تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا فیصلہ، پنجاب حکومت کی درخواست پر سمری کابینہ کو بھیج دی گئی

Spread the love

تحریک لبیک پر پابندی

لاہور ، اسلام آ باد (جے ٹی این آن لائن نیوز) حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا فیصلہ

کرلیا اس بات کا اعلا ن وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے پریس کانفرنس کے دوران کیا، انہوں

نے کہا پنجاب حکومت کی درخواست پر یہ فیصلہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کیا گیا ہے ،

ہماری ان کو منانے کی کوششیں ناکام ہوئیں، ہم تحریکِ لبیک پر پابندی سے متعلق سمری کابینہ کو

بھیج رہے ہیں، ہم قرار داد اسمبلی میں اتفاقِ رائے سے پیش کرنا چاہتے تھے، جہاں تک ختمِ نبوت اور

ناموسِ رسالت کا تعلق ہے شیخ رشید کی جان حاضر ہے، اسلام آباد میں پولیس سے رائفل چھین کر

فائرنگ کی گئی، یہ ایسا مسودہ چاہتے تھے کہ یورپ کے سارے لوگ ہی واپس چلے جائیں، ہم نے

نہیں انہوں نے حکمتِ عملی بنائی ہوئی تھی، ہم نے جو معاہدہ کیا تھا اس پر قائم تھے، جی ٹی روڈ اور

موٹر وے مکمل بحال ہو چکی ہے۔ بدھ کو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اسلام آباد میں میڈیا

سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحتتحریک لبیک پر پابندی لگانے کا

فیصلہ کیا ہے اور اس کی سمری پنجاب حکومت کی سفارش پر وفاقی کابینہ کو بھیجی جا رہی ہے،

تحریک لبیک کی جانب سے مریضوں اور ایمبولینس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور ملک میں

ہنگامہ آرائی کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موٹرویز بحال کردی گئی ہیں ، جی ٹی روڈ پر بھی ٹریفک

کی روانی لائی جا رہی ہے جبکہ تحریک لبیک کی جانب سے پر تشدد کارروائی سے 2پولیس اہلکار

شہید ہو چکے ہیں اور 370زخمی ہوئے ہیں جبکہ سوشل میڈیا میں بدامنی پھیلانے اور امن عامہ کو

خراب کرنے کے حوالے سے پیغامات جاری کرنے والوں کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں

جبکہ اغواء پولیس اہلکاروں کو رہا کرا لیا گیا ہے۔ وفاقی وزیرنے کہا کہ فرانس کے سفیر کی ملک

بدری کا بل قومی اسمبلی میں ضرور پیش کریں گے اور ایسا بل پیش کیا جائے گا جس میں نبیؐ کا

جھنڈا بلند ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو معاہدے تحریک لبیک سے کیا ہے اس پر قائمہیں مگر

تحریک لبیک فیض آباد آنے پر بضد تھی جبکہ اب جو ایف آئی آر ہو گی تحریک لبیک قیادت پر وہ

قانون کے تحت ہوئی ہیں۔ شیخ رشید نے سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے کبھی بھی اس جماعت

کی حمایت نہیں کی اور نہ کی کبھی خادم حسین رضوی مرحوم سے ملا تھا۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ

سیاسی حالات کی وجہ سے نہیں تحریک لبیک کے کردار کی وجہ سے پابندی لگائی جا رہی ہے، آج

ہم نے ان سے عطیہ کرنے والوں سے بھی باز پرس کی ہے، اس حوالے سے وزارت داخلہ مکمل

تحقیقات کررہی ہے اور تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے۔۔ قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی

زیر صدارت امن و امان کی صورتحال پر اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر مذہبی امورنور الحق

قادری، سیکرٹری داخلہ، آئی جی پنجاب، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد، رینجرز اور دیگر

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں آئی جی پنجاب انعام غنی اور

کمشنر راولپنڈی بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔ اجلاس میں مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج کی

صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں شہید ہونے والے پولیس کے جوانوں کو خراج تحسین پیش جبکہ

فیصلہ کیا گیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ شیخ رشید نے رینجرز اور

ضلعی انتظامیہ کو مختلف علاقوں میں سڑکیں کلیئر کرانے پر مبارکباد دی۔ وزیر داخلہ نے شرکاء کو

ہدایت کی کہ ریاست کی رٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، موٹرویز، جی ٹی روڑ اور باقی بڑی

سڑکیں ٹریفک کے لئے کلیئر کروالی ہیں، اسلام آباد، راولپنڈی میں لیاقت باغ، ترنول، بارہ کہو، روات

کے علاقوں کو ٹریفک کے کئے کھلوا لیا گیا، رینجرز نے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ ملکر بہت

زبردست کام کیا۔ دوسری طرف وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کے

فیصلے کے بعد کراچی میں موجود قیادت کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیئے ہیں، شہر میں

کریک ڈاون شروع کردیا گیاہے۔محکمہ داخلہ نے آئی جی سندھ کو احتجاج کرنے والے افراد کو ایم پی

او کے تحت نظر بند کرنے کا حکم جاری کردیا ہے، کراچی ، حیدرآباد، سکھر ، بینظیر آباد، سانگھڑ

سمیت دیگر مقامات پر احتجاج کرنے والے افراد فہرست میں شامل ہیں۔حکومت کی جانب سے

احکامات ملنے کے بعد پولیس نے کریک ڈاؤن کی تیاری کرلی، آئی جی سندھ نے تحریک لبیک کی

قیادت کو گرفتار کرنے کے احکامات بھی جاری کردیئے ہیں۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے

کریک ڈاون کے احکامات ملنے کے بعد پولیس حکام نے کراچی میں ہنگامہ آرائی کرنیوالے تحریک

لبیک کے کارکنوں کی فہرستیں تیار کرلی ہیں۔دریں اثنا لاہور کے مختلف علاقوں میں مذہبی جماعت

کے کارکنوں کا احتجاج جاریرہا۔ مظاہرین نے جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی کے گیٹ پر دھاوا بول دیا،

پتھراؤکیاپولیس اور سکیورٹی گارڈ بے بس ہو گئے۔تاہم فیصل آباد اور راولپنڈی میں راستے کھلنے

سے ٹریفک بحال ہو چکی ہے جبکہ کراچی کے بلدیہ ٹاون میں حب ریور روڈ کو بھی عام شہریوں

کیلئے کھول دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور میں جنرل ہسپتال کے قریب ایک پولیس اہلکار عوام کی

حفاظت پر مامور تھا کہ مذہبی جماعت کے کارکنوں نے اس پر شدید تشدد شروع کر دیا۔ پولیس اہلکار

جان بچانے کیلئے بھاگا اور جنرل ہسپتال میں پناہ لے لی۔ ہسپتال کے گیٹ بند ہونے پر مشتعل مظاہرین

نے اس پر دھاوا بول دیا ور توڑ پھوڑ شروع کر دی۔

تحریک لبیک پر پابندی

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply