کسی

بھی فلم کی کہانی مسلمانوں کے ساتھ ظلم کے گرد ہونی چاہیے۔ کرائسٹ چرچ کی

مساجد پر حملوں کا واقعہ اب بھی یہاں کے عوام کے لئے خوفناک ہے اور اسے

لوگ تاحال مکمل طور پر سمجھ بھی نہیں سکے۔ مذکورہ دہشت گردانہ واقعے میں

درجنوں مسلمان خاندان متاثر ہوئے، 51 افراد شہید جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوئے

اور فلم میں ان واقعات کو ہی دکھایا جانا چاہیے۔ جیسنڈا آرڈرن نے یہ بھی واضح

کیا کہ مذکورہ فلم کے حوالے سے ان سے کوئی بھی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ

ان کی خواہش ہے کہ فلم میں انہیں دکھایا جانا چاہیے۔ جیسنڈا آرڈرن نے یہ بھی کہا

کہ مساجد پر حملوں کے تناظر میں بننے والی کسی بھی فلم کی کہانی متاثر

مسلمانوں کے گرد ہونی چاہیے اور ان کیساتھ ظلم و ستم کو ہی دکھایا جانا چاہیے۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

فلم میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسنڈرا آرڈن کے پرتشدد واقعہ کے خلاف فوری

ردعمل کو نہ صرف سراہا گیا ہے بلکہ اس کو ایک متاثر کن کہانی کے طور پر

بیان کیا جائے گا، تاہم وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا

کہ حکومت کا اس فلم سے کوئی تعلق نہیں، یہ واقعہ نہ صرف ملک کی تاریخ کے

لیے برا تھا بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ اس برادری کے لیے تھا جو اس سے

متاثر ہوئے۔ واضح رہے 2 سال قبل نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی 2

مساجد النور اور لینوڈ میں فوجی وردی میں ملبوس 28 سالہ انتہا پسند آسٹریلوی

سفید فام برینٹن ٹیرنٹ کی فائرنگ سے 49 افراد جاں بحق اور 48 زخمی ہو گئے

تھے۔

جیسنڈا آرڈرن کا دبنگ موقف

Leave a Reply