turmp and jobiden jtnonline

مسلم دشمنی میں جوبائیڈن بھی ٹرمپ، بیت المقدس ہی اسرائیلی دارالحکومت قرار

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ ) جوبائیڈن بھی ٹرمپ

سابق امریکی نائب صدر اور رواں برس نومبر میں ڈیموکریٹک کے صدارتی امیدوار، 77سالہ جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے، کہ اگر وہ امریکی صدر بن جاتے ہیں، تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک غلط فیصلے کو برقرار رکھیں گے۔ جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اگر وہ انتخابات جیت جاتے ہیں تو، وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل، میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم، منتقل کرنے والے فیصلے کو اختلافات کے باوجود تسلیم کریں گے، اور امریکی سفارتخانے کو دوبارہ منتقل نہیں کریں گے-

——————————————————————————
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا اعلان، مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی پالیسی کا نیا رخ
——————————————————————————
ٹرمپ کا فیصلہ 1995ء میں بنے یروشلم سفارتخانہ ایکٹ کی سراسر نفی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے کے، ایک سال بعد ہی عالمی تنقید کے باوجود، دسمبر 2017ء میں یروشلم (بیت المقدس) کو، اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ کے اس متنازع فیصلے پر مسلم ممالک سمیت امریکہ کے اتحادی و قریبی یورپی ممالک نے بھی تنقید کی تھی، تاہم اس باوجود امریکہ نے اگلے ہی سال، مئی 2018ء میں اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کردیا تھا۔ امریکہ کی جانب سے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل، کیے جانے کے ایک ہفتے کے اندر ہی دوسرے ممالک نے بھی، اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے سفارتخانے تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنا شروع کردیے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرکے ا پنے ہی 1995ء میں بننے والے قانون یروشلم سفارتخانہ ایکٹ کی خلاف ورزی کی تھی۔امریکہ کے محکمہ خارجہ کے مذکورہ ایکٹ کے مطابق امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ تل ابیب کو ہی اسرائیل کا دارالحکومت مانے گا، اور وہیں پر امریکہ کا سفارتخانہ ہوگا، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس ایکٹ کو ہی نظر انداز کردیا تھا۔

اقوام متحدہ 1947ء میں یروشلم کو عالمی خود مختار شہر قرار دے چکا

علاوہ ازیں امریکہ نے اقوام متحدہ(یو این)کے عالمی قوانین کے ایکٹ کی خلاف ورزی بھی کی، کیونکہ اقوام متحدہ نے 1947ءمیں یروشلم کو عالمی خود مختار شہر قرار دیا تھا، جسکا مطلب کہ مذکورہ شہر کے انتظامات اسرائیل کے پاس نہیں، تاہم اس باوجود امریکہ نے بیت المقدس کو، اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے ایک نیا تنازع کھڑا کیا۔ اب امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے بھی کہا ہے ،کہ اگر وہ صدر بنتے ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کے اسی فیصلے کو تبدیل نہیں کریں گے۔

جوبائیڈن بھی ٹرمپ

یہ اعلان انہوں نے ایک ورچوئل فنڈ ریزنگ تقریب میں، خطاب کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا ،کہ وہ اسرائیل میں امریکہ کا سفارتخانہ یروشلم میں ہی رہنے دیں گے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مذکورہ فیصلہ ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا، مگر اب اگر انہوں نے ایسا کردیا ہے، تو وہ دوبارہ غلطی نہیں کریں گے ،اور سفارتخانے کو وہیں رہنے دیں گے۔

امریکی سفارتخانہ یروشلم سے تل ابیب منتقل کیا تو معاملہ مزید بگڑ جائیگا، دلیل

میسا چوٹس میں ہونےوالی اسی تقریب سے خطاب کے دوران، انہوں نے اسی معاملے پر مزید وضاحت کی کہ، مذکورہ معاملے کو اسی تناظر میں نہیں ہونا چاہیے تھا، اسے وسیع تناظر اور امن کے پھیلا ﺅکے طور پر کیا جانا چاہیے تھا۔جو بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ مذکورہ فیصلے کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ نے فائدہ اٹھایا، تاہم انہوں نے ان کے فائدے کی وضاحت نہیں کی ۔امریکی صدارتی امیدوار کے مطابق اگر وہ صدر منتخب ہوجاتے ہیں ،اور امریکی سفارتخانے کو ایک بار پھر یروشلم سے تل ابیب منتقل کریں گے، تو معاملہ مزید بگڑ جائے گا ،اور اس سے امن میں بھی خلل پڑے گا۔

قارئین : ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالوکریں

انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرتے وقت، امریکہ نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، اور شرائط کو بھی مکمل نہیں کیا ،مگر اب وہ ہو چکا تو اسے دوبارہ یروشلم سے دوسری جگہ منتقل کرنا درست نہیں۔جو بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ صدر بن جاتے ہیں، تو وہ مشرقی یروشلم میں امریکی قونصلیٹ کھولیں گے، تاکہ فلسطین و امریکہ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔

جوبائیڈن بھی ٹرمپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply