بی بی سی نظریاتی تعصب ترک، اخلاقیات کی پیروی کرے، چین

بی بی سی نظریاتی تعصب ترک، اخلاقیات کی پیروی کرے، چین

Spread the love

بیجنگ (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) بی بی سی چین

چینی وزارت خارجہ کے شعبہ اطلاعات نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی

کے بیجنگ دفتر کیساتھ کوویڈ19- سے متعلق جعلی خبروں کا معاملہ سختی سے

اٹھا دیا۔ وزارت کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی نے 29

جنوری کو جعلی خبریں نشر کیں۔ بیان کے مطابق بی بی سی کی ویڈیو سے کوویڈ

19- کو سیاست زدہ کیا گیا، ایک بار پھر وباء اور وائرس کے ماخذ کو ” چھپانے”

کے موضوعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ بی بی سی نے انسداد دہشت گردی

مشقوں کے ایک ویڈیو کلپ کو چین کے وبائی روک تھام کے حکام کی جانب سے

” قانون پر تشدد نفاذ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ” کے حوالے سے خبری

کوریج کے طور پر نشر کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نظریاتی تعصب کیساتھ

جعلی خبر تھی جس کے حقیر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بی بی سی کی رپورٹ حقائق کے برعکس، ترجمان پاک فوج

چین نے بی بی سی اور اس کے بیجنگ آفس پر زور دیا ہے کہ وہ چین کے موقف

کو سنجیدگی سے لے اور اس رپورٹ کے خراب اثرات کو ختم کرنے کے لئے

سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔ بی بی سی اور اس کے بیجنگ دفتر کو جعلی خبروں پر

چین سے عام معافی مانگنی چاہئے، اپنے نظریاتی تعصب کو ترک اور جان بوجھ

کر چین پر الزام تراشی اور حملوں کو بند کرنا چاہئے۔ بی بی سی کو چاہئے کہ وہ

اخلاقیات کی پیروی کرتے ہوئے چین سے متعلق خبروں کو معقول، متوازن اور

منصفانہ انداز میں چلائے بصورت دیگر چین مزید اقدامات اٹھانے کا حق رکھتا

ہے۔

=—–= قارئین =-: ہماری کاوش پسند آئی ہو گی،اپ ڈیٹ رہنے کیلئے ہمیں فالو کریں

بی بی سی چین

Leave a Reply