تہران میں بی جے پی کیخلاف زبردست مظاہرہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لندن،تہران(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی پارلیمنٹ میں دہلی فسادات اور ہٹلر مودی کے وحشیانہ اقدامات

پر کڑی تنقید، وزیر مملکت برائے دفتر خارجہ نائیڈل ایڈم نے دو ٹوک لفظوں میں کہا کہ برطانیہ کو

بھارت میں پرتشدد واقعات پر گہری تشویش ہے۔برطانوی پارلیمنٹ میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان

دونوں نے دہلی میں ہونے والی مسلمانوں کے قتل عام پرمودی پر تنقید کے نشتر برسائے اور اسے

ہٹلر کے مترادف قرار دیا۔ سکھ رکن تن من جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ حالیہ فسادات نے انیس سو

چوراسی کی تلخ اور تکلیف دہ یادیں تازہ کردیں۔ مسلمانوں کو چن چن کر مارا جارہا ہے ایک اور رکن

ایلن اسمتھ کے مطابق شہریت قوانین کا وار چلا کر مسلمانوں کو ہدف بنایا گیا۔ منظم منصوبہ بندی کے

تحت بھارت میں ہندو توا سوچ کو پروان چڑھایا جارہا ہے اور مودی کو اس کی مکمل حمایت کررہے

ہیں۔ دہلی میں مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسندوں کو بی جے پی کے لیڈروں نے ہوا دی جبکہ

پولیس اس ساری کارروائی میں حکومتی جماعت کی آلہ کاربنی رہی۔دوسری جانب ایران کے

دارالحکومت تہران میںدہلی فسادات کے متاثرین سے اظہار یکجہتی اور مودی کے خلاف بھارتی

سفارت خانے کے باہر عظیم الشان مظاہرہ کیا گیا۔کررونا وائرس کے خوف کے باوجود ایرانیوں کی

بڑی تعداد بھارتی سفارت خانے کے باہر اکٹھی ہوئی،جنہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے

جن میں دہلی فسادات میں مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف نعرے درج درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا

تھا کہ ایک منصوبے کے تحت بھارتی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے۔ ضرورت اس

امر کی ہے کہ بھارتیا جنتا پارٹی پر ناصرف پابندی لگائی جائے بلکہ اس کی انتہا پسندانہ سوچ کو

لگام بھی دی جائے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply