تیل مہنگا ہونے سے پاکستان کے مسائل بڑھیں گے، عالمی مالیاتی فنڈ کا انتباہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان اورعالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان مذاکرات کا

آغاز ہوگیا،آئی ایم ایف مشن سے پہلے روز مذاکرات میں وزارت خزانہ، ایف بی

آر اور وزارت توانائی کے حکام شریک ہوئے۔ پاکستان نے مذاکرات کے پہلے

روز600 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کی یقین دہانی کرادی ۔ مذاکرات

میں آئی ایم ایف مشن کی سربراہی ارنستو رمریزریگو جبکہ پاکستانی وفد کی

قیادت سیکرٹری خزانہ یونس ڈھاگہ نے کی۔ ٹیکس حکام نے آئی ایم ایف وفد کو

ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے خدوخال سے آگاہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے آئندہ بجٹ میں

ایف بی آر کی وصولیوں کا ہدف 4600 ارب روپے مقرر کیا جائے گا جبکہ رواں

سال ایف بی آر 4000 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرے گا۔ پاکستان آئی ایم ایف

سے آٹھ سے نو ارب ڈالرز کے بیل آٹ پیکیج کا خواہشمند ہے۔ آئی ایم ایف وفد

10 مئی تک پاکستان میں رہے گا۔ پاکستان نے ٹیکس اصلاحات اور توانائی کے

شعبہ کے لیے تیار تجاویز بھی وفد کے سامنے رکھیں۔ دوسری جانب آئی ایم ایف

حکام نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور حماد اظہر سے بھی ملاقات کی جس

کے دوران ایف بی آر کے چیئرمین بھی موجود تھے۔ آئی ایم ایف وفد وزارت

توانائی و خزانہ، ایف بی آر، سٹیٹ بینک سمیت متعلقہ اداروں سے مذاکرات کرے

گا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد حکومتی مجوزہ ایمنسٹی

سکیم پر مزید مشاورت کی جائے گی جس کے باعث سکیم کے اجرا میں مزید

ایک ہفتے کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ ادھر انٹر نیشنل مانیٹرنگ فنڈ نے پاکستان کیلئے

خطرے کی گھنٹی بھی بجادی ،آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت

خطے کی معیشت سست روی کا شکار ہے، ہنگامی اصلاحات کے ذریعے مالی

مسائل سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے،پاکستان کو لاکھوں نوجوانوں کو روزگار

فراہمی کا فوری بندوبست کرنا ہوگا خطے کی ترقی کی شرح بھی پاکستان کی

ترقی میں کمی پر اثر انداز ہوگی جس سے مزید مہنگائی میں اضافہ ہوگا، رپورٹ

کے مطابق تیل درآمد کرنے والے ممالک کے قرضوں میں اضافے کا سلسلہ

جارہی ہے، بین الااقوامی تجارتی تنازعات بھی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں ان

کے حل پر بھی اقدامات کرنے ہونگے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پٹرولیم

مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے پاکستان کے مالی مسائل میں اضافہ ہو گا ۔

رواں مالی سال پاکستان کی شرح نمو 2 اعشاریہ 9 فیصد رہے گی ۔ پٹرولیم

مصنوعات کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال سے خطے کے ممالک کیلئے

سیاسی سیکورٹی و معاشی مسائل پیدا ہونگے، پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے

والے ممالک کے قرض میں اضافہ ہو گا۔ اس لئے معاشی مسائل کم کرنے کی

خاطر اصلاحات کا عمل تیزتر کیا جائے ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply