ترکی خواتین کے حقوق و صنفی برابری کے یورپی معاہدے سے دستبردار

ترکی خواتین کے حقوق و صنفی برابری کے یورپی معاہدے سے دستبردار

Spread the love

انقرہ (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) ترکی خواتین کے حقوق

ترکی نے اپنے آپ کو خواتین کے حقوق اور صنفی برابری کے یورپی معاہدے

سے الگ کر لیا ہے۔ اس معاہدے کا نام استنبول کنونشن تھا جس کو 2011ء میں

حتمی شکل دی گئی۔ استنبول کنونشن پر پیتالیس ممالک اور یورپی یونین نے

دستخط کیے تھے۔ یہ کنوینشن رکن ممالک کی حکومتوں کو پابند بناتا ہے کہ وہ

مختلف صورتوں میں خواتین پر کیے جانیوالے تشدد کیخلاف قانون سازی کریں۔

استبول کنونشن کے تحت قانونی حدود کی روشنی میں ضوابط ترتیب دیے گئے

تھے تاکہ شریک ممالک کی خواتین کو گھریلو تشدد سے محفوظ رکھا جا سکے

اور صنفی مساوات کے تحت انہیں دستور سازی میں شرکت، تعلیم حاصل کرنے

کے مساوی حقوق اور حتی الامکان شعور و آگہی فراہم کی جا سکے۔

=-=یہ بھی پڑھیں: ترکی اللہ کی مدد سے 2023 میں چاند پر قدم رکھ دیگا، اردگان

ترکی نے اس معاہدے سے نکلنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی، تاہم وزیرِ خاندان، لیبر

و سماجی پالیسی زہرا زمرد سلجوق کا کہنا ہے کہ ملکی دستور خواتین کے حقوق

کی مکمل ضمانت فراہم کرتا ہے اور ملکی عدالتی نظام بھی بہت باوقار ہے جو

خواتین کیلئے مقررہ ضوابط کے نفاذ کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترکی میں

قدامت پسند طبقے کا کہنا ہے یہ معاہدہ خاندانی نظام کو متاثر کرتا ہے اور طلاق

کی شرح میں اضافے کا بھی بڑا سبب ہے۔ علاوہ ازیں ہم جنس پرست بھی اس

معاہدے کے تحت مساوات کی آڑ لیتے ہیں۔ ترکی میں اپوزیشن پارٹی کی ڈپٹی

چیئرپرسن نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ اس معاہدے سے دستبرداری

کا مطلب خواتین کو دوسرے درجے کا شہری شمار کرنا ہے۔

=قارئین=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

صدر اردگان نے رواں ماہ خواتین کیخلاف تشدد کی مذمت کی کرتے ہوئے کہا تھا

کہ ان کی حکومت خواتین پر تشدد کے خاتمے کیلئے کام کرے گی، لیکن نقادوں

نے کہا ہے ترکی کی موجودہ حکومت نے خواتین اور ان پر ہونیوالے گھریلو تشدد

کی روک تھام کیلئے کافی کام نہیں کیا۔

ترکی خواتین کے حقوق

Leave a Reply