جرمن حکام کمیونسٹ پارٹیوں

جرمن حکام نے کمیونسٹ پارٹیوں کو عام انتخابات سے باہر کر دیا

Spread the love

جرمن حکام کمیونسٹ پارٹیوں

برلن (جے ٹی این آن لائن نیوز) جرمن حکام نے کمیونسٹ پارٹیوں کو عام انتخابات سے باہر کر

دیا،میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن وفاقی الیکشن کمیٹی کی میٹنگ برلن میں شروع ہوئی۔ کمیٹی کو یہ

فیصلہ کرنا ہے کہ جرمن وفاقی پارلیمان کے لیے آئندہ ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں کن چھوٹی

جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔جرمن حکام ان 87 سیاسی گروپوں کی طرف سے جمع

کرائی گئی درخواستوں پر غور کر رہے ہیں جو ملکی پارلیمان، بنڈس ٹاگ، کے لیے ستمبر میں ہونے

والے انتخابات میں قسمت آزمانا چاہتے ہیں۔کمیٹی میں ایک چیئرمین، جرمنی کی اہم سیاسی جماعتوں

سے تعلق رکھنے والے آٹھ سیاست داں اور دو چوٹی کے جج شامل ہیں۔جن گروپوں یا جماعتوں کے

بنڈس ٹاگ میں پہلے سے ہی کم از کم پانچ سیٹیں حاصل ہیں انہیں اس عمل سے مستشنی رکھا گیا ہے۔

جرمنی میں ہر اہم انتخاب سے قبل الیکشن میں حصہ لینے کے لیے سیاسی گروپوں کے حوالے سے

فیصلہ کیا جا تا ہے۔چونکہ اس سال جرمن چانسلر میرکل اپنے عہدے سے دست بردار ہو رہی ہیں اس

لیے آئندہ 26 ستمبر کو عام انتخابات ہونے والے ہیں۔کمیٹی نے کئی پارٹیوں کواس برس کے انتخابی

عمل میں حصہ لینے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔جن جماعتوں کو خارج کر دیا گیا ان میں

جرمن کمیونسٹ پارٹی شامل ہے۔ جسے جرمن مخفف ڈی کے پی کے نام سے جانا جاتا ہے۔سن 2017

کے الیکشن میں ڈی کے پی نے ملک بھر میں مجموعی طورپر تقریبا 11500ووٹ حاصل کیے تھے

جو ایک سیٹ بھی حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔ مارکسسٹ لیننسٹ پارٹی آف جرمنی (ایم ایل

ڈی پی)اس سے زیادہ کامیاب رہی تھی۔ اس نے تقریبا تیس ہزار ووٹ حاصل کیے تھے لیکن وہ بھی

پارلیمنٹ میں پہنچنے سے کوسوں دور رہ گئی تھی۔ جرمن سوشلسٹوں کے ووٹ زیادہ اعتدال پسند

بائیں بازوں کی پارٹی(ڈائی لنکے)کو ملے تھے۔ اس نے سن 2017 میں مجموعی ووٹوں کا 9.2 فیصد

حاصل کیا تھا۔جرمن الیکشن افسران کا کہنا تھا کہ ڈی کے پی ضروری دستاویزات وقت پر جمع

کرانے میں ناکام رہی۔ وفاقی الیکشن کمشنر اور کمیٹی کے چیئرمین جارج تھائیل کا کہنا تھاکہ ڈیڈ لائن

تو ڈیڈلائن ہے۔تاہم اس طرح کے فیصلوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے امکانات بہر حال برقرار

رہتے ہیں۔ڈی کے پی کے چیئرمین پیٹرک کوبیل نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا

منصوبہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ (الیکشن سے)روکنے کی یہ کوشش ناکام

ہوجائے گی۔ایک اور سیاسی جماعت جو آئندہ الیکشن میں حصہ لینے میں ناکام قرار دی گئی، وہ ہے

انارکسٹک پوگو پارٹی آ ف جرمنی یا اے اے پی ڈی۔ اس نے 1998کے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور

ووٹروں کو مفت میں بیئردینے کا وعدہ کیا تھا۔الیکشن حکام نے اے اے پی ڈی کی درخواست یہ کہتے

ہوئے مسترد کردی کہ اس نے اپنی درخواست صرف الیکٹرانک شکل میں جمع کرائی تھی۔ساوتھ

شیلس وگ ووٹرز ایسوسی ایشن یا ایس ایس ڈبلیو بہر حال زیادہ خوش قسمت رہی۔ایس ایس ڈبلیو شمالی

جرمنی کے شیلس وگ میں رہنے والے ڈینش بولنے والی اقلیتی طبقے کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ

علاقہ ڈنمارک کے سرحد کے قریب واقع ہے۔الیکشن کمیٹی کی طرف سے کسی جماعت کو منظوری

مل جانے کے بعد ستمبر میں بیلٹ پیپر پر اپنی جگہ بنانا ایک اور دشوار کن مرحلہ ہوتا ہے۔جرمنی

میں کسی بھی جماعت کو ریاستی انتخابی فہرستوں میں خود کو شامل کرانے کے لیے کم از کم پانچ

سو حامیوں کے دستخط کی ضرورت ہوتی ہے۔

جرمن حکام کمیونسٹ پارٹیوں

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply