اسلام آباد میں جو جتنا پانی استعمال کریگا، اتنی فیس دیگا، وفاقی وزیر شبلی فراز

اسلام آباد میں جو جتنا پانی استعمال کریگا، اتنی فیس دیگا، وفاقی وزیر شبلی فراز

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) جتنا پانی اتنی فیس

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ

ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے اسلام آباد میں پانی کے میٹر لگائے جائیں

گے جو جتنا پانی استعمال کریگا اس کی اتنی فیس ہو گی۔ گزشتہ روز سینیٹ کی

قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا اجلاس شفیق ترین کی سربراہی میں

ہوا۔ جس میں کمیٹی نے سینیٹر ثناء جمالی کو پاکستان حلال اتھارٹی کے بورڈ آف

گورنس کی ممبر بنانے کی توثیق کی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹر

شبلی فراز نے کمیٹی کو بتایا کہ حلال اتھارٹی 2016ء میں بنی تھی مگر صرف

کاغذوں میں تھی اب اس کو فعال کیا ہے اس ادارے کا پاکستان کی برآمدات میں اہم

رول ہو گا۔ دنیا میں جو ٹیکنالوجیز آ رہی ہیں اس کی پہلے سے ہی تیاری کر رہے

ہیں، پی سی آر ڈبلیو آر نے پانی پر ہم نے بہت زیادہ ریسرچ کی ہے، ریسرچ

برائے ریسرچ کی ضرورت نہیں ہے وہ ریسرچ کی جائے جس کا عوام کو فائدہ

بھی ہو۔

=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

آئی بی او کو وزارت میں دفتر کھولنے کا کہا ہے تاکہ پیٹنٹ رجسٹرڈ ہوں۔ ریسرچ

کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں آئی ٹین اسلام آباد میں ایک پائلٹ پراجیکٹ کر رہے

ہیں اور وہ پانی پہنچائیں گے اور میٹر لگائیں گے، پانی کے چارجز ہوں گے تاکہ

لوگ کنٹرولڈ طریقہ سے پانی کا استعمال ہو۔ پاکستان میں سولر لیب بنارہے ہیں

تاکہ غیر معیاری پینل کو روکا جائے۔ این آئی او کو کھڈے لائن لگایا گیا تھا۔

انٹارکٹیکا میں سٹیشن فعال کرنے کی کوشش کررہے ہیں، انٹارکٹیکا کے وسائل ان

کو ملیں گے جن کا وہاں سٹیشن ہوگا۔ سینیٹر افنان اللہ نے کہا انٹارکٹیکا کے سٹیشن

کو فعال کریں۔ چیرمین کمیٹی شفیق ترین نے کہا کہ یہ کمیٹی میں نہیں لا رہا تھا کہ

اس میں کچھ نہیں ہے۔ سیکرٹری وزارت نے کمیٹی کوبتایاکہ کوئلے سے اینٹیں

بنانے کے اوپر کام کر رہے ہیں سندھ کا کوئلہ جو اچھی کوالٹی کا نہیں ہے اس کو

اس طرح استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

=–= معیشت و کاروبار سے متعلق مزید خبریں (=–= پڑھیں =–=)

شبلی فراز نے کہا کہ ریسرچ کرنا ہمارا کام ہے آگے پرائیویٹ سیکٹر اس کو بنائے

گا۔ سیکرٹری نے کمیٹی میں انکشاف کیا کہ پی ایس ڈی پی کا استعمال 8 فیصد تھا

اب 65 فیصد ہو گیا ہے جب میں ڈیڈھ ماہ قبل سیکرٹری بنا تو اس وقت یہ حال تھا

کہ صرف آٹھ فیصد پی ایس ڈی پی خرچ ہوتھا۔ شبلی فراز نے کہا کہ نسٹ میں

ٹیکنالوجی زون بنایا ہے قطر کے تعاون سے سٹارٹ اپس بنارہے ہیں۔ گھر بنا نہیں

ہوتا مگر سامان آجاتا ہے اداروں میں آلات خرید لیے جاتے ہیں مگر اداوں کی اتنی

استعداد کار نہیں ہوتی ہے پتہ نہیں کیوں الات پہلے خریدے جاتے ہیں۔ لیبارٹریوں

کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کررہے ہیں-

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

الیکٹرونک ووٹنگ مشین میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کریں گے یہ دو ماہ کے اندر

بن جائے گی، مقامی سطح پر بنائیں گے تو اس سے سرمائے کی بچت ہو گی۔ یہ

ہمارا فلیگ شپ پراجیکٹ ہو گا۔ شفاف الیکشن کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔ سیمی

کنڈکٹر کی ڈیزائنگ کر رہے ہیں۔ پی سی ایس آئی آر سربراہ نے کمیٹی میں

انکشاف کیا کہ ملک میں غیر معیار سولر پینل پاکستان آگئے تھے اور پاکستان میں

کوئی ٹیسٹنگ اتھارٹی موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے ایک سال کے لیے ان

غیرمعیار ی سولر پینل کوپاکستان میں فروخت کرنے کی اجازت دے دی ۔

جتنا پانی اتنی فیس

Leave a Reply