بیگم نسیم ولی خان، خیبر پختونخوا کی آئرن لیڈی، کامیاب سیاستدان

بیگم نسیم ولی خان، خیبر پختونخوا کی آئرن لیڈی، کامیاب سیاستدان

Spread the love

(تحریر:— ابو بریکہ) بیگم نسیم ولی خان

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کی سوتیلی والدہ اور اے این پی

کے رہبر تحریک مرحوم خان عبدالولی خان کی بیوہ، بزرگ سیاستدان بیگم نسیم

ولی خان انتقال کر گئیں۔ 88 سالہ بیگم نسیم ولی خان کی موت تصدیق کرتے ہوئے

اہل خانہ نے بتایا مرحومہ شوگر اور عارضہ قلب میں مبتلا تھیں، جن کی نماز

جنازہ گزشتہ شام 6 بجے ولی باغ چارسدہ میں اداکی گئی اور اپنے آبائی قبرستان

میں سپرد خاک کر دیا گیا، حق مغفرت فرمائے۔

=-.-= خیبر پختونخوا سے منتخب ہونیوالی پہلی خاتون سیاستدان

بیگم نسیم ولی خان صوبہ خیبر پختونخوا سے منتخب ہونیوالی پہلی خاتون سیاستدان

تھیں، وہ ایک بار رکن قومی اسمبلی، 3 بار رکن صوبائی اسمبلی رہیں اورعوامی

نیشنل پارٹی کی سابق صوبائی صدر بھی تھیں۔ جنوری 1936 میں مردان پارہوتی

میں پیدا ہونیوالی بیگم نسیم ولی خان کی پیدائش و پرورش ایک قدامت پسند سیاسی

گھرانے میں ہوئی- 1975ء میں وہ اسوقت سیاست میں آئیں جب اُنکے شوہر اور

پشتون قوم پرست جماعت نیشنل عوامی پارٹی کے صدر ولی خان کو گرفتار کر لیا

گیا جبکہ اُسوقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اُن کی پارٹی پر پابندی عائد

کر دی-

=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں بیگم نسیم ولی خان نے این اے پی کی باگ

ڈور سنبھال لی، حیدر آباد جیل سے اپنے شوہر، اے این پی کے درجنوں ساتھیوں

کی رہائی کیلئے ایک کامیاب مہم چلائی۔ سیاست کے ابتدائی دنوں ہی میں بیگم ولی

نے اسوقت ایک نئی تاریخ رقم کی جب وہ 1977ء کے عام انتخابات میں چارسدہ

اور مردان کے قومی اسمبلی ( این اے 4 اور این اے 8 ) کے حلقوں پر بیک وقت

رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ تاہم انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف

نہیں اٹھایا کیونکہ اسوقت این ڈی پی کی تحر یک زوروں پر تھی اور مارشل لاء

نافذ کیا گیا تھا۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

1986ء میں اے این پی کی بنیاد رکھی گئی تو خان عبدالولی خان مرکزی صدر

جبکہ افضل خان لالا صوبائی صدر منتخب ہوئے۔ 1994ء میں وہ پہلی بار عوامی

نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کی صدر منتخب ہوئیں، 1998ء میں ایک بار پھر

صوبائی صدر منتخب کی گئیں۔ پارلیمانی انتخابات میں پہلی بار انہوں نے 1988ء

میں چارسدہ پی ایف 13 سے، 1990ء میں بھی پی ایف 13، 1993ء میں پی ایف

15 سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ 1997ء میں پی ایف 15 چارسدہ سے

خیبر پختونخوا اسمبلی ( اس وقت کی سرحد اسمبلی ) کی رکن منتخب ہوئیں۔ وہ چار

مرتبہ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی پارلیمانی لیڈر بھی رہی ہیں۔ بیگم نسیم ولی

خان 1990ءاور 1997ء کے دوران صوبائی اسمبلی میں پارٹی کی پارلیمانی لیڈر

اور قائد حزب اختلاف بھی رہیں۔

=-.-= انتخابی عمل میں خواتین کی شمولیت کی مضبوط حامی رہیں

بعض سیاسی اختلافات کی وجہ سے بیگم نسیم ولی نے 2014ء میں عوامی نیشنل

پارٹی (ولی) کے نام سے اپنی سیاسی جماعت کا آغاز کیا، وہ اپنی پارٹی بنانے

والی چارسدہ کی پہلی پختون ہیں، وہ ہمیشہ انتخابی عمل میں خواتین کی سیاسی

شمولیت کی مضبوط حامی رہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتی تھیں کہ خواتین کو

سیاست میں ضرور حصہ لینا چاہئے کیونکہ وہ معاشرے کا بڑا حصہ ہیں۔ خواتین

کو نظرانداز کرنا معاشرے کی اکثریت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ اپنے

کثیر جہتی (متنازع یا غیر متنازع) سیاسی کردار کے باوجود بیگم نسیم ولی خان

کی شخصیت کے کئی ایسے پہلو ہیں جس کے باعث قومی سیاست میں انھیں تادیر

یاد رکھا جائے گا۔

بیگم نسیم ولی خان

Leave a Reply