0

جسٹس آصف سعید کھوسہ کل چیف جسٹس پاکستان کے عہدہ کا حلف اٹھائیں گے

Spread the love

مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ آج چیف جسٹس پاکستان کے عہدہ کا حلف اٹھائیں گے،وہ سپریم کورٹ کے 26ویں چیف جسٹس ہوں گے ۔مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ 21دسمبر1954ء کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے ،ان کے والد فیض محمد کھوسہ سپریم کورٹ کے وکیل اور تحریک پاکستان کے کارکن رہے ۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کے سسر جسٹس (ر) نسیم حسن شاہ مرحوم بھی 1993ء سے 1994ء تک چیف جسٹس پاکستان رہ چکے ہیں۔ملکی عدالتی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ سسر کے بعد داماد کوچیف جسٹس پاکستان کا عہدہ سنبھالنے کا موقع مل رہاہے ۔دلچسپ اتفاق ہے کہ ان کے سسر مسٹر جسٹس نسیم حسن شاہ بھی11ماہ چند دن چیف جسٹس پاکستان رہے ،وہ 17اپریل1993ء سے 14اپریل1994ء تک 11ماہ 27دن چیف جسٹس پاکستان رہے جبکہ مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ 20دسمبر2019ء کو اپنے عہدہ سے ریٹائر ہوں گے یوں وہ 11ماہ3دن تک چیف جسٹس پاکستان رہیں گے ۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کے ایک بھائی ناصر محمود کھوسہ چیف سیکرٹری پنجاب اور دوسرے بھائی طارق مسعود کھوسہ کا پولیس سروس سے تعلق تھا،وہ ڈی جی ایف آئی اے اوروفاقی سیکرٹری انسدادمنشیات کے عہدہ سے ریٹائرہوئے ۔انہوں نے 1969ء میں ملتان تعلیمی بورڈ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بورڈ میں پانچویں پوزیشن لے کر نیشنل ٹیلنٹ سکالر شپ کے حق دار ٹھہرے،انہوںنے انٹرمیڈیٹ اوربی اے کے امتحانات گورنمنٹ کالج لاہور سے پاس کئے اور دونوں امتحانات میں لاہور بورڈ اور پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے ۔انہوں نے 1975ء میں پنجاب یونیورسٹی سے انگلش لینگویج اورلٹریچر میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ،انہوں نے کوئنز کالج کیمرج یونیورسٹی سے قانون اور لنکنزان سے بارایٹ لاء کے امتحانات پاس کئے ۔وہ 21مئی 1998ء کو لاہور ہائی کورٹ کے جج مقررہوئے ،وہ اس وقت لاہور ہائی کورٹ کے کم عمر ترین جج تھے ،نومبر 2007ء میں انہوں نے پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تاہم وکلاء تحریک کے نتیجہ میں وہ18اگست2008ء کو اپنے عہدہ پر بحال ہوئے۔18فروری2010ء کو انہوںنے سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا،ان کا شمار انتہائی تیز رفتاری سے مقدمات نمٹانے والے ججوں میں ہوتا ہے ،وہ سوئس اکائونٹس کیس میں اس وقت کے وزراء اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویزاشرف کے خلاف سماعت کرنے والے بنچ کا حصہ رہے ، وہ پاناما کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کے سربراہ تھے ،ان بنچوں کے فیصلوں کے نتیجہ میں یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف نااہل ہوکر گھر گئے ۔فوجی عدالتوں کے کیس میں انہوں نے قراردیا کہ پارلیمنٹ کو کسی بھی قسم کی آئینی ترمیم کا اختیارحاصل ہے ، وہ اس بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے آئین کے آرٹیکل 62(1)ایف کی تشریح کرتے ہوئے قراردیاتھا کہ اس آرٹیکل کے تحت نااہلی تاحیات ہے ۔مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ توہین رسالت کیس میں آسیہ مسیح کو بری کرنے والے بنچ کا بھی حصہ تھے ، سپریم کورٹ کے 3رکنی بنچ کے سربراہ کی حیثیت سے 7اکتوبر 2015ء کوممتازقادری کی اپیل مسترد کرنے کافیصلہ بھی انہوںنے ہی تحریرکیاتھا۔

Leave a Reply