گلگت بلستان، دیامیر اور داریل تانگیر میں تاریخی ست داس ثقافتی میلہ جاری

گلگت بلستان، دیامیر اور داریل تانگیر میں تاریخی ست داس ثقافتی میلہ جاری

Spread the love

گلگت بلتستان، چلاس (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ ) تاریخی ست داس ثقافتی میلہ

وادی گلگت بلتستان میں نو روزہ قدیم ست داس فیسٹول پوری آب و تاب سے جاری

ہے گا۔ ست داس میں اسوقت جنگل میں منگل کا سماں ہے۔ چاروں طرف پہاڑوں

میں گھرا یہ خوبصورت میدان لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شاہراہ قراقرم

سے چھے کلومیٹر دور شتیال کوہستان کے شمالی پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔

جب آپ ٹیلے کی چوٹی پر پہنچ جاتے ہیں، نیچے اس طلسماتی میدان کی جھلک

دکھائی دیتی ہے اور آپ کی زبان سے ازخود کلمہ تحسین نکلتا ہے۔ سواری سے

اتر آتے ہیں اور قدرت کی خوبصورتی دیکھ کر عش عش کر اٹھتے ہیں۔

==-== شتیال کوہستان کے شمالی پہاڑوں کے دامن میں وسیع ترین دلکش میدان

Satdas Festival of Gilgat Baltistan

میدان نیچے، آپ اوپر اور تاحد نگاہ پھیلا ہوا خوبصورت میدان پہلی بار دیکھنے

والا انسان مبہوت ہو کر رہ جاتا ہے۔ منظر اس قدر دلکش و دلفریب کہ انسانی آنکھ

سیر ہی نہیں ہوتی۔ کتنا بھی نظارہ کر لیں، بصارت پھر بھی تشنگی محسوس کرتی

ہے۔ یہ منظر ہی ایسا ہے۔ میدان کے ایک گوشے میں پولو گرانڈ ترتیب دیا گیا ہے

اور یہی وہ جگہ ہے جہاں پر سٹیج لگایا گیا ہے۔ والی بال، فٹبال اور کرکٹ کیلئے

الگ الگ گراؤنڈز مختص ہیں۔ یہ میدان اتنا وسیع ہے کہ بیک وقت درجنوں پولو،

فٹبال اور کرکٹ میچز کھیلے جا سکتے ہیں۔ مختلف اداروں نے اپنے اپنے بینرز

آویزاں کر رکھے ہیں جنہوں نے ست داس کے حسن کو دو بالا کر دیا ہے۔

==-== میلے میں فٹبال، والی بال، کرکٹ، رسہ کشی، گھر اورگدھا پولو شامل

نو روزہ ایونٹ میں مختلف کھیلوں کے مقابلے جن میں گلگت بلتستان کا مقبول

کھیل پولو، فٹبال، والی بال، کرکٹ، رسہ کشی، گدھا پولو وغیرہ شامل ہیں جاری

ہیں۔ پولو کی پچیس، فٹبال چوبیس، والی بال پچیس اور کرکٹ کی چھبیس ٹیمیں

ایونٹ میں حصہ لے رہی ہیں۔ پولو میں دیامیر کی بڑی بڑی ٹیمیں شامل ہیں۔ فٹبال

میں ایک ٹیم غذر سے آگئی ہے اور کرکٹ میں دیامیر اور کوہستان کی ٹیمیں شامل

ہیں۔ مختلف کھیلیں مختلف ادارے سپانسر کررہے ہیں۔ پولو کی سپانسرشپ این ایل

سی، والی بال محکمہ جنگلات، فٹبال ایس سی او، کرکٹ لوکل گورنمنٹ، رسہ کشی

محکمہ تعلیم اور گدھا پولو کی سپانسرشپ گلگت بلتستان پیٹرو گیس کر رہی ہیں۔

مذکورہ اداروں نے اپنی اپنی سپانسر کردہ ٹیموں کو ٹرافیاں، انعامات اور شرٹس

وغیرہ فراہم کی ہیں۔

==-== انٹرنیٹ سمیت میلے میں تمام تر بنیادی سہولتیں موجود

ایس سی او نے میدان میں چار عدد وائی فائی ڈیوائسسز لگا کر شائقین کو مفت

انٹرنیٹ سہولت مہیا کی ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں کی تعداد میں رضاکاروں کو

کیپ اور شرٹس فراہم کیے، یہ رضاکار ہر طرح کی خدمت بجا لانے کیلئے ہمہ

وقت کوشاں ہیں۔ ست داس میں شائقین کو ہر طرح کی سہولت بہم پہنچانے کیلئے

اعلی انتظام، طعام و قیام کا فقید المثال بندوبست کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی

جانب سے مہمان ٹیموں اور دور دراز سے تشریف لائے مہمانوں کیلئے زبردست

قسم کی خیمہ بستی قائم کی گئی ہے۔ علاج معالجے کیلئے ڈسپنسری کا بندوبست

بھی ہے جس میں پی پی ایچ آئی کی جانب سے چار ڈاکٹرز، چار نرسنگ سٹاف

اور پاک آرمی کی جانب سے ایک ڈاکٹر سمیت چار نرسنگ سٹاف متعین ہیں۔

==-== میلے میں وادی گلگت بلتستان کی تمام ثقافتی اشیاء کے سٹال قائم

گھوڑوں کی دیکھ بھال کیلئے محکمہ حیوانات کا چاق و چوبند عملہ معین ہے۔

ایونٹ کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر محمد زمان کی سرکردگی میں امن فانڈیشن داریل

اور عوامی ایکشن کمیٹی موضع گیال داریل کے عمائدین پوری دلجمعی اور لگن

سے مصروف کار ہیں۔ ست داس میلے میں وادی گلگت بلتستان کی تمام ثقافتی

اشیاء کے سٹال لگائے گئے ہیں۔ یہ میلہ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں سے

تعلق رکھنے والے لوگوں کو یکجا، ان میں ہم آہنگی پیدا کرنے، اتفاق و اتحاد اور

امن و آشتی کیلئے ممد و معاون ثابت ہوتا ہے اور اس میں شرکت کرنیوالے لوگ

محبتیں سمیٹ کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور سارا سال اس میلے کا انتظار کرتے

ہیں۔

==-== جو بھی یہاں آیا وہ یہیں کا ہو کر رہ گیا
———————————————————-

میلے سے دیامیر اور داریل تانگیر کا خوبصورت چہرہ ابھر کر دنیا کے سامنے آتا

ہے،ان علاقوں کے لوگوں کا اخلاق، بہادری، مہمان نوازی اور مثبت کردار سب

کے سامنے عیاں ہوتا ہے، بھلے ہی یہ باہمی رنجشیں و عداوتیں یہ لوگ پالتے ہیں

لیکن مہمانوں کے معاملے میں یہ متحد ہیں، انہیں اپنے سر پر بٹھاتے ہیں۔ یہی وجہ

ہے کہ غذر فٹ بال ٹیم کے میزبان تانگیر اور استور پولو ٹیم کی میزبانی ہوڈر کو

سونپی گئی ہے۔ جانے انجانے میں دیامیر بالخصوص داریل تانگیر کا ایک ڈراؤنا

اور بدنما چہرہ دنیا کو دکھانے کی سعی کی گئی، بدقسمتی سے اسے کامیابی بھی

ملی، لیکن مذکورہ علاقوں کا وہ حقیقی چہرہ نہ تھا، محض پروپیگنڈا تھا۔ جھوٹ

اور فریب تھا۔ الحمد للہ ، اب آہستہ آہستہ وہ کالک جو زبردستی لگائی گئی تھی،

دھل رہی ہے۔ جس جس نے بھی ان علاقوں کا رخ کیا، ان علاقوں کا ایک گھونٹ

پانی پیا اور ایک نوالہ روٹی اپنے معدے میں اتاری، وہ یہیں کا ہو کر رہ گیا۔

==-== ست داس میلہ شندور فیسٹیول سے آگے نکل جائیگا، ڈی جی بی اسکاؤٹس

ست داس میلے کی افتتاحی تقریب کے دوران عوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر

خوراک شمس لون نے پڑا داس میں گندم کا گودام تعمیر کرانے کا اعلان کیا۔ عوام

داریل کو خوشخبری سنائی کہ گندم 2017ء کی مردم شماری کے مطابق دستیاب

ہوگی۔ منتظمین ایونٹ کیلئے اپنی تنخواہ سے ایک لاکھ کا اعلان کیا۔ ڈی جی گلگت

بلتستان سکاؤٹس ضیاالرحمن نے ست داس کی خوبصورتی کی شاندار الفاظ میں

تعریف کی اور کہا فوج میں ایک لفظ بولا جاتا ہے دنیا کا میدان، واقعی میں نے

نیچے اترتے ہوئے دنیا کا میدان دیکھ لیا- وقت آنے پر ست داس میلہ شندور میلے

سے آگے نکل جائے گا۔

==-== یہ بھی پڑھیں: کوہستان دیامر کامیاب گرینڈ جرگہ، قبائل میں تنازع حل

انہوں نے مزید کہا سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اس کی بھرپور کوریج کرے

گا۔ یہ گمنام گوشہ ارضی ایک بار طشت ازبام ہوگا۔ ست داس نہیں دیکھا تو پھر کیا

دیکھا؟ دیر کس بات کی؟ آج ہی کمر کس لیں اور ایک بار قدرت کی اس عظیم

الشان صناعی کے درشن کرکے محظوظ ہو جائیں۔ انہوں نے چیف آرگنائزر ست

داس ایونٹ ڈاکٹر محمد زمان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا ایونٹ کو

جاندار، شاندار اور یادگار بنانے کیلئے ان کی نہایت جانفشانی اور عرق ریزی،

شبانہ روز انتھک کوششیں اس کا مظہر ہیں، یہ میلہ محض کھیل تماشا نہیں بلکہ

درحقیقت گلگت بلتستان کے عوام کو باہم متحد کرنے کیلئے ایک پل کا کردار ادا

کرتا ہے۔ افتتاحی تقریب میں رکن گلگت بلتستان اسمبلی حاجی رحمت خالق، معاون

خصوصی وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی حیدر خان بھی شریک ہوئے۔

=قارئین=: خبر اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

تاریخی ست داس ثقافتی میلہ

Leave a Reply