new zara meri bhi suno1

بیماریوں کے اسباب کے خاتمے کیلئے ٹیکس کا نفاذ ضروری قرار

Spread the love

راولپنڈی (جے ٹی این آن لائن ذرا میری بھی سنو) بیماریوں کے اسباب

ہیلتھ سروسز اکیڈیمی اسلام آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹرشہزاد علی خان کی

سربراہی میں دوروزہ ” گیارہویں سالانہ پبلک ہیلتھ کانفرنس ” کا اہتمام کیا گیا

جس میں پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن

نے پناہ کی نمائندگی کی، کانفرنس میں پناہ، ڈبلیو ایچ او اورمنسٹری آف نیشنل

ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کواڈینیشن کے اشتراک سے” Dietary Risk

Factors & NCDs ” کے عنوان پر ایک معلوماتی سیشن کا انعقاد کیا گیا،

پاکستان میں عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) کے منتظم نے بطور مہمان

خصوصی شرکت کی، اس موقع پر ان کے ہمراہ منسٹری آف ہیلتھ سے ڈاکٹر

بصیر خان اچکزئی، ڈاکٹر خواجہ مسعود احمد، پروفیسر عبدالحمید صدیقی،

نیوٹریشن، فوڈ سیفٹی اینڈ انوائرمنٹ ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر نورین علیم نشتر، کنسلٹنٹ

فوڈ پالیسی پروگرام منورحسین، ہارٹ فائل سے ڈاکٹر صبا امجد اور دیگرنے

خصوصی شرکت کی، سیشن کا آغاز تلاوت قرآ ن پاک سے ہوا۔

=-= ذرا میری بھی سنو کے عنوان تحت پڑھیں مزید ( =-= سٹوریز =-= )

ابتداء میں پناہ کے جنرل سیکرٹری ثناء اللہ گھمن نے بطور میزبان سیشن کے

شرکاء کو بتایا کہ پناہ کی بنیادی 1984ء میں ایف آئی سی میں رکھی گئی، جس

کے قیام کا مقصد عوام کو دل کے امراض سے متعلق آگاہ کرنا ہے، تاکہ وہ جاں

لیوا امراض سے بچ سکیں، ان کا کہنا تھا کہ دل کے امراض پر اس وقت تک قابو

پانا ممکن نہیں، جب تک ان کی وجہ بننے والے عوامل تمباکو نوشی، میٹھے

مشروبات ( ایس ایس بی )، مرغن غذا کا استعمال ختم نہیں کر دیا جاتا، دل سمیت

مہلک امراض کی ایک بڑی وجہ تمباکو نوشی اور میٹھے مشروبات ( ایس ایس

بی ) کا استعمال ہے، جس کی روک تھام کے لئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ملک

کی معشیت پر بیماریوں کے بوجھ میں مزید اضافہ ہو گا۔

=–= صحت سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

سیشن میں شریک شرکاء کا کہنا تھا کہ پناہ ملکی ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر

پذیرائی حاصل کرنے والی تنظیم ہے، منسٹری آف ہیلتھ پناہ کی خدمات کا اعتراف

کرتی ہے، پناہ کا مزید تعاون درکار ہے، تاکہ غیر مواصلاتی امراض ( این سی

ڈیز ) پر قابو پایا جا سکے، شرکاء کا کہنا تھا کہ میٹھے کا کثرت سے استعمال

دل، موٹاپا، ذیابیطس، کینسر سمیت متعدد امراض کی وجہ ہے، جن کی کھپت کم

کرنے کے لئے ٹیکس ایک موثرذریعہ ہے، ہم چلی، آسٹریلیا، میکسیکو، ساؤتھ

افریقہ اور دیگر ممالک کی سٹیڈیز کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ انھوں نے جب

میٹھے مشروبات ( ایس ایس بی ) پرٹیکس نافذ کیا تو اس کے نتیجے میں موٹاپا

سمیت دیگرامراض میں نہ صرف کمی واقع ہوئی، بلکہ ریونیو میں بھی اضافہ

ہوا، جس کی مدد سے ہیلتھ برڈن بھی کم ہوا۔ سیشن کے اختتام پرمہمانان گرامی

کو اعزازی شیلڈز سے بھی نوازا گیا۔

بیماریوں کے اسباب ، بیماریوں کے اسباب ، بیماریوں کے اسباب

بیماریوں کے اسباب ، بیماریوں کے اسباب ، بیماریوں کے اسباب

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply