اسرائیلی بمباری، مزید 24 فلسطینی شہید، اسلامی یونیورسٹی، متعدد عمارتیں تباہ

اسرائیلی وزیر اعظم نے جنگ بندی کا مطالبہ مسترد کر دیا، فلسطینی علاقوں پر بمباری جاری

Spread the love

جنگ بندی مطالبہ مسترد

تل ابیب(جے ٹی این آن لائن نیوز) اسرائیل کے وزیر اعظم وزیراعظم نیتن یاہو نے عالمی رہنماﺅں

کے مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسندی کے خاتمے تک جنگ جاری رہے

گی۔عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے نویں دن بھی غزہ پر فضائی بمباری کی جس کے نتیجے میں 4

فلسطینی شہید اور کئی گھر مسمار ہوگئے ،حماس کے راکٹ حملوں میں 5 سالہ لڑکے سمیت 3

اسرائیلی مارے گئے۔دس دن سے جاری جھڑپوں میں غزہ میں شہادتوں کی مجموعی تعداد 219

ہوگئی ،کہ اسرائیل کے مطابق حماس کے حملوں میں 130 اسرائیلی شہری بھی مارے گئے۔ادھر

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے عالمی رہنماﺅں کی جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کردیا اور

روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی شہریوں پر حملے بند ہونے تک مزاحمت

کاروں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔نیتن یاہو نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی شدت

پسندوں کو ایسی ضربیں لگائی ہیں جس کی وہ توقع نہیں کر رہے تھے، جب تک اسرائیلی شہریوں پر

حملے بند نہیں ہوتے تب تک جنگ جاری رہے گی۔اسرائیلی بمباری سے اب تک 450عمارتیں تباہ ہو

چکی ہیں۔ اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں فائرنگ کر کے مزید 4 مظاہرین کو شہید کر دیا۔

اسرائیلی فورسز نے مظاہرین پر دھاوا بول دیا، مسجد الاقصی کے دمشق گیٹ کے قریب فلسطینیوں

پر فائرنگ کی، بے ہوش کرنے والے بم پھینکے، متعدد افراد کو گرفتار بھی کرلیا۔ غزہ پر حملوں کے

خلاف مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں فلسطینیوں نے کار ریلیاں بھی نکالیں۔ شرکا نے

فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے، وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ احتجاج میں

بچوں اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں کا

سلسلہ جاری ہے، امریکا سے لے کر مشرق وسطی اور مشرقِ بعید تک اسرائیلی مظالم کے خلاف

احتجاج کیا گیا۔ دنیا کے مختلف شہروں میں اسرائیلی مظالم کے خلاف بھرپور مظاہروں کا سلسلہ

جاری ہے، امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس میں بھی اسرائیل مظالم کے خلاف

احتجاج کیا گیا، مظاہرے میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ لوگوں نے اظہارِ یکجہتی کے لیے

معروف فلسطینی رومال کیفیہ سے سر ڈھانپ رکھے تھے۔ شرکا کا کہناتھا معصوم انسانوں کو قتل

کرنے کا سلسلہ فوری بند ہونا چاہیے۔ یمن کے درالحکومت صنعا میں لاکھوں افراد نے احتجاج کیا،

مظاہرین کا کہنا تھاکہ ایک دن مسلمان مل کر قبلہ اول کو آزاد کروائیں گے۔ ایران کے دارالحکومت

تہران میں عوام نے غزہ کے حق میں احتجاج کیا، اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ انڈونیشیا

کے عوام فلسطینی پرچم تھامے سڑکوں پر نکل آئے، اسرائیلی بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت

کی۔مصر نے ایک ہفتے سے اسرائیلی بمباری سے متاثر غزہ سیکٹر کی تعمیر نو کے لیے 500 ملین

ڈالر مدد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کی سپیشلسٹ کمپنیاں غزہ پٹی کی تعمیر نو کے

منصوبے نافذ کریں گی، مصر نے زخمیوں کے علاج کے لیے 65 ٹن طبی امداد بھیج دی ہے۔ مصری

ایوان صدارت کے ترجمان بسام راضی نے فیس بک پر بیان میں کہا کہ صدر عبدالفتاح السیسی نے

حالیہ واقعات کے باعث غزہ پٹی میں تعمیر نو کے لیے مصر کی طرف سے 500 ملین ڈالرپیش

کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بسام راضی نے بتایا کہ مصر کی سپیشلسٹ کمپنیاں غزہ پٹی کی تعمیر نو

کے منصوبے نافذ کریں گی۔ مصر کی جانب سے تعاون کا یہ اعلان مصری وزیر صحت ھالہ زاید

کی جانب سے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد کیا گیا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ مصر نے

زخمیوں کے علاج کے لیے 65 ٹن طبی امداد بھیج دی ہے۔ یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے

فلسطینیوں کی نسل کشی پر مشتمل جنگی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے

فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ بیلجیئم کے شہر برسلز میں خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے

خارجہ پالیسی کے چیف جوزپ بورل نے اسرائیل اور فلسطین کے مابین تشدد میں اضافے پر شدید

تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید

کہا کہ امن کے لئے اسرائیل اور فلسطین کو مذاکرات کی طرف جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ

اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں 220 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 63

معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ فضائی حملوں میں 450 عمارتیں کھنڈر بن چکیں جبکہ 52 ہزار فلسطینی

بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو تمام تر انسانی اقدار بالائے طاق رکھتے ہوئے

غزہ پر مزید بمباری کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رہائشی عمارتوں پر اسرائیلی

حملوں کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے عالمی عدالت فوجداری سے اسرائیلی بربریت کی تحقیق

کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ غزہ میں شیلٹر ہومز میں رہنے والوں کا کہنا ہے گذشتہ بیس سال سے ڈر

خوف کے سائے میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں، ان کے بچوں نے صرف بارود اور بمباری ہی

دیکھی ہے۔

جنگ بندی مطالبہ مسترد

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply