0

جموں میں مسلمان کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ،ہزاروں محصور، حریت قیادت سے سکیورٹی واپس

Spread the love

جموں،سرینگر(جے ٹی این آن لائن) مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں غاصب بھارتی فوج پر خودکش حملے کے بعد ہندو انتہا پسند و ں نے پولیس کی سرپرستی میں جموں میں کشمیری مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر املاک نذر آتش کرنے کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رہا ۔

جموں میں مسلسل تیسرے روز بھی حالات انتہائی کشیدہ ہیں اورعلاقے بھٹنڈا میں 2000سے زائد مسلما نو ں نے ہندوانتہا پسندوں کے حملوںسے بچنے کیلئے جامع مسجدمکہ میں پناہ لے رکھی ہے جبکہ حملوں سے بچنے کیلئے مزید لوگ آرہے ہیں۔ان میں جموں میں پھنسے کشمیری مسافراور ضلع جموں کے حساس علاقوں میں رہنے والے مسلمان شامل ہیں

بھا رتی فوج اور انتہا پسند ہندئووں کے بلووں کیخلاف مقبوضہ وادی میں تاجر تنظیموں کی کال پر مکمل شٹرڈائون ہڑتال رہی ، سڑکوں پر سناٹا رہا جبکہ مقبوضہ جموں میں مسلسل تیسرے روز کرفیو بھی نافذ رہا، سڑکوں پر قابض فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار گشت کرتے رہے ہیں۔ ادھر پلوامہ حملے بعد بھارت نے کشمیری حریت رہنمائوں کو دی گئی سکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لیں ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھا رتی وزارت داخلہ نے جن حریت رہنمائوں کی سکیورٹی واپس لینے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے ان میں حریت رہنمامیرواعظ عمرفاروق، عبدل الغنی بھٹ، بلال لون،ہاشم قریشی اورشبیرشاہ اور دیگر شامل ہیں ،

بھارت کے اس اقدام پرحر یت رہنماء میر واعظ عمر فاروق کے ترجمان کا کہنا ہے آل پارٹیز حریت کانفرنس کی قیادت کو کبھی بھی کٹھ پتلی انتظامیہ کی سکیورٹی کی ضرورت نہیں رہی، حریت رہنما پہلے ہی کئی مرتبہ یہ کہہ چکے انہیں ملنے والی سکیورٹی اور گاڑیاں واپس لے لی جائیں۔

Leave a Reply