khabar i Hai jtnonline 200

جنسی ادویات سے چھٹکارے کی جدید تحقیق

Spread the love

(جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) جنسی ادویات سے چھٹکارا

جنسی بے راہ روی میں یوں تو عہد حاضر میں کونسا معاشرہ ہے جو ملوث نہیں

لیکن خود کو مہذب، ترقی یافتہ اور برتر اقوام کہلوانے کے دعویدار مغربی

معاشروں میں یہ لت کس انتہا کو پہنچ چکی ہے اس کی ایک جھلک اس رپورٹ

میں پیش کی جا رہی ہے تاکہ ہم جنہیں مہذب و برتر سمجھ کر اندھی تقلید میں

لگے ہوئے ہیں اس کو لگام دی جا سکے اور اپنی اقدار و اخلاقیات سے ایسے

گمراہوں کی اصلاح کی سبیل ہو سکے- مزید پڑھیں

امریکی طبی محققین نے اپنی تازہ ترین تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ جنسی عمل کے

دوران ساتھی پارٹنر کی جھوٹی ایکٹنگ سے مرد کو انتہائی تقویٹ ملتی ہے-

محققین کے مطابق انہوں نے 10 جوڑوں پر ریسرچ کی، اس مقصد کیلئے طبی

ماہرین کی ٹیم نے5 ایسے مردوں کا انتخاب کیا جو میل ملاپ سے قبل جنسی

ادویات کا استعمال کرتے تھے- دوسری جانب 5 ایسے مردوں کا انتخاب کیا جو

جنسی ادویات استعمال نہیں کرتے تھے- انکا جنسی عمل کا دورانیہ بھی مختصر

تھا۔ امریکی طبی محققین نے تمام 10 خواتین کو بتایا انہوں نے ملاپ کے دوران

کس طرح جھوٹی ایکٹنگ کا سہارا لے کر کراہنا ہے یہاں تک کہ ان کے پارٹنر

کو ان کی تکلیف پر حقیقت کا گمان گزرے۔

طبی ماہرین نے خواتین کو سختی سے ہدایات کیں کہ وہ اس جھوٹی ایکٹنگ کے

بارے میں اپنے پارٹنر کو آگاہ نہیں کریں گی، کہ انہیں اس کی ہدایات کی گئیں ہیں

جبکہ دوسری جانب مردوں کو بھی جنسی ادویات نہ لینے کی سخت ہدایت کی

گئی، اور اسے اپنے پارٹنر سے مخفی رکھنے کا کہا گیا۔ 4 ماہ سے زائد جاری

تجربوں کی روشنی میں جب نتائج سامنے آئے تو وہ انتہائی دلچسپ تھے۔ نتائج

کے مطابق وہ حضرات جو ادویات استعمال نہیں کرتے تھے اپنی پار ٹنرکے

کراہنے سے ان کے دورانیہ میں نہ صرف بہتری آئی، بلکہ انہیں اپنے نفس میں

بھی سختی کے آثار محسوس ہوئے، وہ مرد حضرات جو جنسی ادویات کا

استعمال کرکے پارٹنر کے پاس جاتے تھے انہیں ساتھی کے کراہنے سے کچھ

دقت کا سامنا کرنا پڑا، یوں انکے جنسی عمل کا دورانیہ بھی بڑھ گیا۔

دوسری جانب جن خواتین نے کراہنے کی ایکٹنگ اس طرح کی کہ حقیقت کا گماں

ہوتا تھا ان کے پارٹنرز میں مزید تشدد کا عنصر ابھر کر سامنے آیا جبکہ دو

خواتین نے انتہائی دلدوز چیخیں ماریں اور حقیقت سے بھی زیادہ تکلیف کا اظہار

کیا ان کے پارٹنر کے نفس میں اتنی ہی سختی آتی گئی اور دورانیہ بھی بڑھ گیا۔

محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ دوران مباشرت خواتین کا کراہنا مرد کے کانوں کو

بھلا معلوم ہوتا ہے اور وہ ساتھی پارٹنر کو مزید اذیت دینے کیلئے زیادہ زور

زبردستی کا اظہار کرتا ہے جس سے ساتھی پارٹنر کی بھی بھرپور تسلی ہوتی

ہے۔

ہماری ذمہ داری

ہمارے معاشروں میں بھی ایسی ہی لت موجود ہے لیکن اس شہوت بازی کی

بدولت ہمارے معاشرے میں جو بگاڑ پیدا ہورہا ہے وہ بھی ہم سب کے سامنے

ہے، جنسی بے راہ روی کی وجہ سے آئے روز کبھی کسی کمسن بچے اور

کبھی کسی کمسن بچی کیساتھ المناک سانحات کی خبریں میڈیا کی زینت بنی ہو ئی

ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود کو سب سے پہلے ایسی خرافات سے

بچائیں اور اپنی نئی نسل کی ایسی پرورش و تربیت کریں کہ انہیں ایسی خرافات

کی ضرورت تو کیا سوچ تک پیدا نہ ہو-

جنسی ادویات سے چھٹکارا

اپنا تبصرہ بھیجیں