بے نامی جائیداوں کیخلاف کارروائی شروع ،پہلا شکار مسلم لیگ ن کے سینیٹر چوہدری تنویربن گئے

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بے نامی اثاثے

ظاہر کرنے کی ایمنسٹی سکیم کی مہلت ختم ہوتے ہی بے نامی جائیدادوں کو ضبط

کا عمل شروع کردیا۔وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ایسٹس ڈیکلیئریشن

اسکیم 2019 میں تین جولائی تک توسیع کی گئی تھی جس کی مدت دفتری اوقات

تک تھی۔ایف بی آر کی جانب سے ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد بے نامی جائیدادوں

کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے۔ایف بی آر نے دفتری اوقات کار ختم

چیئرمین ایف بی آر کا خط اور وزیراعظم کا اعلان

ہوتے ہی اثاثے ظاہر کرنے کا ویب پورٹل بھی بند کردیا ہے۔ایف بی آر) چیئرمین

شبر زیدی کا کہنا تھا کہ اثاثہ جات اسکیم سے ایک لاکھ 10 ہزار افراد فائدہ اٹھا

چکے ہیں اور مزید 25 ہزار افراد پائپ لائن میں ہیں۔ذرائع کے مطابق اثاثہ جات

اسکیم سے 70 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوچکا ہے، گزشتہ سال اسکیم سے 84

ہزار افراد نے استفادہ کیا تھا اور اس اسکیم سے 124 ارب 50 کروڑ روپے کا

ریونیو جمع ہوا تھا۔ایف بی آر کے مطابق بے نامی قوانین سے متعلق موثر نظام بن

چکا ہے اور یکم جولائی 2019 سے فعال ہے، ایف بی آر کی طرف سے ملک کے

10 بڑے شہروں میں بے نامی اثاثوں کیخلاف

ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ،ایف بی آرکو 40 لاکھ افراد کا ڈیٹا نادار سے موصول

کارروائی کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں ۔ ،ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے

والوں کی بے نامی اثاثوں کی ضبطگی کے نوٹس جاری کیے جائیں گے ۔ کراچی

لاہور فیصل آباد ملتان راولپنڈی گجرانوالہ اسلام اباد پشاور حیدرآباد اور سیالکوٹ

میں ٹیکس نہ دینے والوں کی فہرست تیار کرلی گئی ،پہلے مرحلے میں 10 بڑے

شہروں سے ٹیکس ادا نہ کرنے والے کم از کم 5 بڑے افراد کو گرفتار کرنے کی

تیاریاں مکمل کرلی گئیں ذرائع کے مطابق حکومت نے ٹیکس ادا نہ کرنے والے

افراد کیخلاف سخت کارروائی کی اجازت دے دی ہے ۔بے نامی جائیدادوں کیخلاف

کارروائی کا پہلا نشانہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدی تنویر بنے۔، ایف بی آر

کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویر کی راولپنڈی میں 6ہزار

کنال اراضی ضبط کرلی گئی، چوہدری تنویر نے بے نامی جائیداد اپنے ملازمین

کے نام پر رکھی تھی۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے مسلم لیگ (ن)کے

سینیٹر چوہدری تنویر کو نوٹس بھیجا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ

چوہدری تنویر نے راولپنڈی میں 6ہزار کنال اراضی اپنے ملازمین کے نام

کررکھی تھی،ملازمین میں عبدالعزیز، اظہر، موہن،معروف، شاہجہان بیگم اور

راجہ شکور شامل ہیں جبکہ ایف بی آر کی جانب سے سینیٹر چوہدری تنویر 6ہزار

کنال اراضی کوضبط کر لی گئی۔ ایف بی آر کے مطابق ٹھٹھ سیمنٹ میں

2کروڑ26لاکھ روپے المفتاح ہولڈرز نامی کمپنی کے نام ہیں جبکہ دوسری جانب

کراچی میں بھی بے نامی جائیدادوں کے خلاف کاروائی کا آغاز ہو گیا ہے، ایف بی

آر نے پلاٹ نمبر 18/2سول پلازہ انٹرپرائزز کے نام ہے، پلاٹ نمبر 126 ای سول

لائنز جو مارشل ہومز اینڈ بلڈرز کے نام ہیں، پلاٹ نمبر 122بلاک فائیو کلفٹن ندیم

احمد خان کے نام جبکہ ٹھٹھ سیمنٹ فیکٹری کے نام پر بھی بے نامی شیئرز سامنے

آئے ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق اسکائی پارک ہولڈنگ کمپنی کے نام سے ٹھٹھ

سیمنٹ کے بے نامی شیئرز ہیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply