بیجنگ نے کھانے کاضیاع روکنے کے ضابطے پرعملدرآمد شروع کردیا

Spread the love

بیجنگ کھانے کاضیاع

بیجنگ(جے ٹی این آن لائن نیوز) چائنہ ڈیلی نے بلدیہ قانون سازکی جانب سے منظور کئے جانے

والے ضابطہ کے حوالے سے رپورٹ کیاہے کہ بیجنگ میں زائد کھانا منگوانے کیلئے صارفین کی

حوصلہ افزائی کرنے،گمراہ کرنے یا مجبورکرنے پر کھانے کی خدمات فراہم کرنے والوں کو10ہزار

یوآن(تقریبا1570امریکی ڈالرز) تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ضابطے کا مقصد کھانے کا

ضیاع روکنا اور سادہ، سبز اورکم کاربن والے طرز زندگی کو فروغ دینا ہے،گزشتہ ہفتے بلدیہ قانون

ساز کے اجلاس میں منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد شروع ہوگیا۔نئے قانون کے مطابق کھانے کی

خدمات فراہم کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ کھپت کی کم سے کم مقدار مقرر نہ کر یں اور خدمات کی

اشیا اور نرخ کا معیار واضح طورپر بیان کریں ۔اس میں کہا گیا ہے کہ ترسیلی پلیٹ فارمز کو چاہیئے

کہ وہ صارفین کو کھانے کی مناسب مقدار کا آرڈر دینے کی یاد دہانی کروائیں۔کھانے کی خدمات فراہم

کرنے والے جو آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے کھانے کی ترسیل کرتے ہیں،انہیں چاہیئے کہ وہ کم

کھانے کو فروغ دینے یا کھانے کے انتخاب کیلئے ویب سائٹس پر ضروری معلومات فراہم کریں۔جو

اس ضابطے کی خلاف ورزی کریں گے یا اپنے رویہ کی اصلاح کرنے سے انکار کریں گے انہیں

1ہزارسے 10 ہزار یوآن تک جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا۔چینی قانون سازوں نے اپریل میں خوراک کا

ضیاع روکنے کاقانون اپنانے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یہ قانون کھانے کاضیاع روکنے کیلئے ایک

طویل المدتی طریقہ کار کے قیام میں مدد کیلئے تیار کیا گیا ہے ،یہ قومی غذائی تحفظ کی حفاظت کو

یقینی بنانے کے لئے بہت ضروری ہے۔

بیجنگ کھانے کاضیاع

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply