بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پراجیکٹ، امریکہ کا چین کو بدنام کرنا غلط، دی ڈپلومیٹ

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پراجیکٹ، امریکہ کا چین کو بدنام کرنا غلط، دی ڈپلومیٹ

Spread the love

واشنگن (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) بیلٹ اینڈ روڈ انیشیایٹو

امریکہ کو چین کے مجوزہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ( بی آر آئی ) میں شامل ملکوں

کو چین کی جانب سے قرض دینے پر بدنام نہیں کرنا چاہئے اور اس کی بجائے

اسے غریب ممالک کو ڈھانچے کیلئے قرض دینے کی پیشکش کرنی چاہئے۔ دی

ڈپلومیٹ میگزین میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو

چاہئے کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل ممالک کو قرض دینے پر چین کو بدنام

کرنے کی بجائے غریب ممالک کو ڈھانچے کیلئے قرض دینے میں مصروف ہو

جائے اور کثیرالجہتی بینکوں کیلئے بیوروکریٹک ضروریات کم کر کے ایسے

منصوبوں کیلئے قرض دینا آسان بنا دے۔

=-= ایسی ہی مزید معلومات پر مبنی خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

مضمون میں کہا گیا ہے کہ کچھ عناصر کی جا نب سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو

بار بار ” ایک قرض کا جال اور طاقت کا حصول ” قرار دیا گیا لیکن محتاط تحقیق

میں اس کی تردید کی گئی۔ مضمون میں جانز ہوپکنز یونیورسٹی میں چین، افریقہ

تحقیقاتی انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر ڈی بوراہ برا تیگام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ

ایسے شواہد نہیں ملے کہ چینی بینکوں نے ان ممالک میں قدم جمانے کیلئے نقصان

کے حامل منصوبوں پر سرمایہ کاری کیلئے زائد قرض دیا ہو۔ مضمون میں کہا گیا

ہے کہ مزید شواہد کے مطابق چین قرض کے جال کی سفارتکاری میں ملوث نہیں

ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ صرف غربت کا شکار ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک نے

بھی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا-

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو نہ صرف افریقہ، لاطینی امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیاء

میں بلکہ مشرقی ایشیاء اور یورپ میں بھی پہنچ گیا ہے۔ دریں اثنا مضمون میں

نشاندہی کی گئی کہ چین کا مجوزہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو امریکہ کیلئے خطرہ

نہیں ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشیایٹو

Leave a Reply