55

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس پر نئے اٹارنی جنرل کا حکومت کی وکالت سے انکار

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )نئے اٹارنی جنرل آف پاکستان بیرسٹر خالد جاوید خان

نے جسٹس قاضی فائز عیسی ٰکے خلاف حکومتی ریفرنس حکومت کی طرف سے

پیش ہونے سے معذرت کر لی ہے ۔حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنی مرضی کے

دلائل دینے پر سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان سے استعفیٰ طلب کر لیا تھا۔

انور منصور خان کی جگہ حکومت نے بیرسٹر خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل

تعینات کیا جس کی تین روز قبل صدر مملکت نے منظوری بھی دیدی تھی۔ گزشتہ

روز جب سپریم کورٹ میں اس ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی

درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو اٹٹارنی جنرل نے کہا میں اس کیس میں نہ

حکومت کی نمائندگی کرونگا اور نہ ہی دلائل دونگا ۔اٹارنی جنرل کا مؤقف ہے کہ

اس کیس میں مفادات کا ٹکراو ہے، حکومت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مقدمے

میں وکیل مقررکرنے کی درخواست دی ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ اس

درخواست کو قبول کیا جائے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس کے دوران

سورہ الحجرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سورہ الحجرات میں ہے کہ گمان نہ

کرو یہ گناہ ہے، سورہ الحجرات میں یہ بھی ہے کہ جاسوسی نہ کرو یہ بھی گناہ

ہے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اخباروں میں خبر پڑھ کر دکھ ہوا، میں نے

کچھ غلط نہیں کہا تھا بس میری آواز اونچی تھی۔گزشتہ سماعت پر اونچا بولنے پر

معذرت کرتے ہوئے جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے علم ہوا

کہ میں نے بلند آواز میں بات کی، وکلاء سمیت تمام افراد سے معذرت خواہ ہوں،

جو ہوا اسے بھول جائیں اور آگے بڑھیں۔انہوں نے عدالت میں سورہ آل عمران کا

بھی حوالہ دیا اور کہا کہ عدلیہ کو تنقید برداشت کرنی پڑتی ہے، ہم اپنے فیصلوں

میں بولتے ہیں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد

ساقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی آپ کی درخواست پر نمبر نہیں لگا جس

پر عابد ساقی نے کہا کہ ہمارا اس معاملے میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔اٹارنی

جنرل خالد جاوید خان نے عدالت میں کہا کہ عدلیہ کی آزادی میرے لیے مقدم ہے،

عدلیہ کی آزادی سے متعلق کوئی گمان ہوا تو آپ مجھے یہاں نہیں دیکھیں گے۔

بیرسٹر خالد جاوید خان نے کہا کہ میں بطور اٹارنی جنرل عدلیہ کی آزادی کے

لیے کام کروں گا، اگر ذرا بھی گمان ہوا کہ عدلیہ کی آزادی کے خلاف کارروائی

کی جا رہی ہے تو مستعفی ہو جاؤں گا۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ پچھلی

سماعت پر جو کچھ ہوا ہم اسے قبول نہیں کر سکتے تھے، اْس سماعت کے بعد کا

نتیجہ آ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوشش کریں کہ دلائل کے دوران کسی فریق کی

تضحیک نہ ہو، قرآن پاک بھی غصے پر قابو پانے کا حکم دیتا ہے۔وزیر قانون

فروغ نسیم نے کہا کہ اس درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، مجھے دلائل کی

اجازت دی جائے، اگر عدالت بہتر سمجھے تو حکومت کی نمائندگی بھی کر سکتا

ہوں۔پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین عابد ساقی نے فروغ نسیم کو دلائل دینے

کی مخالفت کر دی۔جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ آپ بطور وزیر قانون دلائل

نہیں دے سکتے، آپ کو پہلے استعفیٰ دینا ہو گا۔فروغ نسیم نے کہا کہ میرے خلاف

جو درخواست آئی ہے اس پر دلائل دے سکتا ہوں جس پر عدالت نے فروغ نسیم

کے خلاف دائر درخواست پر انہیں ذاتی حیثیت میں دلائل دینے کی اجازت دے دی۔

سپریم کورٹ نے توہین عدالت اور ججز کی جاسوسی سے متعلق پاکستان بار

کونسل کی درخواست کو نمبر لگانے کا حکم دے دیا جب کہ جسٹس قاضی فائز

عیسیٰ کی جانب سے دائر ریفرنس کی مزید سماعت 30 مارچ تک ملتوی کر دی۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ فروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی

درخواست بھی 30 مارچ کو سنیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے وفاقی وزیر قانون فروغ

نسیم اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کے خلاف توہین عدالت کی

کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے ججز کی جاسوسی

سے متعلق پاکستان بار کونسل کی درخواست کو نمبر لگانے کا حکم دے دیا ہے۔

Leave a Reply