بیت الخلاءجانے پر بھی ملازمین کی برطرفی ۔۔؟

Spread the love

(خصوصی رپورٹ، جے ٹی این آن لائن)
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے پاکستان میں کپڑوں کی فیکٹریوں میں کام کرنےوالے مرد و خواتین کو لیبر کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔گزشتہ روز جاری کردہ رپورٹ میں ہیومن رائٹس کے مطابق صورتحال اس قدر خراب ہے کہ اگر کوئی ملازم اپنے بنیادی حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے بیت الخلاءجانے کا بھی پوچھ لے تو نوکری سے فارغ سمجھا جاتا ہے۔مزدوروں کے حقوق سے متعلق ہونےوالی ناانصافیوں پر ہیومن رائٹس واچ کی اس رپورٹ میں کپڑوں کی فیکٹریوں میں کام سے متعلق خراب صورتحال پر تفصیل سے لکھا گیا ہے جس میں 42 لا کھ افراد ملازمت کرتے ہیں جس کی تعداد کسی بھی شعبے میں سب سے زیادہ ہے، مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک حد فیکٹری کے ملازموں کی زندگی کو متاثر کرتی ہے اور ان کی حالت زار ملک کی حکمران اشرافیہ کے سیاسی ایجنڈے سے دور رہتی ہے۔رپورٹ میں کراچی، لاہور اور حافظ آباد میں 24 فیکٹریوں سے 140 لوگوں کے سروے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ملازمین میں سے بیشتر خواتین نے بتایا ان کےساتھ بدزبانی کی جاتی ہے اور دباﺅ ڈالا جاتا ہے کہ بیت الخلاءنہ جائیں، یہاں تک کہ صاف پانی پینے سے بھی انکار کر دیا جاتا ہے ۔کراچی میں گھریلو برانڈ کی مینوفیکچرنگ کی سہولیات تیار کرنےوالی فیکٹری کے ایک ملازم نے بتایا اوور ٹائم کام نہ کرنے کی وجہ سے مجھے گزشتہ اتوار نوکری سے نکال دیا گیا۔عالمی انسانی حقوق کی تنظیم کے پاس دو فیکٹریوں میں منیجرز کی جانب سے ملازمین کو مارنے سے متعلق دستا و یزات بھی موجود ہیں۔سروے کے نتائج سے یہ بات اخذ کی گئی ہے کہ فیکٹری مالکان اپنے ملازمین سے توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں جبکہ مختص کی گئی کم از کم اجرت اور پنشن بھی ادا نہیں کرتے۔ یہ فیکٹریاں ملازمین سے زبردستی اوور ٹائم کام کرواتی ہیں جبکہ کام کے دوران مناسب وقفہ بھی نہیں دیا جاتا۔ اس کےساتھ بیماری پر دی جانےوالی چھٹیاں اور پیڈ میٹرنٹی کے قوانین کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ مزدوروں کے حقوق کےلئے آواز اٹھانے والی لیبر یونینز کےخلاف بھی کارروائی کی جاتی ہے۔حالیہ برسوں میں پاکستانی گارمنٹس کے ملازمین ہڑتالوں اور مظاہروں کے ذریعے اپنی سنگین شکایات کا اظہار کر چکے ہیں۔دسمبر 2018 میں کپڑوں کی فیکٹریوں کے ملازمین نے لاہور میں پاکستان کے ایک بڑے برانڈ کے تحت چلنے والے ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے باہر مظاہرہ کیا اور کہا حکومتی مراعات پروگرام نہ ملنے سے ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی۔ ملازمین نے الزام عائدکیاتھا ٹریننگ انسٹیٹیوٹ نے اپنے ادارے کو فیکٹری کی طرح چلایا اور ٹرینیز سے مفت مزدوری کروائی۔ دسمبر 2017 میں ایک معروف پاکستانی ملبوسات کی برانڈ کھاڈی کےخلاف بھی ملازمین نے مظاہرے کیے تھے۔ کمپنی سے نکالے گئے 32 ملازمین کا مطالبہ تھا انہیں پاکستانی قوانین کے مطابق حقوق دیئے جائیں۔ستمبر 2012 کراچی میں علی انٹرپرائزز گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی کے باعث 255 ملازمین جاں بحق اور 100سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ تحقیقات میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ فیکٹری میں آگ اور حفاظت کا کوئی نظام موجود نہیں۔ زندہ بچنے والوں نے اطلاع دی تھی کہ انتظامیہ نے ملازمین کو بچانے کےلئے کوئی فوری اقدامات نہیں کیے بلکہ سب سے پہلے اپنے سامان کو بچانے کی کوشش کی۔یہاں تک کہ اس سانحہ کے بعد بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے اور قومی سطح پر بھی مزدوروں کے حقوق پر اتفاق رائے نہیں کیا گیا۔حکومت کے لیبر انسپیکشن سسٹم میں مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے حکومت ایسے قوانین کو نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے جو لاکھوں ملازمین کو لیبر کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بچاسکتی ہے۔ پاکستانی حکام کو لیبر انسپکشنز میں بہتری لانی چاہیے اور خلاف ورزی کرنےوالی فیکٹریوں کا منظم طور پر احتساب کرنا چاہئے۔ہیومن رائٹس واچ میں ایشیاءکے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمزکے مطابق پاکستان کی حکومت نے طویل عرصہ سے گارمنٹس ملازمین کے حقوق کی حفاظت کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو چاہئے ملک میں لیبر قوانین کو جلد نافذ کروائیں اور ملازمین کی حفاظت کےلئے نئی پالیسی لے کر آئیں۔

Leave a Reply