بیرون ملک جائیداد کیس، علیمہ خان کو 2 کروڑ 95 لاکھ روپے جمع کرانے کا حکم

Spread the love

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق کیس میں وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو اپنے ذمے 2 کروڑ 95 لاکھ روپے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بیرون ملک اکاؤنٹس اور جائیدادوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس موقع پر علیمہ خان اور ان کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجا پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے علیمہ خان سے استفسار کیا آپ نے کتنے کی پراپرٹی خریدی ہے جس پر انہوں نے بتایا 3 لاکھ 70 ہزار ڈالر کی پراپرٹی خریدی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ نے پراپرٹی کب خریدی جس پر علیمہ خان نے بتایا پراپرٹی 2008 میں خریدی اور2017ء میں فروخت کردی، چیف جسٹس نے سوال کیا یہ سارا پیسہ آپ کا تھا جس کی تفصیلات بتاتے ہوئے علیمہ خان نے کہا دبئی بینک سے 50 فیصد قرضہ لیا اور 50 فیصد ہمارے اپنے پیسے تھے۔علیمہ خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے اس موقع پر کہا کہ بینک ٹرانزکشن اور اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں جمع کرا دی ہیں ۔اس موقع پر علیمہ خان کے ٹیکس کے معاملات کی تحقیقات کرنے والے کمشنر ان لینڈ نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے دستاویزات کے تحت جو تخمینہ لگایا ہے اس کے مطابق علیمہ خان کو 2 کروڑ 95 لاکھ روپے کا ٹیکس جمع کرانا ہوگا۔۔عدالت نے قرار دیا کہ علیمہ خان کو اپیل کا حق حاصل ہوگا تاہم اس سے پہلے انہیں ٹیکس کی رقم جمع کرانا ہوگی، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اگر ادائیگی نہیں ہوئی تو ایف بی آر علیمہ خان کی جائیداد ضبط کرلے۔عدالت نے کہا کہ علیمہ خان چاہیں تو ایف بی آر حکام کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکتی ہیں تاہم اپیل میں جانے سے پہلے 29 اعشاریہ 4 ملین روپے جمع کرانے ہوں گے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایف آئی اے کو لاہور کے بزنس مین وقار احمد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی اور مکالمے کے دوران کہا کہ آپ ثابت نہیں کرسکے رقم کیسے ملک سے باہر لے کر گئے۔چیف جسٹس نے وقار احمد کو ہدایت کی کہ 60 ملین روپے جمع کرائیں اس موقع پر وقار احمد کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل کی طرف سے جو رقم بنتی ہے وہ دینے کیلئے تیار ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ پاکستان سے پیسہ نکال کر گئے تھے، جو جائیداد تسلیم نہیں کر رہے ان کے کیسز ہمارے سامنے لائیں، دیکھیں گے وہ جائیداد کیسے تسلیم نہیں کرتے۔ عدالت نے ایک ماہ میں پیشرفت رپورٹ بھی طلب کرلی۔

Leave a Reply