تحریک لبیک پر پابندی

وفاقی کابینہ نے بھی تحریک لبیک پر پابندی کی منظوری دے دی

Spread the love

تحریک لبیک پر پابندی

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وفاقی وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی) کو

کالعدم قرار دے دیا۔ پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کے تحت

تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تحریک لبیک پاکستان ملک

میں دہشت گردی اور دوسرے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ٹی ایل پی

ملک میں لوگوں کواکسا کر انتشار پیدا کرنے سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی

اموات اور زخمی کرنے میں ملوث ہے۔ دریں اثنا اس سے قبل وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے تحریک

لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کیخلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کا اعلانکیا جبکہ وفاقی کابینہ

نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دے دی ہے۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق

قادری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ سے ٹی ایل پی پر پابندی

کیلئے سرکولیشن سمری کے ذریعے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت منظوری لی گئی، اس پابندی

کی سفارش حکومت پنجاب نے کی تھی۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہم ہم نے بات چیت سے مسئلے کو حل

کرنے کی پوری کوشش کی لیکن تحریک لبیک پاکستان کے عزائم بہت ہی خطرناک تھے، یہ لوگ

بضد تھے کہ ضرور اسلام آباد آئیں گے۔ جمعہ کے روز اس جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں بھی

ریفرنس بھیج دیں گے۔وفاقی وزیر نے اس موقع پر پولیس فورس کے جوانوں کی قربانیوں کو خراج

تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے ہی امن وامان قائم رہا، ایمبیولینسز اور ااکسیجن لے

جانے والی گاڑیوں کو راستے ملے۔شیخ رشید نے کہا کہ پولیس اور رینجرز کو خراج تحسین پیش

کرتے ہیں۔ لاہور یتیم خانہ چوک کے سوا سارا پاکستان کھلا ہے، عام شہری کو کسی قسم کی کوئی

پریشانی نہیں ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال سے

کوشش کر رہا تھا کہ تحریک لبیک مرکزی دھارے میں آ جائے لیکن اس کے لیڈرز بضد تھے جو کچھ

کہہ رہے ہیں، اسی کو مانا جائے۔نورالحق قادری نے کہا کہ ریاست کا کام منت سماجت کرنا نہیں ہوتا

لیکن اس کے باوجود ٹی ایل پی کو منانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ صرف ایک گرفتاری پر ایسے

پرتشدد ردعمل کو دینی اور اخلاقی طور پر ٹھیک نہیں کہا جا سکتا۔ تحریک لبیک کے رہنماؤں اور

کارکنوں کے خلاف 7 مقدمات درج کر لئے گئے، مقدمات میں پولیس اہلکاروں پر حملے، کارسرکار

میں مداخلت اور دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔بتایا گیا ہے کہ ساتوں مقدمات پولیس افسران کی

مدعیت میں درج کئے گئے ہیں۔ ٹی ایل پی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے

دی گئی ہیں۔ حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد تنظیم

کے اثاثے منجمد کرنے کی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ذ تحریک لبیک کے مرکزی عہدیداروں

کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کیے جا رہے ہیں ٹی ایل پی کے اثاثے منجمد کیے جانیکی

کارروائی انسداد دہشتگردی ایکٹ1997کے تحت کی جا رہی ہے، کارروائی انسداد دہشتگردی ایکٹ

کی شق 11 ای ای کے تحت کی جا رہی ہے۔ اثاثے منجمد کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک اور صوبائی

محکمہ ریوینیو کردار ادا کریں گے، اس کے علاوہ کالعدم جماعت کے عہدیداروں،کارکنوں کو جاری

اسلحہ لائسنسز بھی منسوخ کیے جائیں گے۔ ٹی ایل پی کے مرکزی عہدیدار زمینوں کی خرید و

فروخت نا ہی بینک اکاؤنٹس استعمال کر سکیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی کے اثاثوں کی

تفصیلات کے لیے وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کو ہدایات دے دی ہیں۔ اس سے قبل وفاقی

وزارت قانون نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی

لگانے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہارکیا ہے۔وزیر داخلہ شیخ رشید کی زیر صدارت وزارت داخلہ

میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہو اجس میں ٹی ایل پی پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی کے

معاملے پر مشاورت کی گئی۔ وزارت قانون کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی

پر حفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ وزارت قانون کی رائے میں تحریک لبیک پر پابندی کا معاملہ الیکشن

کمیشن کا ہے۔ اجلاس میں تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے قومی اسمبلی میں قرارداد لانے پر

بھی غورہوا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مطالبہ کرنا ہر کسی کا حق ہے، مگر پرتشدد

احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر فخر ہے، پرتشدد احتجاج

کرکے ریاست کو دباؤ میں نہیں لایا جا سکتا۔ حکومتی رہنماوں کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان

نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کی تعریف کی، انہوں نے کہا کہ پولیس اور

سکیورٹی اداروں نے جس جذبہ کے ساتھ امن قائم کیا وہ قابل تحسین ہے، مطالبہ کرنا ہر کسی کا حق

ہے مگر پرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور سکیورٹی اداروں

پر فخر ہے، پرتشدد احتجاج کر کے ریاست کو دباو میں نہیں لایا جا سکتا۔ عمران خان نے وزیر مذہبی

امور نور الحق قادری کو تحریک لبیک پر پابندی کے معاملے پر علمائے کرام کو اعتماد میں لینے کی

ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں اور علما کا احترام کرتے ہیں لیکن مذہب کے نام شدت

پسندی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے اہم فیصلوں میں علما

ومشائخ کو اعتماد میں لیا۔ ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائی ہے اور اٹھاتے

رہیں گے۔وزیراعظم کی ہدایت پر نور الحق قادری نے علمائے کرام اور مشائخ کو افطار پر مدعو

کریں گے جس میں انھیں تحریک لبیک پر پابندی کے فیصلے پر اعتماد میں لیا جائے گا۔دوسری طرف

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی جانب سے علماء کرام کے اعزاز میں افطار ڈنر دیا

گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان سمیت دیگر علماء

کرام بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ تحریک

لبیک پاکستان 2016ء کے بعد قائم ہوئی، اس جماعت نے تین مرتبہ دھرنا دیا، اب چوتھی بار دھرنا

دینے جا رہی ہے، اس جماعت کی جانب سے دیا گیا کوئی بھی دھرنا ایسا نہیں ہے جس میں لوگوں کی

جانیں ضائع نہ ہوئی ہوں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ رسول اکرم کو اﷲ نے

سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا، ان سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی ہستی نہیں ہے، ان کی

عزت اور تکریم ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن ملک میں تشدد کی جو لہر پیدا کی جا رہی ہے یہ

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیمات کے منافی عمل ہے۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہاکہ

اسلام امن کا دین ہے، مومن مومن کا بھائی ہے، افواج پاکستان، سیکورٹی ادارے اور پولیس ہماری

ہے، یہ ہمیں تحفظ فراہم کرتے ہیں، ان پر تشدد کسی طرح بھی جائز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم

عمران خان کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ناموس رسالت کے لئے عالمی سطح پر آواز

بلند کی۔ تقریب میں موجود دیگر علماء کرام نے تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پرتشدد مظاہروں

کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن کا دین ہے، کوئی شخص اور مسلمان یہ بردداشت نہیں

کر سکتا کہ حضور اکرم کی شان میں کوئی گستاخی کرے، اگر کوئی شخص ایسا عمل کرتا ہے تو اس

کے لئے بہترین طریقہ یہی ہے کہ حکومت وقت، ہمارے ادارے، ہمارے علماء مل بیٹھ کر اس بارے

میں لائحہ عمل مرتب کریں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی شخص، فرد واحد یا گروہ اپنے نظریات حکومت

پر مسلط نہیں کر سکتا، ہمارا ملک اور قانون اس کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی حکومت کی رٹ کو

چیلنج کرے۔

تحریک لبیک پر پابندی

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply