jtn jaiza3

تحریک آزادی کشمیرکی اصل طاقت 23 مارچ 1940ء کی قرارداد پاکستان

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن تجزیاتی رپورٹ) تحریک آزادی کشمیر

تحریک آزادی کشمیر کے پس پردہ اصل طاقت 23 مارچ 1940ء کو منظور کی

گئی قرارداد پاکستان ہے جو درحقیقت تحریک تکمیل پاکستان کا تسلسل ہے۔ 23

مارچ 2021ء یوم پاکستان کے موقع پر کے ایم ایس کی جاری کی گئی ایک

تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایک کشمیری وفد نے 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں

ہونے والے عوامی جلسے میں شرکت کی تھی اور اس وفد نے اس بات پر زور

دیاتھا کہ جموں و کشمیرمستقبل میں قائم ہونے والی مسلم ریاست کا حصہ ہوگا۔

=–= ایسی ہی مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

کشمیر تقسیم برصغیر کے منصوبے کا نامکمل ایجنڈا بھی ہے۔ اس کے علاوہ

پاکستانی اور کشمیری مضبوط مذہبی، تاریخی اور ثقافتی بندھنوں میں بندھے ہیں۔

پاکستان اور جموں و کشمیر ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں اورمقبوضہ جموں

و کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے گولیوں کے بوچھاڑ میں بھی کشمیریوں

کی طرف سے پاکستان کے حق میں نعرے بازی پاکستان اور کشمیر کے ایک

ہونے کی دلیل ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں لوگ 1947ء سے بھارتی بندوقوں

کے سائے تلے پاکستان کے قومی دنوں پر جشن مناتے آئے ہیں اور پاکستان کے

ساتھ اظہار محبت کے لئے کشمیری پاکستانی پرچم لہراتے ہیں، ” جیوے جیوے

پاکستان“، اور”ہم پاکستان چاہتے ہیں“ جیسے نعرے لگاتے ہیں۔ ” کشمیر بنے گا

پاکستان“ کا نعرہ ہر کشمیری مسلمان کی آواز ہے جبکہ پاکستان بھی کشمیریوں کی

جدوجہد آزادی کیساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

=—–= آج دو قومی نظریے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ

تنازع کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی

رکاوٹ ہے۔ وزیراعظم عمران خان بھی زور دیے چکے ہیں کہ کشمیریوں کو اقوام

متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دیا جانا چاہئے۔ سربراہ پاک فوج

جنرل قمر جاوید باجو نے بھی کہا کہ تنازعہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل

کئے بغیر جنوبی ایشیا ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ

بھارت اور پاکستان کے درمیان بامعنی مذاکرات کے لئے خاص طورپر مقبوضہ

جموں و کشمیر میں سازگارماحول پیدا کرے۔ 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات

سے ایک بار پھر ثابت ہوا ہے کہ مسلمانوں کو برصغیر میں ایک علیحدہ ملک کی

ضرورت تھی۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیر پاکستان کا

حصہ بن کررہے گا اور کشمیری شہداء کو پاکستانی پرچموں میں لپیٹ کر دفن کرنا

پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی وابستگی اور محبت کا اظہارہے جبکہ اس سے یہ

حقیقت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ آج دو قومی نظریے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ

ہے۔

تحریک آزادی کشمیر

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply