کشمیروشمالی علاقوں کی بڑی اورجنت نظیر تاریخی گذرگاہ مانسہرہ

کشمیروشمالی علاقوں کی بڑی اورجنت نظیر تاریخی گذرگاہ مانسہرہ

Spread the love

(تحریر:– شہزادہ گل زیب خان جدون المعروف گل جی) تاریخی گذرگاہ مانسہرہ

Journalist Shehzada Gullzaib Khan Jadoon

اللہ تعالیٰ نے وطن عزیز پاکستان کو جہاں ہر نعمت سے نوازا ہے وہیں ارض

پاک کو متعدد جنت نظیر وادیاں بھی عطاء کی ہیں، ایسا ہی ایک قدرتی حسن سے

مالا مال اورتاریخی اہمیت کا حامل خطہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع مانسہرہ

کے نام سے دنیا بھر میں معروف ہے، جس میں دنیا کے مشہور سیاحی مقامات

ناران، کاغان اور شوگراں واقع ہیں، شاہراہ ریشم پر واقع مانسہرہ کشمیر و شمالی

علاقوں کی بڑی گزرگاہ ہے، ہر سال لاکھوں سیاح یہاں سیاحت کیلئے آتے ہیں-

=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

تاریخی گذرگاہ مانسہرہ
ضلع مانسہرہ پاکستان کے بہت سے خوبصورت اضلاع میں سے ایک اور صوبہ

کا دوسرا سب سے بڑا ضلع ہے۔ اس کی آبادی بہت زیادہ ہے، یہ ضلع ایک پرانی

جگہ ہے جہاں قرون وسطیٰ کے زمانے کی بستیاں ہیں، اسلام کے متعارف ہونے

سے پہلے بہت سی تہذیبیں تھیں، اسلام سے پہلے بدھ مت اور ہندو مت تھے۔

لوگ بہت ملنسار اور مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ ہیں ہیں۔ آبادی بنیادی طور

پر نوجوانوں پر مشتمل ہے، تقریباً نصف آبادی 20 سال سے کم عمر کی ہے،

مانسہرہ کے لوگ تعلیم حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، اس ضمن مرد

اکثریت میں ہیں، تاہم خواتین میں حصول تعلیم کا رجحان کم ہے۔

=-.-= مانسہرہ کا تاریخی پس منظر
تاریخی گذرگاہ مانسہرہ

خطہ مانسہرہ مختلف حکمرانوں کے زیر تسلط رہا، جن میں سکندراعظم بھی

شامل ہے، ضلع کا صدر مقام مانسہرہ شہر ہے، جس کا قدیم نام پکھل سر ہے جو

وادی پکھل اور سرن کی ذرخیز وادیوں پر مشتمل ہے، اس علاقے کا موجودہ نام

مہا راجہ رنجیت سنگھ کے جرنیل مان سنگھ سے منسوب ہے، جس نے باقاعدہ

اس خطے کو آباد کیا، 23 سو سال قبل برصغیر کا سب سے بڑا ہندو حکمران

اشوک اعظم جو موریا سلطنت کے بانی چندر گپت موریا کا پوتا تھا-

=ضرور پڑھیں= وادی کاگن کا گیٹ وے شہر ایبٹ آباد

تاریخی گذرگاہ مانسہرہ

اس نے ہندوستان کے ایک تہائی حصے پر حکمرانی کی، جب کہ اڑیسہ کے مقام

پر قدیم برصغیر کی سب سے بڑی جنگ جس میں ہزاروں افراد مارے گئے، کے

بعد وہ توبہ تائب ہو گیا اور بدھ مت مذہب اختیار کر کے یہاں آباد ہو گیا، مانسہرہ

شہر کے پہاڑی سلسلہ کے دیو ہیکل پتھروں پر کندہ اس کے مذہبی فرامین آج

بھی موجود ہیں، جنہیں ہر سال ہزاروں سیاح دیکھنے کیلئے آتے ہیں، جب کہ

تاریخ کے طلبہ اور ہزاروں ریسرچر اس پر اب بھی کام کر رہے ہیں-

=-.-= مانسہرہ کا تاریخی گوردوارہ اور اہل علاقہ کا مطالبہ

تاریخی گذرگاہ مانسہرہتاریخی گذرگاہ مانسہرہ

ضلع ایبٹ آباد سے محض 19 کلومیٹر شمال میں واقع مانسہرہ شہر میں کئی

تاریخی عمارتیں ہیں، جن میں ہزارہ ڈویژن کا سکھ دور کا خوب صورت ترین

گوردوارہ جو ایک شاہکار ہے، قابل دید ہے، گوردوارہ میں ایک شاندار لائبریری

بھی قائم ہے، جس سے ہزاروں افراد مستفید ہو رہے ہیں، عوام کی جانب سے اس

میں میوزیم بھی قائم کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے- پکھلی میدان

کے جنوبی سرے پر بھٹ اسٹریم پر واقع مانسہرہ میں سطح سمندر سے 3,682

فٹ (1,122 میٹر) کی بلندی پر دریائے سیران کی ایک معاون ندی ہے-

تاریخی گذرگاہ مانسہرہ

ایک بازار کا شہر، جو دیودار سے ڈھکی پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے، اور اس میں

آٹے کی چکی، اونی سوت کی چکی، اور زرعی تحقیقی مرکز ہے۔ قریبی اشوکان

چٹان تیسری صدی قبل مسیح سے متعلق ہے۔

=-،-= مانسہرہ کی نمایاں اجناس اور کاروباری ذرائع

آس پاس کا علاقہ دریائے کنہار سے بنی قدرتی وادی کاگن ( کاغان ) کو گھیرنے

کیلئے دریائے سیران سے شمال مغرب میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ سیاحتی علاقہ سڑک

کے ذریعے 96 میل ( 154 کلومیٹر) لمبا ہے، جس کی چوٹیاں 17,000 فٹ

(5,200 میٹر) تک پھیلی ہوئی ہیں، اور جزوی طور پر دیودار کے درختوں سے

بھری ہوئی ہیں۔ اجناس میں مکئی، آلو، جوار، گندم، جو، چاول، پھل اور تمباکو

نمایاں ہیں جبکہ مال مویشی پالنا بھی بڑا کاروبار ہے۔ مانسہرہ کے قریب جبہ کے

علاقہ میں بھیڑوں کا سرکاری فارم بھی ہے۔

=-،-= دلکش جھیلوں کی وادی مانسہرہ اور جوائنٹ فیملی سسٹم

ضلع مانسہرہ میں جوائنٹ فیملی سسٹم کا غلبہ ہے، جہاں بزرگوں کو فیصلے

کرنے کا اختیار حاصل ہے، جس کے لیے انہیں ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے

اور جس چیز کو وہ درست نہیں سمجھتے، چھوٹوں کیلئے لازم ہے کہ وہ بڑوں

کا احترام کریں۔ خاندانوں اور پڑوسیوں کے درمیان بہت مضبوط خاندانی تعلقات

ہیں، جنہیں خاندان کے افراد کے طور پر سمجھا جاتا ہے، یہاں کے باسی انتہائی

سادہ ہیں، غذاء بھی سادہ ہے، زیادہ تر مکئی، گندم اور چاول کھاتے ہیں۔ گھر

پتھر اور مٹی کے بنے ہیں، لیکن اب سیمنٹ کے گھر بنانے کا رحجان بھی زور

پکڑتا جا رہا ہے، کیونکہ آمدورفت کے ذرائع بڑھنے سے یہاں کے لوگوں کا اب

شہری علاقوں میں آنا جانا معمول بن چکا ہے اس لئے واپسی پر وہ اپنے ساتھ

شہری ثقافت بھی لا رہے ہیں، تاہم ضلع مانسہرہ میں بہت سی چیزیں ایسی بھی

ہیں جو اسے دوسروں سے منفرد بناتی ہیں، تاریخی مقامات و خوبصورتی کے

لیے مشہور اس خطے میں انتہائی خوبصورت ترین جگہ کاغان ہے، جو اپنے

خوشگوار موسم اور قدرتی مناظر کی وجہ سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔

یہاں 3 خوبصورت جھیلیں لولوسر، دودوپت سر اور سیف الملوک سر۔ علاقہ

بڑے بڑے پہاڑوں، لمبے درختوں اور خوبصورت جھیلوں سے گھرا ہوا ہے۔

=-،-= بولی جانیوالی زبانیں، لوگ اور قدرتی آفات کا احوال

تاریخی گذرگاہ مانسہرہ

مانسہرہ کے لوگ ایک مختلف زبان بولتے ہیں جس میں پشتو، گوجری، ہندکو

اور کشمیری شامل ہیں۔ اکثریتی علاقے ہندکو، گوجری اور پشتو بولتے ہیں جب

کہ پورے ضلع میں اردو سمجھی جاتی ہے۔ آبادی کی ایک چھوٹی سی اکثریت

کشمیری اور کوہستانی بولتی ہے- مانسہرہ صوبے میں دوسروں کے مقابلے میں

بہتر طور پر ترقی یافتہ ہے، یہاں پر ٹرانسپورٹ کا مناسب نظام موجود ہے، آس

پاس کے علاقوں سے لوگ یہاں آنے کیلئے دوسرے مقامات پر آتے ہیں، بنیادی

طور پر یہ دوسرے علاقوں کے سفر کیلئے پل کا کام کرتا ہے۔

تاریخی گذرگاہ مانسہرہ

خوبصورت شہر مانسہرہ بدقسمتی سے یہ ایک انتہائی خطرناک مقام پر واقع ہے

جو کئی قدرتی آفات کا شکار ہے، 2005ء کے زلزلے نے تقریباً پورا شہر تباہ کر

دیا تھا، اس آفت میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے، 2010ء کے سیلاب نے

بھی شہر کو بڑا نقصان پہنچایا، شہر کی بحالی کا کام متاثر ہوا جس سے بہت

سے لوگوں کی زندگیوں کو تاحال معمول پر لایا جا رہا ہے۔

=-،-= خیبر پختونخوا سے مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

زیادہ تر آبادی کی آمدنی کا ذریعہ زراعت ہے، باشندے اپنی اپنی زمین کے مالک

ہیں، زیادہ تر آبادی زمینداروں پر مشتمل ہے، جو سبزیاں و پھل اُگاتے ہیں، کچھ

لوگ سرکاری شعبے اور وہاں کام کرنیوالی دیگر نجی تنظیموں میں بھی نوکری

کرتے ہیں۔ مانسہرہ اپنی ماحولیات کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے، یہاں خوب

صورت درخت ہیں اور ہر طرف ہریالی ہے، زمین بھی مختلف جانوروں مثلاً

بندروں کی آما جگاہ ہے، لیکن بدقسمتی سے لوگ اپنے لیے کچھ مسائل پیدا کر

رہے ہیں، جس کی وجہ سے مقامی لوگ کاشت کاری کر رہے ہیں۔ درخت بڑی

تعداد میں کاٹے گئے ہیں، جس سے اس جگہ کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے،

=یہ بھی پڑھیں= ہزارہ ڈویژن کو درپیش مسائل کا احوال

ایک اور مسئلہ آبپاشی کا نہ ہونا ہے، جس کی وجہ سے مٹی مطلوبہ پیداوار نہیں

دے پا رہی، جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کیلئے

علاقے کا زیادہ تر انحصار بارش پر ہے۔

=-،-= مشہور کھیل، شندور میلہ اور سیاسی نظام

یہاں کے لوگ کھیلوں کے بھی دلدادہ ہیں، زیادہ تر کھیلے جانے والے کھیلوں

میں گھڑ سواری، پولو، شوٹنگ شامل ہیں، دیگر روایتی کھیل جو کبھی کبھار

کھیلے جاتے ہیں ان میں ریسلنگ، مرغوں کی لڑائی، رام کی لڑائی، کتوں کی

مدد سے شکار اور پیدل سفر شامل ہیں۔ پولو ایک روایتی کھیل ہے اور گرمیوں

کے وسط میں شندور میلہ دیکھنے کیلئے ملک و بیرون ملک سے سیاحوں کی

ایک بڑی تعداد یہاں آتی ہے- سیاسی نظام کسی نہ کسی طرح قبائل کے زیر تسلط

ہے اس وقت ان کا لوگوں پر بڑا اثر و رسوخ ہے، وہ ان قبائل کو ووٹ دیتے ہیں

جو بڑے معاملات پر حاوی ہوتے ہیں، اور ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں،

اس حقیقت کی وجہ سے کہ ان کا تعلق اسی جگہ سے ہے۔ نوکریاں دیتے وقت

بھی لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دی جاتی ہے، اس لیے وہ کسی نہ کسی طرح

معاشرے میں واپس لوٹ جاتے ہیں۔

=-،-= اہل علاقہ کو درپیش مسائل اور حکومت کی ذمہ داریاں

زندگی کے مختلف شعبوں میں کچھ مسائل موجود ہیں، جن میں خواتین کی تعلیم

کی شرح کا بہت کم ہونا ہے، جو ضلع کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ ہے، کیوں

کہ نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے، دوسری وجہ یہ علاقہ پسماندہ ہے۔ دیگر

اضلاع کے مقابلے میں بنیادی ضروریات زندگی کی پہنچ میں نہیں ہے، اس دور

میں بھی بجلی اور قدرتی گیس یہاں ناپید ہے، لوگ آگ جلانے کیلئے درخت

کاٹتے ہیں، جس سے جنگلات کی کٹائی ہوتی ہے، اورعلاقے کی خوبصورتی کو

خطرات لاحق ہیں۔ یہاں زیادہ یونیورسٹیاں بھی نہیں، لوگوں کو حصول تعلیم کے

لئے سیکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے، ایک اور بڑا مسئلہ خطے کی

غیر متوقع آب و ہوا ہے، قدرتی آفات کی وجہ سے پہلے بھی یہاں دو تین بار

بڑے پیمانے پر تباہی ہو چکی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسی آفات اور نقصان سے

بچنے کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

=-،-= خطے میں فروغ سیاحت کیلئے کرنے کے کچھ کام

مانسہرہ ہزارہ کی دوسری بڑی اجناس کی منڈی بھی بے، جس سے آزاد کشمیر

اور شمالی علاقہ جات کے لوگ مستفید ہوتے ہیں، یہاں کے لوگ بہت ملنسار

اور خوش اخلاق ہیں، سیاحت کے فروغ کے لئے حکومت کو ضلع میں ہنگامی

اقدامات اٹھاتے ہوئے بنیادی سہولیات پر تو جہ مزکور کرنا اور سیاحتی مقامات

کو مزید بہتر بنانا ہو گا، تاکہ سیاحت کو فروغ جو موجودہ پی ٹی آئی حکومت کا

موٹو بھی ہے، تاکہ یہاں آنیوالے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو کوئی پریشانی نہ

ہو، مختصر یہ کہ حکومت یہاں فروغ سیاحت کیلئے بنیادی سہولیات کیلئے مزید

ترقیاتی منصوبے شروع کرے، جس کے دو فوائد یقینی طور پر حاصل ہونگے،

اول اہل علاقہ کو روزگار کے مواقع، دوئم سیاحوں کی آمد میں اضافہ جس سے

قومی خزانے کو بھی مالی فائدہ میسر آئے گا- آخر میں ہم ملکی اور غیر ملکی

سیاحوں کو اس علاقے کی زندگی میں ایک بار لازمی سیر کرنے کی سفارش

بھی کرتے ہیں-

تاریخی گذرگاہ مانسہرہ ، تاریخی گذرگاہ مانسہرہ ، تاریخی گذرگاہ مانسہرہ

تاریخی گذرگاہ مانسہرہ ، تاریخی گذرگاہ مانسہرہ ، تاریخی گذرگاہ مانسہرہ

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply