ضم اضلاع نرسز بھرتی بے ضابطگی الزام پر تیمور جھگڑا کا دبنگ جواب

ضم اضلاع نرسز بھرتی بے ضابطگی الزام پر تیمور جھگڑا کا دبنگ جواب

Spread the love

پشاور(بیورو چیف، عمران رشید خان) تیمور جھگڑا دبنگ جواب

Journalist Imran Rasheed

خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ و صحت تیمور خان جھگڑا نے اپنے ٹویٹ میں

وضاحت کی ہے کہ گذشتہ 10 سال سے صوبہ بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں

ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والی نرسز کی بڑی تعداد خدمات انجام دے رہی

ہے، اے آئی پی پروگرام کے تحت نرسز کی بھرتیوں کے ضمن میں 70 فیصد

درخواستیں مذکورہ ڈویژن سے آئیں، جن کی تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد میرٹ

پر تعیناتیاں عمل میں لائی گئی ہیں-

=–= صحت سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق حکومت

نے قبائلی اضلاع میں AIP پروگرام کے تحت 461 نان لوکل، 20 لوکل چارج

نرسز کو بھرتی کرنے کا آرڈر جاری کر دیا ہے۔ جس میں77 فیصد کا تعلق

ملاکنڈ ڈویژن سے ہے، جس پر میڈیا میں مذکورہ اعلامیہ پر شدید ردعمل سامنے

آیا کہ سلیکشن کمیٹی نے ایسا سلیکشن کیا ہے جس میں قبائلی اضلاع کی چارج

نرسز کو دوربین سے ڈھونڈنا بھی مشکل ہے- ایسی خبریں میڈیا پر سامنے آنے

پر قبائلی عوام کی جانب سے بھی شدید ردعمل سمیت نرسز کی تعیناتیوں میں

مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا، جس پر ایکشن لیتے

ہوئے ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت کے پی کے نے اے آئی پی کے تحت بھرتی

شدہ نرسز سٹاف کو ڈائریکٹریٹ میں رپورٹ کرنے سے اگلی ہدایات تک کام

کرنے سے روک دیا-

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

481 ملازمین میں قبائلی اضلاع سے صرف بیس لوگوں کو بھرتی کا آرڈر جاری

کردیا ہے جبکہ 461 نرسز سٹاف کے ڈومیسائل بندوبستی اضلاع ہیں۔ نئی تعینات

نرسز سٹاف کو ایک لاکھ بیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کے عوض بھرتی کیا گیا

ہے۔ ابتدائی طور پر کنٹریکٹ ایک سال کیلئے ہو گا، پراجیکٹ کے خاتمے تک

ملازمین کی کنٹریکٹ مدت میں اضافہ ہو گا۔ حکومت نے ضم شدہ اضلاع کیلئے

رواں سال ایکسلیریٹیڈ ایمپلی منٹیشن پروگرام AIP کے تحت کم و بیش 100 ارب

روپے محتص کئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت فاٹا انضمام کے بعد

اے آئی پی پروگرام کے اربوں روپے قبائلی اضلاع کے نام پر بندوبستی اضلاع

کے ناموں پر خرچ کیا جا رہا ہے، جو قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے

لوگوں کیساتھ ناانصافی ہے، قبائلی اضلاع کے عوام نے باشعور طبقہ، قومی اور

صوبائی اسمبلیوں کے اراکین، عدلیہ، درد دل رکھنے والے بیوروکریٹس سے

فوری نوٹس لیکر قبائلی اضلاع میں بہتری کے نام پر سالانہ اربوں روپے ضائع

ہونے سے بچانے کا مطالبہ کیا ہے۔

تیمور جھگڑا دبنگ جواب ، تیمور جھگڑا دبنگ جواب ، تیمور جھگڑا دبنگ جواب

تیمور جھگڑا دبنگ جواب ، تیمور جھگڑا دبنگ جواب

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply