Lahore High Court

تیل بحران کیس، ذمہ دارمعاون خصوصی، کابینہ کو بھی اسی نے گمراہ کیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(جے ٹی این آن لائن کورٹ نیوز) تیل بحران کیس

وفاقی حکومت کو تحقیقاتی کمیشن قائم ،رپورٹ پیش کرنے کےلئے 6ہفتوں کی
مہلت، آئل کمپنیز کےخلاف کارروائی کی رپورٹ طلب

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے تیل بحران کیس

میں وفاقی حکومت کو تحقیقاتی کمشن بنانے اوررپورٹ پیش کرنے کیلئے 6

ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے حکومت میں غیر منتخب افراد کی شمولیت پر

سوالات اٹھا دیئے اور قرار دیا کہ غیر منتخب لوگ حکومت چلا رہے ہیں جس

کی وجہ سے عوام تک ثمرات نہیں پہنچ رہے، غیر منتخب عوام نہیں کمپنیز کے

مفاد کا سوچتے ہیں ،غیر منتخب لوگ تو اپنا بیگ اٹھاتے ہیں اور اپنے دفتروں کو

چلے جاتے ہیں، منتخب لوگوں کو عوام میں جانا پڑتا ہے، وزیر بھی ہو تو اسے

عوام کا سامنا کرنا ہوتاہے، منتخب اور غیر منتخب افراد میں یہی فرق ہے-

یہ بھی پڑھیں : مہنگائی، لاہورہائیکورٹ نے نوٹس لے لیا ،متعلقہ حکام طلب
——————————————————————–

عدالت نے مزید قراردیا کہ پٹرولیم بحران سے متعلق کابینہ کا اجلاس عدالت کے

نوٹس لینے کے بعد بلایا گیا، حکومتی ادارے اس طرح کا غیر ذمہ درانہ رویہ

اختیار کریں گے تو کیا حکومت چل سکتی ہے؟ کابینہ میٹنگ منٹس سے ظاہر ہوتا

ہے حکومت کو عوام سے کوئی دلچسپی نہیں، غیر منتخب افراد کے فیصلوں

سے تو عوام ناخوش ہی ہوں گے، چیف جسٹس نے ندیم بابر کا نام لئے بغیر

ریمارکس دیئے کہ معاون خصوصی کابینہ کو کیا گائیڈ کررہا ہے، بادی النظر

میں کابینہ کو درست آگاہ نہیں کیا گیا-

لگتا ہے وزارت پٹرولیم کو رشتہ دار چلارہے ہیں، عدالت عالیہ

پٹرولیم کی وزارت کو معاون خصوصی ہی چلارہا ہے، باقی حصہ دارہیں، بادی

النظر میں تیل بحران کا ذمہ دار متعلقہ معاون خصوصی ہے جو وزارت کو چلا

رہا ہے، لگتا ہے متعلقہ معاون خصوصی نے اجلاس میں کابینہ کو گمراہ کیا،

سپلائی کا جواب دینے کی بجا ئے بتایا گیا تیل موجود ہے مگر افواہوں کی وجہ

سے لوگ زیادہ خریداری کررہے ہیں جس کی وجہ سے قلت نظر آرہی ہے، لگتا

ہے وزارت پٹرولیم کو رشتہ دار چلارہے ہیں-

رپورٹ دیکھ کر پنجابی محاورہ یاد آیا آتا یے کہ” آ بیل مجھے مار“

دوران سماعت عدالتی استفسار پر سرکاری وکیل نے بتایا 26 جون کو قیمتیں

بڑھانے سے متعلق اوگرا نے تجویز نہیں دی وزارت پیٹرولیم نے فون پر اوگرا

سے بات کی جس پر چیف جسٹس قاسم خان نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے

ریمارکس دیے کہ کیا یہ ملک مذاق سے چل رہا ہے؟ اگر قیمت پہلے بڑھانی

تھی تو ٹھوس وجہ چاہیے تھی، چیف جسٹس نے باور کرایا کہ اس رپورٹ کو

دیکھ کر پنجابی محاورہ یاد آیا آتا یے کہ” آ بیل مجھے مار“، کابینہ اجلاس کی

رپورٹ پورے ملک کیلئے حیران کن ہے، میٹنگ منٹس بنانے والے نے وزیراعظم

کو خوش کیا-

منٹس دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کابینہ نہیں بلکہ وزیراعظم کا فیصلہ ہے

میٹنگ منٹس کے مطابق وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کویقینی بنانے

کی ہدایت کی، منٹس دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کابینہ نہیں بلکہ وزیراعظم کا فیصلہ

ہے جبکہ اجلاس میں فیصلہ کے وقت سب برابر ہوتے ہیں، فاضل جج نے مزید

ریمارکس دیئے کہ شور مچا ہوا ہے غیر منتخب لوگ حکومت چلارہے ہیں، کیس

کی سماعت شروع ہوئی تو عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل، سیکرٹری پٹرولیم ، چیئر

پرسن اوگرا اور چیف سیکرٹری پنجاب پیش ہوئے، اٹارنی جنرل نے کابینہ کے

اجلاس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی-

26 جون کو پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کیلئے اوگرا سے رائے نہیں لی گئی

دوران سماعت چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل نے عدالت کوبتایا کہ بطورچیئر

پرسن اوگرا کی آج نوکری کا آخری دن ہے، 17 جولائی کو ان کے عہدہ کی

میعاد پوری ہورہی ہے، عدالت نے کہا کہ ریٹارمنٹ سے ایک دن پہلے بول دیا

26 جون کو پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کیلئے اوگرا سے رائے نہیں لی گئی، یعنی

بغیر اوگرا کی سمری کے قیمت بڑھا دی گئی، اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ

سابق چیئرمین اوگرا سعید احمد کی انکوائری رپورٹ بھی طلب کی جائے،

میٹنگ منٹس میں کابینہ کی جگہ وزیر اعظم تحریر ہونا ناقابل یقین غلطی

چیف جسٹس نے کہا منٹس آف میٹنگ میں جہاں کابینہ لکھا ہونا چاہیے تھا وہاں ہر جگہ وزیر اعظم لکھا ہوا ہے، اتنی بڑی سطح پر اتنی بڑی غلطی کی امید نہیں تھی، چیف جسٹس قاسم خان نے قرار دیا کہ عوا می نمائندوں کی سوچ عوام کی فلاح اور جو عوامی نمائندہ نہیں ان کی سوچ عوام کے مفاد کیلئے نہ ریاست کی بہتری کیلئے ہے، چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایسے لوگوں کی سوچ صرف کمپنی کا مفاد ہے اور ایک شخص کو خوش کرنا ہوتا ہے، چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ غیر منتخب افراد کہتے ہیں کہ پٹرول کی قیمتوں کا طریقہ کار میں تبدیلی کی وجہ سے بحران آیا اور عوامی نمائندے کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمتیں کم ہو یا زیادہ دونوں صورتوں میں فائدہ کمپنیز کا ہے-

زبانی بات چیت یا کسی غیر منتخب نمائندے کا دفاع نہیں کر رہا، اٹارنی جنرل

اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایا کہ مجھے جیسے بتایا گیا ویسے ہی بتا رہا ہوں، میں یہاں زبانی بات چیت کا دفاع نہیں کر رہا اور نہ ہی کسی غیر منتخب نمائندے کا دفاع کر رہا ہوں، چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کیا کہ کی میٹنگ منٹس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ کابینہ کی قانونی معاونت نہیں کی گئی-

کیا ایسے غیر ذمہ دارانہ رویہ سے حکومت چل سکتی ہے؟ چیف جسٹس

سیکرٹری پٹرولیم نے پٹرول قلت کا ذمہ دار اوگرا کو ٹھہرایا، کیا ایسے غیر ذمہ دارانہ رویہ سے حکومت چل سکتی ہے؟ چیف جسٹس نے پیٹرولیم مصنوعات کے بارے کمیشن کی تشکیل اوررپورٹ پیش کرنے کیلئے چھ ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی- عدالت نے اس بابت بھی رپورٹ طلب کی ہے کہ کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں کون کون سے اقدامات کئے گئے اور کتنی آئل کمپنیوں کیخلاف ایکشن لیا گیا۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

تیل بحران کیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply