بیل آئوٹ پیکیج یا مہنگائی کا پروانہ

Spread the love

(تجزیہ ۔۔۔۔ عباس تبسم)

پاکستانی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بیل آئوٹ پیکیج کے معاہدے کے

لئے معاملات حتمی مراحل میں داخل ہو گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف کا

پاکستان کے لئے 6سے 8ارب ڈالرکا پیکیج 3سال کے لئے ہو گا۔ اسی ماہ کے آخر

تک یا مئی کے شروع میں آئی ایم ایف کا وفد پیکیج کو فائنل کرنے کے لئے

پاکستان آئے گا اور 15مئی سے پہلے پہلے اس معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔

حکومت اگلا وفاقی بجٹ اسی پیکیج کو سامنے رکھ کر بنائے گی۔ حکومت کی

طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو

پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اس کی تفصیلات طے کرنے کے لئے وفاقی وزیر

خزانہ اسد عمر نے امریکہ کا دورہ کیا جہاں عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بینک

اور آئی ایم ایف کے عہدیداروں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ آئی ایم ایف سے پاکستان کے

لئے پیکیج حاصل کرنے کی خاطر وزیرخزانہ نے امریکی حکام سے بھی ملاقاتیں

کیں، جس کے بعد پاکستان کے لئے یہ پیکیج ممکن ہو سکا اور اس میں حائل

رکاوٹیں دور ہوئیں۔

عالمی مالیاتی فنڈ سے معاہدے کے بعد پاکستان کو عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی

بینک سے بھی فنڈز ملنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ عالمی بینک اور ایشیائی

ترقیاتی بینک کے سربراہوں نے بھی وزیر خزانہ کو یقین دہانی کرائی کہ آئی ایم

ایف کے پیکیج کے بعد وہ بھی پاکستان کے بند کئے گئے قرضے کے پروگرام

بحال کر دیں گے۔ ان اداروں سے فنڈز بحال ہونے اور عالمی مالیاتی فنڈز سے

پیکیج ملنے کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو کم ہو گا اور اس سے

پاکستان میں کیپٹل مارکیٹ کی صورت حال بھی بہتر ہو گی اور ملکی معیشت

استحکام کی طرف قدم بڑھائے گی۔

ان اداروں سے مذاکرات کے بعد وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ معیشت کو

مشکل صورت حال سے نکال لیا گیا ہے۔ اب اسے مستحکم بنانے کا عمل شروع کر

رہے ہیں۔ وزیرخزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تفصیلات

اور آئی ایم ایف کی شرائط کے حوالے سے تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

وزیرخزانہ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ مہنگائی کے باعث عام آدمی کی حالت بہت

خراب ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اتنا بڑا معاشی بحران پاکستان میں پہلے کبھی

نہیں آیا نہ ہی ملکی تاریخ میں اس سے پہلے اتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا

ہے۔ وزیرخزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا وفد پاکستان آئے گا تو اس کے ساتھ

ٹیکس وصولیوں، نئے شعبوں پر ٹیکس لگانے ، نئی ایکسچینج ریٹ پالیسی، بجلی

اور گیس کے نرخوں اور سبسڈی کے بارے میں معاملات طے کئے جائیں گے۔

اگرچہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ آئی ایم ایف کا پیکیج لینے اور عالمی مالیاتی

فنڈ کی شرائط سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ نہیں ہو گا،مگر یہ صرف

الفاظ کی مرہم دکھائی دے رہی ہے۔ واشنگٹن میں اپنی پریس کانفرنس میں وزیر

داخلہ نے خود فرمایا تھا کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر اور روپے کی قدر

کم کرکے ہم نے آئی ایم ایف کی شرائط پہلے ہی پوری کر دی ہیں۔ اس کے

برعکس جب بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھائی گئیں اور روپے کو ٹکے ٹوکری کیا

گیا تو وزیر خزانہ سمیت پوری حکومتی مشینری اس کا سارا ملبہ سابق حکومتوں

پر ڈالتی رہی۔

آئی ایم ایف اب خسارہ کم کرنے، ٹیکس وصولیاں بڑھانے، نئے شعبوں پر ٹیکس

لگانے، بجلی اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھانے اور مختلف شعبوں میں دی جانے

والی سبسڈی ختم کرنے کے اپنے موقف پر سختی سے قائم ہے اور حکومت کو یہ

مطالبات تسلیم کرنا ہی پڑیں گے، جس سے مہنگائی کے ایک نئے طوفان کے

امکانات ہیں۔ دوسری طرف چیئرمین اوگرا نے بتایا ہے کہ گیس کی قیمت 75 سے

80فیصد بڑھانے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ 20 مئی تک قیمتیں بڑھا دی

جائیں گی اور اس کا اطلاق یکم جولائی یعنی نئے بجٹ سے ہو گا۔ بظاہر گیس کی

قیمتوں میں یہ اضافہ بھی آئی ایم ایف کی شرائط کا حصہ ہے۔ چیئرمین اوگرا

عظمیٰ عادل نے یہ توجیح پیش کی کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے گیس کی قیمتیں

بڑھانا پڑ رہی ہیں۔ اوگرا یکم جولائی سے گیس کی قیمتیں بڑھانے کی سمری

ارسال کرے گی۔ اس سے پہلے اکتوبر میں بھی گیس کی قیمتوں میں 143فیصد تک

اضافہ کیا جا چکا ہے۔

8ماہ قبل جب تحریک انصاف کی موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو اس وقت بھی

ملک معاشی بحران کا شکار تھا۔ حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی

بجائے دوست ممالک کا سہارا لیا اور چین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب

سے اب تک تقریباً 11 ارب ڈالرقرضہ حاصل کر چکی ہے، مگر یہ 11ارب ڈالر

خرچ کرنے باوجود معاشی بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ معیشت کا نقصان کرنے

کے بعد حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ معاشی ماہرین کا

کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ اگر حکومت گزشتہ سال اگست

ستمبر میں کر لیتی تو اس کے لئے صورت حال اس سے بہتر تھی، کیونکہ اس

وقت نئی پارٹی کی حکومت آئی تھی اور نئے حکمران نئے ویژن کے ساتھ

برسراقتدار آئے تھے جبکہ نئی حکومت کی ساکھ بھی موجودہ وقت سے بہتر تھی

مگر اس وقت حکومت نے آئی ایم ایف کا پیکیج حاصل نہ کرکے غلطی کی۔ یہی

پیکیج اگر حکومت اس وقت حاصل کر لیتی اور دوست ممالک سے ملنے والے

11ارب ڈالر بھی اسے ملتے تو تقریباً 19ارب ڈالر حکومت کو مل جاتے جس سے

حکومت معاشی بحران پر آسانی سے قابو پا سکتی تھی اور اب تک معاشی حالات

بہت بہتر ہوجاتے۔ ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کا پیکیج لینے کے جہاں فائدے

ہیں وہاں اس کے نقصانات بھی ہیں۔ پاکستان نے 1970ء کی دہائی میں آئی ایم ایف

سے پہلی بار قرض لیا تھا۔ اس کے بعد آنے والی ہر حکومت نے قرضے کی

شراب چکھی صرف جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے

قرضہ نہیں لیا، کیونکہ افغان جنگ اور امریکی امداد کے باعث پاکستان کو آئی ایم

ایف کے قرضے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔

آئی ایم ایف جب کسی ملک کو قرضہ دیتا ہے تو سب سے پہلے سبسڈی کے خاتمے

کا مطالبہ کرتا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے والی تمام پاکستانی حکومتوں نے

اپنے اپنے دور میں کچھ شعبوں میں سبسڈی ختم کی یوں جس شعبے میں سبسڈی

ختم کی گئی اس کی قیمتیں بڑھ گئیں، اس بار موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے

پاس جانے سے پہلے گیس اور بجلی پر سبسڈی کم کر دی جس کے باعث قیمتیں

بڑھیں۔ امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے نتیجے

میں بجلی، پٹرول اور وسری اشیاء پر سبسڈی مزید کم کرنا ہو گی۔

آئی ایم ایف کا یہ بھی مطالبہ ہوتا ہے کہ سرکاری اخراجات میں کمی کے ذریعے

ادائیگیوں کا توازن بحال کیا جائے اس چکر میں آئی ایم ایف حکومتوں کو خرچ

کرنے میں اتنی احتیاط برتنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ مالیاتی نظام پر جمود

طاری ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ ترقی کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ ماہرین کو یقین

ہے کہ اس بار بھی ایسا ہی ہو گا اور گزشتہ سال 5فیصد سے زیادہ شرح نمود

والی معیشت کی شرح نمو آئی ایم ایف کی شرائط کے چکر میں 4فیصد سے بھی

کم ہو جائے گی۔ جب معیشت کی رفتار سست ہوتی ہے تو بیروزگاری میں اضافہ

ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف کو ایک مسئلہ پاکستانی روپے کی قدر کے ساتھ ہے۔ آئی ایم

ایف کا ہمیشہ یہ اصرار رہا ہے کہ پاکستانی کرنسی فطری سطح سے زیادہ مہنگی

ہے، لہٰذا اس کی قیمت کم کی جائے اس بار حکومت نے جب سے آئی ایم ایف کے

پاس جانے کا فیصلہ کیا ، روپے کی قدر میں 19فیصد کمی ہو چکی ہے اور آئی ایم

ایف کا یہ مطالبہ بھی تسلیم کر لیا ہے کہ کرنسی ایکسچینج ریٹ میں حکومت

مداخلت نہیں کرے گی۔ روپے کی قدر کم ہونے سے افراط زر بڑھتا اور مہنگائی

میں اضافہ ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے نقصانات کی فہرست طویل

ہے جس میں عوامی منصوبوں کے لئے رقم دستیاب نہ ہونا، ٹیکسوں میں اضافہ،

شرح سود میں اضافہ، قرضوں کے حصول میں مشکلات اور سرکاری ملازمین کی

مراعات میں کمی شامل ہے۔

Leave a Reply