صوابی، انسداد دہشتگردی جج آفتاب آفریدی اہلیہ، بیٹی، نواسے سمیت قتل

صوابی، انسداد دہشتگردی جج آفتاب آفریدی اہلیہ، بیٹی، نواسے سمیت قتل

Spread the love

پشاور(جے ٹی این آن لائن سٹاف رپورٹر عمران رشید سے) جج آفتاب آفریدی قتل

پشاور موٹروے پر ملزمان نے فائرنگ کرکے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج

جسٹس آفتاب آفریدی کو اہلیہ، بیٹی اور شیرخوار نواسے سمیت قتل کردیا۔ تفصیلات

کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تعینات جج جسٹس آفتاب آفریدی اپنے

اہلخانہ کے ہمراہ اسلام آباد سے پشاور جا رہے تھے۔ صوابی انٹرچینج دریائے

سندھ پل کے قریب پہلے سے ہی گھات لگائے نامعلوم ملزمان نے انکی گاڑی پر

فائرنگ کر دی اور فرار ہو گئے۔ فائرنگ کے سبب جسٹس آفتاب، انکی اہلیہ بی بی

زینب، بیٹی کرن اور اسکا 3 سالہ بیٹا محمد سنان جاں بحق جبکہ ڈرائیور اور گن

مین شدید زخمی ہو گئے، تمام زخمیوں اور لاشوں کو باچا خان میڈیکل ہسپتال شاہ

منصور بعدازاں پشاور منتقل کردیا گیا۔

=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صوابی محمد شعیب کے مطابق اے ٹی ایس کی نفری طلب

کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا، دریں اثناء آفتاب

آفریدی اور ان کے اہل خانہ پے حملے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، ضلعی پولیس

افسر کے مطابق آفتاب آفریدی کے لواحقین نے پانچ نامزد ملزمان کیخلاف مقدمہ

درج کرایا ہے، ڈی پی او کا کہنا تھا آفتاب آفریدی پر حملے مین ان کے مخالفین

ملوث ہو سکتے ہیں کیونکہ آفتاب آفریدی کی دشمنی تھی اس دشمنی میں پہلے بھی

کئی افراد جان بحق ہوچکے ہیں، واقعے میں دو پولیس اہلکار اور ایک محافظ بھی

زخمی ہوئے۔ تفصیل بتاتے ہوئے انکا کہنا تھا واقعہ انبار انٹرچینج سے دس کلو

میٹر آگے پیش آیا، موٹر وے کی میں لائن پر دوسری جانب کی لائن سے گاڑی پر

حملہ کیا گیا۔

=-= خیبر پختونخوا کی مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

مقتول جج آفتاب آفریدی کا تعلق خیبر پختونخوا میں ضم ہو جانیوالے قبائلی علاقے

ضلع خیبر کے علاقہ برقمبر خیل سے تھا۔ انھیں رواں برس فروری میں ضلع

سوات میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ

چیئرمین لیبر کورٹ تھے۔ جج آفتاب آفریدی کے عزیز لطیف آفریدی کے مطابق

ڈیڑھ مہینے پہلے سوات آئے تھے۔ لیبر کورٹ کے چیئرمین سے ہٹا کر وہ اے ٹی

سی کورٹ میں لگائے گئے۔ بظاہر ایسا کوئی حساس نوعیت کا مقدمہ نہیں جس کی

وہ سماعت کر رہے ہوں یا فیصلہ نہیں جو انھوں نے حال ہی میں سنایا ہو، لیکن

جس انداز میں انکو اور ان کے اہل خانہ کو قتل کیا گیا ہے اس میں اب دیکھا جائے

گا کہ اس کی تفتیش سے کیا سامنے آتا ہے۔

=قارئین=اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی

گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیتے ہوئے جج اور انکے

اہلخانہ کی شہادت پر اظہار افسوس کیا۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے

بھی پولیس حکام کو ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ

خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا ظالمانہ فعل ہے، اس بہیمانہ واقعے میں ملوث

عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ انہوں نے واقعے میں قیمتی انسانی

جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا پسماندگان کیلئے صبر و جمیل

کی دعا کی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی جج آفتاب کے قتل کی مذمت کی ہے۔

ان کا کہنا ہے متاثرہ خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور انہیں پورا

انصاف دیا جائیگا۔

جج آفتاب آفریدی قتل

Leave a Reply