Jamia al azhar

ہنگامی حالات میں باجماعت نمازیں منسوخ کرنا غیرشرعی نہیں، جامعہ الازہر

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قاہرہ،اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) جامعہ الازہر فتویٰ

کرونا کی وباء کے پیش نظر جامعہ الازہر مصر کی علماء کی سپریم کونسل نے انسانی زندگیوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے باجماعت اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کرنے سے متعلق باضابطہ فتویٰ جاری کر دیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلام آباد میں مصر کے سفیر کے ذریعے شیخ الازہر سے کرونا وباء کے سلسلے میں مذہبی فرائض کی ادائیگی کے حوالے سے رہنمائی کرنے کی درخواست کی تھی-

مزید پڑھیں : کرونا وباء سے مرنیوالے شہید،غسل کفن ضروری نہیں،علماء اسلامک مشن لندن

اس سلسلے میں جامعہ الازہر کے علماء کی سپریم کونسل نے مصدقہ طبی معلومات اور انسانی زندگی کے تحفظ کے عظیم تر مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے باجماعت اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے باضابطہ فتویٰ جاری کر دیا۔ صدر مملکت نے فتویٰ کے اجراء پر شیخ الازہر کا شکریہ بھی ادا کیا۔ فتویٰ میں قرار دیا گیا ہے کہ تمام شواہد واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوامی اجتماعات بشمول با جماعت نماز کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کا باعث بنتے ہیں-

کرونا متعدی جان لیوا بیماری ، اجتماعات انسانی جانوں کیلئے نقصان دہ

مسلمان ممالک میں سرکاری حکام کو باجماعت نماز و جمعہ کی نمازو ں کو منسوخ کرنے کا پورا اختیار ہے۔ اس سلسلہ میں درپیش حالات کو مدنظر رکھا جائے، موذن حضرات کو ” صلوٰة فی بیوتکم“ (گھروں میں نماز ادا کریں) کیساتھ ترمیم شدہ اذان دینی چاہیے جبکہ اہل خانہ اپنے گھروں میں باجماعت نماز کا اہتمام کر سکتے ہیں-

رائج طبی احتیاطی تدابیر، مجاز ریاستی حکام کے حکم کی پیروی ضروری

مسلمانوں کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ بالخصوص بحران کی صورتحال میں طبی احتیاطی تدابیر سے متعلق مجاز ریاستی حکام کے احکامات کی پیروی، اور غیر سرکاری ذرائع سے اطلاعات اور افواہوں پر عمل سے گریز کریں۔ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ وباء سے انسانی زندگیوں کو بچانا اور انہیں تمام خطرات و نقصانات سے محفوظ رکھنا اسلامی قانون کے عظیم مقاصد میں سے ہے، جن کی تکمیل کیلئے علماء سپریم کونسل نے فتویٰ جاری ہے، تاکہ وباء سے نقصان کو کم سے کم کیا جاسکے، تمام عوامی اجتماعات بشمول باجماعت نمازیں اور اجتماع جمعہ پر وائرس کے پھیلاﺅکے خدشہ کے پیش نظر پابندی لگائی جا سکتی ہے، بالخصوص معمر افراد گھروں پر رہیں، رائج طبی رہنما اصولوں پر عمل کریں۔

گھروں میں باجماعت نماز ادا کی جا سکتی ہے، علماء سپریم کونسل

اسلامی قوانین تمام مسلمانوں کی فلاح و حفاظت یقینی بناتے ہیں جیسا کہ دو صحیحین حدیثوں میں بیان کیا گیا ہے، جن میں کہا گیا ہے کہ عبداللہ ابن عباس نے اپنے موذن کو ہدایت کی، کہ وہ اذان میں ترمیم کریں، تاکہ لوگ گھرو ں پر نماز ادا کر سکیں، اور بارش میں مسجد جانے سے اجتناب کریں۔ یہ وباء بارش سے زیادہ خطرناک ہے، اسلئے باجماعت اور جمعہ کی نمازوں پر پابندی کی اجازت ہے۔ مزید برآں ابو داﺅد نے ابن عباس سے روایت ہے کہ پیغمبراسلام حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” بیماری کا خوف باجماعت نماز چھوڑنے کیلئے عذر ہے “۔

فتویٰ دو مستند احادیث مبارکہ کی روشنی، صدر پاکستان کی اپیل پر جاری کیا

اسی طرح عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا پیغمبر اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو مسجد میں نماز ادا کرنے سے منع فرمایا جو دوسرے لوگوں کیلئے ناگوار بدبو کا باعث ہوں تاکہ دوسرے لوگ اس بدبو سے محفوظ رہ سکیں۔ ان شواہد کی بناء پر ہی الازہر کے علماء کی سپریم کونسل نے فتویٰ دیا ہے کہ مسلم ممالک میں باجماعت نماز و جمعہ کی نمازوں کو منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

جامعہ الازہر فتویٰ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply