جارج فلائیڈ کی ہلاکت

امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت سانس گھٹنے سے ہوئی، ماہرین

Spread the love

جارج فلائیڈ کی ہلاکت

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن نیوز) امریکہ میں گزشتہ سال مئی میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی

ہلاکت میں نامزد پولیس افسر ڈیرک شاوین کے خلاف مقدمے کی کارروائی میںایک سابق فورینزک

پیتھالوجسٹ ڈاکٹر لنزے تھامس نے امریکی عدالت میں اپنی گواہی میں کہا ہے کہ جارج فلائیڈ کی

ہلاکت پولیس آفیسر کی جانب سے گردن پر مسلسل گھٹنا رکھنے سے ہوئی، جس سے فلائیڈ کو

آکسیجن مکمل طور پر نہیں مل رہی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق 2017 میں منی آپلس شہر کے ہینی

پن میڈیکل ایگزامنر کے آفس سے ریٹائر ہونے والی لنزے تھامس نے گواہی دینے والے دیگر ماہرین

کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کیس کے وکلا دفاع کے اس نظریے کو رد کیا کہ فلائیڈ کی ہلاکت

منشیات کے استعمال اور صحت کے دیگر مسائل کی وجہ سے ہوئی۔لنزے تھامس نے فلائیڈ کے کیس

پر کام نہیں کیا مگر انہوں نے ہینی پین کانٹی کے میڈیکل ایگزامنر اینڈریو بیکر کی اس بات سے اتفاق

کیا کہ فلائیڈ کی موت حرکت قلب بند ہونے کے باعث ہوئی جس کی وجہ قانون نافذ کرنے والے

اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے ان کی گردن پر مسلسل دبا ئوتھی۔انہوں نے کہا کہ ایسی صورت

میں ہلاکت کی ابتدائی وجہ سانس گھٹنا یا کم مقدار میں آکسیجن مہیا ہونا ہے۔ان کے بقول ایسی صورت

میں ہونے والی موت میں دل اور پھیپھڑے کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ قانون

نافذ کرنے والوں کی جانب سے حراست میں لینے اور مسلسل جسمانی دبا میں رکھنے سے ہوا۔لنزے

کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر وہ اس نتیجے پر جارج فلائیڈ کی حراست کی ویڈیو دیکھ کر پہنچی تھیں۔

ان کے بقول یہ ایسی جسمانی حالت تھی جس میں وہ ٹھیک سے سانس نہیں لے سکتے تھے۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply