ishfaq ahmad

جابر پٹھان کا انگریزی میں اردو پڑھنے والا شفیق و نفیس فرزند اشفاق احمد

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(جے ٹی این آن لائن خصوصی فیچر ) جابر پٹھان اشفاق احمد

وطن عزیز پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے مشہور و معروف افسانہ

نگار، ڈرامہ نویس، ناول نگار، نثر نگار مترجم اور براڈ کاسٹر اشفاق احمد اگر آج

ہم میں زندہ ہوتے تو ہم ان کا 95 واں یوم پیدائش منارہے ہوتے، آپ ہندوستان کے

شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں خان پور میں ڈاکٹر محمد خان کے

گھر 22 اگست 1925ء کو بروز پیر پیدا ہوئے، اشفاق احمد ایک کھاتے پیتے

پٹھان گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے والد ایک قابل محنتی اور جابر

پٹھان تھے۔ جن کی مرضی کیخلاف گھر میں پتا بھی نہیں ہل سکتا تھا۔ گھر کا

ماحول روایتی تھا۔ بندشیں ہی بندشیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں : معروف ڈرامہ نویس اور ادیب فاطمہ ثریا بجیا
……………………………………………………………………….

بقول اے حمید صاحب اشفاق احمد کی پیدائش کے بعد اُن کے والد ڈاکٹر محمد

خان کا تبادلہ خان پور (انڈیا) سے فیروز پور ہو گیا۔ اشفاق احمد نے اپنی تعلیمی

زندگی کا آغاز اسی گائوں فیروز پورسے کیا اور فیروز پور کے ایک قصبہ

مکستر سے میٹرک کا امتحان پاس کیا-

گورنمنٹ کالج لاہور شعبہ اردو میں داخلہ لیا انگریزی کے استاد اردو پڑھاتے
———————————————————————————-

قیام پاکستان کے بعد اشفاق احمد اپنے خاندان کے ہمراہ فیروز پور ( بھارت )

سے ہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔ جہاں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور کے

شعبہ اردو میں داخلہ لیا۔ جہاں کل چھ طلباء و طالبات زیر تعلیم تھے۔ کالج میں

انگریزی کے اساتذہ اردو پڑھایا کرتے تھے۔ کتابیں بھی انگریزی میں تھیں-

بانو قدسیہ کی اہلیت و قابلیت نے مقابلے کی فضا بنائی اور اردو پر چھا گئے

اُس زمانے میں بانو قدسیہ ( اہلیہ اشفاق احمد ) نے بھی ایم اے اردو میں داخلہ

لیا۔ جب بانو نے پہلے سال پہلی پوزیشن حاصل کی تو اشفاق احمد کے لیے

مقابلے کا ایک خوشگوار ماحول پیدا ہوا۔ انھوں نے بھی پڑھائی پر توجہ مرکوز

کر لی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سالِ آخر میں اشفاق احمد اوّل نمبر پر رہے۔

جبکہ بانو قدسیہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی- یہ وہ دور تھا جب اورینٹل

کالج پنجاب یونیورسٹی میں اردو کی کلاسیں ابھی شروع نہیں ہوئی تھیں۔

بطور اردو لیکچرار دو سال تک کام کیا، دو سال مدیر ہفت روزہ لیل و نہار رہے
——————————————————————————————–

ديال سنگھ کالج لاہور میں بطور اردو لیکچرار دو سال تک کام کیا اور بعد میں روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہو گئے۔ وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر رہے
——————————————————————

1967ء میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہو گیا۔ وہ 1989ء تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وہ صدر جنرل ضیاء الحق کے دور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گئے۔

افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا

1953ء میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔

اشفاق احمد کے قلم سے لکھا ہر ایک الفاظ اپنی کہانی خود بیان کرتا ہے
————————————————————————

اشفاق احمد نے ناصرف حالات حاضرہ کو اپنا موضوع بنایا بلکہ محبت کے چھبتے پہلو اور صنف نازک کی خواہشات پر بھی بے شمار افسانے اور ڈرامے تحریر کیے۔ جن میں ایک محبت سو افسانے، اجلے پھو ل، سفر مینا، پھلکاری اور سبحان نمایاں ہیں ۔ اشفاق احمد داستان گو اور لیل و نہار نامی رسالوں کے بھی مدیر رہے اور ساتھ ساتھ ریڈیو کا مشہور ڈرامہ تلقین شاہ کا سکرپٹ بھی لکھا جس میں انہوں نے اپنی آواز کا جادو بھی جگایا۔

افسانہ بابا صاحبا کی مقبولیت کے بعد آپ کو بابا اشفاق پکارا جانے لگا
——————————————————————————–

اشفاق احمد کا لکھا ہوا افسانہ بابا صاحبا اتنا مقبول ہوا کہ انہیں بابا اشفاق کے نام سے پکارا جانے لگا۔ اشفاق احمد کی انہیں صلاحتیوں پر حکو مت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز سے بھی نوازا۔ ان کی لکھی ہوئی تحریریں آج بھی خوشبو اور چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر رہی ہے۔ 7 ستمبر 2004ء کو جگر کی رسولی کی وجہ سے ان کا اچانک انتقال ہوا۔ حق مغفرت فرمائے، الہٰی آمین

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

جابر پٹھان اشفاق احمد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply