جارج واشنگٹن یونیورسٹی کیخلاف طلبہ سے امتیازی سلوک پر مقدمہ 0

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کیخلاف طلبہ سے امتیازی سلوک پر مقدمہ

Spread the love

واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن ایجوکیشن نیوز) جارج واشنگٹن یونیورسٹی

امریکہ میں فلسطینیوں کے حقوق کیساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سرگرم کارکنوں

نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی انتظامیہ پر فلسطینی نژاد طلبہ کیخلاف شہری

حقوق میں امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک قانونی مقدمہ دائر کر دیا

گیا ہے۔ یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب یونیورسٹی نے فلسطینی نژاد طلبہ کو

یونیورسٹی کی طرف سے صدمے کے بعد نفسیاتی معاونت کی خدمت حاصل

کرنے کے ان کے حق سے محروم کر دیا گیا-

=–= تعلیم سے متعلق مزید خبریں (=–= پڑھیں =–= )

میڈیارپورٹس کے مطابق جارج واشنگٹن یونیورسٹی انتظامیہ نے القدس اور غزہ

کی پٹی پر حالیہ اسرائیلی جارحیت کے بعد انہیں ادارے میں پڑھانے سے انکار

کر دیا تھا۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی انتظامیہ کو ماضی میں بھی فلسطینیوں

کے ساتھ امتیازی سلوک پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، جب کیمپس پولیس نے ایک

طالب علم کو اپنی یونیورسٹی کے کمرے کی کھڑکی سے فلسطینی پرچم ہٹانے کا

حکم دیا تھا۔ مقدمہ فلسطینی نژاد امریکی ملازم ندا الباشا کی جانب سے دائر کیا

گیا تھا، جو یونیورسٹی میں سائیکولوجیکل سپورٹ سروس میں کام کرتی ہے،

جبکہ فلسطین کی قانونی تنظیم نے مقدمہ مفت دائر کرایا، جسکی نمائندگی اٹارنی

بینجمن ڈگلس نے کی۔

=-= دنیا بھر سے مزید اہم خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

مقدمے میں اس بات کا ثبوت بھی شامل ہے کہ الباشا نے سوشل میڈیا پر ایک

پوسٹ میں یروشلم اور غزہ پر جارحیت کی وجہ سے نفسیاتی مدد کی ضرورت

والے طلبہ سے رابطہ کرنے کے لیے کہا، کیونکہ اس نے متاثرہ افراد کے لیے

مجازی علاج کی جگہ فراہم کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ مئی میں غزہ پر

بمباری کی گئی، لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے اس پر پوسٹ ہٹانے اور تقریب کو

منسوخ کرنے کا حکم دیا۔ سرکاری شکایت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ

کس طرح خدمات اور مدد سے انکار، دوسرے پسماندہ گروہوں کو فراہم کیا جاتا

ہے- کولمبیا کے ڈسٹرکٹ میں انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی ، جارج واشنگٹن یونیورسٹی

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply