176

جس کے نام کچھ نہیں وہ گرفتار،لاہور ئیکورٹ سے فواد حسن فواد کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

Spread the love

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہورہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق عباسی اور جسٹس

مشتاق احمد چودھری پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے

سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی آمدنی سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس

میں بھی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ایک ایک کروڑ روپے کے دو ضمانتی

مچلکوں کے عوض رہا کرنے کاحکم دیدیا۔لاہورہائی کورٹ کاایک دوسرا ڈویژن

بنچ جسٹس ملک شہزاد احمد خان اورجسٹس مرزاوقاص رئوف14فروری 2019ء

کو پہلے ہی ان کی آشیانہ اقبال ریفرنس میں ضمانت منظور کرچکاہے ۔ نیب نے

فواد حسن فواد کو جولائی 2018ء میں آشیانہ اقبال ہائوسنگ سکیم میں مبینہ کرپشن

کے الزام میں گرفتارکیا تھا،اسی دوران انہیںآمدنی سے زائد اثاثہ جات کیس میںبھی

گرفتا ر کر لیاگیا،فاضل بنچ نے فواد حسن فواد کوضمانت پر رہاکرنے کا حکم دیا

تو کمرہ عدالت میں موجود فواد حسن فواد کی اہلیہ ،بیٹی اور بیٹا آبدیدہ ہو

گئے،فاضل بنچ نے دوران سماعت قراردیا زیرتفتیش اثاثوں میں سے فواد حسن

فوادکے نام کوئی جائیدادنہیں ،جس کے نام کچھ بھی نہیں اسے گرفتار کیا ہوا

ہے،جن کے نام سب کچھ ہے وہ گرفتارہی نہیں ہیں،اگر ملزم نے ہی اپنے اثاثوں

کے بارے میں بتانا ہے تو پھر نیب کس مرض کی دوا ہے ،یہ کیس مزید تفتیش کا

متقاضی ہے اسلئے فواد حسن فواد کی درخواست ضمانت منظور کی جارہی ہے ۔

فاضل بنچ نے فواد حسن فواد کے وکلاء کے اس موقف سے بھی اتفاق کیا کہ نیب

کے کیس میں تضاد ہے ، پہلے 5ارب روپے مالیت کے اثاثے بتائے گئے جبکہ

ریفرنس میں ایک ارب 8کروڑ رو پے کے اثاثوں کا ذکر کیا گیاہے ،کیس کی

سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا فواد حسن فواد کاراولپنڈی میں

پلازہ ہے جو ایس ایس آر ایل کمپنی کے نام پر ہے ،جس کمپنی کے نام سب کچھ

ہے اس کے اکاؤنٹس میں کچھ بھی نہیں،اس پر جسٹس محمدطارق عباسی نے کہاتو

پھر یہ کیسے پتہ چلا یہ فواد حسن فواد کے اکاؤنٹس ہیں؟فواد حسن فواد کا موٹر

وے سٹی، کشمیر روڈ پر پلازہ میںکتنا حصہ ہے ،پراسیکیوٹر نیب نے کہا یہ تو

ملزم پارٹی ہی بتائے گی، جس پر فاضل بنچ نے کہا کہ وہ کیوں بتائیں گے، آپ کس

مرض کی دوا ہیں،آپ کو تیاری کیساتھ آنا چاہیے تھا اور اگر آپ تیار نہیں تھے تو

وقت مانگ لیتے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا موٹروے سٹی ہائوسنگ سوسائٹی میں

علیحدہ انکوائری کر رہے ہیں، فواد حسن فواد کے وکیل نے کہاریفرنس آنے کے

بعد نیب کی اپنی تحقیقات میں فرق آ گیا ہے، موٹر وے سٹی ہائوسنگ سوسائٹی اور

5 ارب روپے کے پلازے کی ملکیت کا الزام لگایا گیا تھا،جب ریفرنس آیا تو اس

کی قیمت کا اندازہ ایک ارب روپے لگایا گیا ، ریفرنس آنے سے پہلے فواد حسن

فواد پر 5 ارب سے زائد کے اثاثوں کا الزام لگایا تھا اور اب ریفرنس میں صرف

ایک ارب 8 کروڑ کا ذکر کیا گیا ، فاضل بنچ نے استفسار کیا کون سے اثاثے ملزم

کے نام پر ہیں؟اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا یہی تو ہمارا کیس ہے ملزم کے نام

پر کوئی اثاثے نہیں ،اس نے اپنے خاندان کے دیگر ا فر ا د کے نام پر اثاثے

بنائے،عدالت نے پوچھا نیب نے فواد حسن فواد کی اہلیہ کو شامل تفتیش کیا؟

پراسیکیوٹر نیب نے کہا فواد حسن فواد کی اہلیہ رباب حسن کہتی ہیں وہ گھریلو

خاتون ہیں، عد ا لت نے پوچھا ان کے بھائی وقار حسن کے نام پر کوئی اثاثے ہیں؟

نیب پراسیکیوٹر نے کہا یہ اثاثے کمپنی کے نام پر ہیں، ایس ایس آر ایل راولپنڈی

کے نام پر پلازہ ہے، یہ کمپنی امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر علی جہانگیر

صدیقی کیساتھ مل کربنائی گئی ،فہمیدہ یعقوب کمپنی میں رباب حسن، وقار حسن

ڈائریکٹرز تھے،عدالت نے پوچھا وقار حسن نے شامل تفتیش ہونے کے بعد کیا کہا؟

آپ نے جائیداد خریدنے والوں کو شامل تفتیش کیا؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا احسان

اللہ کوشامل تفتیش کیا ،جس نے راولپنڈی میں پلازہ تعمیر کیا، احسان اللہ نے اپنے

بیان نے کہا فواد حسن فواد نے اس کی خدمات حاصل کیں، عدالت نے پوچھا

ادائیگیاں کس نے کیں؟فواد حسن فواد کے نام کتنے اثاثے ہیں؟ امجد پرویز ملک

ایڈو وکیٹ نے کہافواد حسن فواد کے نام پر کوئی اثاثے نہیں ، عدالت نے پوچھا کیا

فواد حسن فواد کے اہلخانہ کی ضمانت ہو چکی ہے؟ ملزم کے وکیل نے کہا فواد

حسن فواد کے اہلخانہ کو ملزم بنایا گیا مگر گرفتار نہیں کیاگیا، عدالت نے فواد

حسن فواد کے وکلاء سے کہا آپ کا موقف ہے کہ آپ کے کلائنٹ نے ریٹائر منٹ

کی کچھ دستاویزات پر دستخط کرنے ہیں، فواد حسن فواد کے وکیل اعظم نذیرتارڑ

نے کہا ہمارا نکتہ ٹرائل میں تاخیر کابھی ہے ،یہ آمدنی سے زائد اثاثوں کا کیس ہے

اور ہم نے جائیداد کی قیمت کے تعین کو بھی چیلنج کیا ہوا ہے، عدالت نے کہا آپ

سپریم کورٹ بھی گئے تھے وہاں سے درخواست خارج ہوچکی ہے ،سپریم کورٹ

کا آرڈر کہاں ہے ؟اعظم نذیر تارڑ نے کہا سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد ہی

ضمانت کی کھڑکی کھلی ہے، فواد حسن فواد کے وکلاء نے کہا نیب ترمیمی

آرڈیننس کے بعد تو فواد حسن فواد کیخلاف کیس ہی نہیں بنتا جس پر عدالت نے کہا

آپ نیب ترمیمی آرڈیننس کو فائل پر لائیں،فواد حسن فواد کے وکلاء نے کہا

لاہورہائیکورٹ میں گزشتہ برس جب درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی تو نیب

کی طرف سے 14 اکائونٹس کا ذکر کیا گیاتھا،ریفرنس آنے کے بعد سپریم کورٹ

میں اکائونٹس کی تفصیلات پیش کی گئیںتو عدالت نے نئی دستاویزات تسلیم نہ کیں

اور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی، سپریم کورٹ نے دوبار درخواست

ضمانت دائر کرنے کی آبزرویشن دی، جسٹس محمدطارق عباسی نے نیب

پراسکیوٹر سے استفسار کیا آپ نے گرفتاری کی وجوہات میں 14 اکائونٹس لکھے

تھے؟ پراسیکیوٹر نے کہا اس بنیاد پرسپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

کرنے کا حکم نہیں دیاتھا،فواد حسن فواد کی طرف سے مزید موقف اختیار کیا گیا

کہ نیب کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جس

پلازہ کی ملکیت کا الزام عائد کیا گیا اس سے ان کاکوئی تعلق نہیں، سرکاری

رہائشگاہ کے علاوہ آج تک ذاتی گھر تک نہیں خریدا، ڈیڑھ سال سے بغیر کسی

جرم کے جیل میں قید ہو ں، صحت بھی سخت خراب ہے ، فاضل بنچ نے فریقین کا

موقف سننے کے بعد فواد حسن فواد کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے

انہیں ایک ایک کروڑ روپے کے دو مچلکوں کے عوض رہا کرنے کاحکم دیدیا۔

یادرہے فواد حسن فواد سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے سیکرٹری (عملدرآمد)

اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بھی پرنسپل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔

Leave a Reply