جعلی اکاؤنٹس کیس، زرداری،فریال،بلاول،اومنی گروپ کی نظر ثانی درخواستیں مسترد ،مراد شاہ کی منظور

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن ) سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاونٹس کیس میں فیصلہ کیخلاف سابق صدر آصف زرداری ، فریال تالپور، بلاول بھٹو،اومنی گروپ کے مالکان کی نظر ثانی درخواستیں مسترد جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں نظرثانی کی درخواست میں دلائل دینے کی اجازت دیدی،

عدالت نے قراردیا کہ نظر ثانی درخواست پر میرٹ پر فیصلہ کریں گے۔ عدالت نے آصف زرداری اور اومنی گروپ کی معاملہ کی سماعت کیلئے لارجر بنچ کی تشکیل کی درخواستیں بھی مسترد کردیں۔

چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس نظر ثانی کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو آصف علی زرداری کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل کے آغاز میں موقف اپنایا فل کورٹ ریفرنس میں آپ نے تاریخی جملے ادا کیے تھے،

چیف جسٹس نے کہا فل کورٹ ریفرنس کی تقریرعدالتی مثال نہیں ہوتی اوریہ مقدمے کی دوبارہ سماعت یا اپیل کی سماعت نہیں ۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا فیصلہ میں کیا غلطی ہے براہ راست اسکی نشاندہی کریں اور نظر ثانی کا دائرہ ذہن میں رکھیں۔

چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے قانونی نکات دیں، جائزہ لیں گے نکات نظرثانی کے دائرہ کار میں آتے ہیں یا نہیں، لطیف کھوسہ نے کہا عام مقدمات میں سائلین کو قانونی راستہ کے تمام حق حاصل۔ہو تے ہیں،

اسلامی قانون میں بھی اپیل کا حق ہو تا ہے اس لئے عدالت آرٹیکل 184/3 کے اطلاق پیرا میٹر ز کا جائزہ لے،

چیف جسٹس نے کہا عدالت کے سامنے ایک معاملہ آیا جو متعلقہ فورم کو بھجوا دیا گیا، عدالت نے اب کیا کر دیا جو آپ اپیل کا حق مانگ رہے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا یہ معاملہ نیب کو بھجوا دیا گیا ہے، نیب ریفرنس بنتا ہے تو ٹھیک نہیں بنتا تو بھی ٹھیک۔ ۔لطیف کھوسہ نے کہا رولز میں ترمیم کرکے سوموٹو اختیار میں انٹرا کورٹ اپیل دی جائے،

چیف جسٹس نے کہا عدالت کے علم میں معاملہ آنے پر افسران سے تحقیقات کروائی گئی جعلی اکاونٹس کیس میں عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں دیا،

لطیف کھوسہ نے کہا عدالت نے تمام مقدمات اسلام آباد منتقلی کا حکم دیا تھا، اس پر چیف جسٹس نے کہا تحقیقاتی افسران بھی سیکیورٹی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں عدالت نے بلا وجہ یا بغیر کسی پس منظر کوئی حکم نہیں دیا.

چیف جسٹس نے کہا کیس کراچی سے راولپنڈی منتقلی کے بعد بھی اپ کے پاس متعلقہ فورم موجود ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا اس معاملہ میں قلفی والے اکاوئنٹ سے اربوں روپیے نکلے۔ آپکو جے آئی ٹی بننے پر اعتراض ہے، حالانکہ جے آئی ٹی کی تشکیل کے وقت جے آئی ٹی پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔

لطیف کھوسہ نے کہا یہ نیب کا دائرہ اختیار ہی نہیں بنتا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا بتائیں نیب کا دائرہ کیسے نہیں بنتا۔ لطیف کھوسہ نے کہاکہ تحقیقات متعلقہ ادارے سے ہی کرائی جائیں، قانون اپنا راستہ خود بنائے گا،

چیف جسٹس نے کہا پریشان نہ ہوں قانون راستہ خود بنائیگا، عدالتی فیصلے میں ہر حکم کی وجوہات موجود ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا ایف آئی اے نااہل ہے تو اسکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے،

Leave a Reply