142

بھرپور ازدواجی زندگی کے7 نئے طبی نکات سامنے آ گئے

Spread the love

(تحریر:… ڈی آر ایس) بھرپور ازدواجی زندگی

یورپی محققین نے شادی شدہ جوڑوں پر طویل تحقیق کے بعد پتہ چلایا ہے کہ شادی شدہ جوڑے کو ہنی مون کے بعد ایک سال تک ہی پر لطف ز ندگی گزارنے کا موقع ملتا ہے اس کے بعد بچوں کی پیدائش، کام کاج اور دیکھ بھال کے باعث ملاپ کا لطف کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یورپی محققین نے اس کا حل نکالتے ہوئے سات نسخے بتائے ہیں،اگر ان پر عمل کیا جائے تو زندگی میں بھرپور تبدیلی کا احساس ہو گا۔

مزید پڑھیں

Couple are enjoying the Kissing

محققین کے مطابق

1) میاں بیوی کوایک ساتھ ہیجان انگیز فلموں کا سہارا لینا چاہئے اور مختلف سٹائلز پر آپس میں بحث کرنی چاہئے۔

2) شوہر کو بیوی سے جدائی کی صورت میں مشت زنی کا سہارا بھی لینا چاہئے،اس سے اس کا ڈپریشن خاصا کم ہو گا اور طبیعت میں بھی روانی آئیگی اور از سر نو جوانی آئے گی۔

3) میاں بیوی کو پاس آنے سے قبل اپنے لباس کو خوبصورت اور سیکسی بنانا چاہئے،بیوی تنہائی میں انتہائی مختصر لباس پہنے جبکہ شوہر صرف انڈر ویئر پہنے۔

4) شوہر کو چاہئے کہ بیوی کو ”گرم“ رکھنے کےلئے اسے دن میں 3 سے 4 مرتبہ سیکسی قسم کے میسج بھیجے تا کہ ملاپ کے وقت دونوں ذہنی طور پر پہلے سے تیار ہوں۔

5) میاں بیوی کوروانی کیلئے بیڈ روم سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہئے،بیڈ کی بجائے کچن یا پھر ٹیرس یا ٹی وی لاﺅنج کا رخ کرنا چاہئے،یا پھر صوفے پر ہم بستری کرنی چاہئے۔بیڈ پر لگے رہنے سے یکسانیت پیدا ہوتی ہے جس کے باعث بوریت ہونے لگتی ہے ۔

6) میاں بیوی کو ملاپ کیلئے ہمیشہ رات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے،جو دن میں ہم بستری کرتے ہیں انہیں بھی اپنے وقت میں تبدیلی لانی چاہئے،اس سے جسم کے اجسام اچانک تبدیل ہو جاتے ہیں اور ہم بستری میں نیا لطف آئے گا۔

7) میاں بیوی کو ہمیشہ ایک ہی سٹائل پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے،شوہر کو چاہئے کہ وہ سٹائل میں جدت لا کر اپنے ساتھی کو بھی اس کا عادی بنائے ۔

— شیخوجی کا تبصرہ اور مشورہ —

کیا زمانہ آ گیا یارو ۔۔ ازدواجی زندگی ہم بھی گزاررہے ہیں مگر ایسے چونچلوں کی ہمیں تو مجال ہے جو کبھی ضرورت پیش آئی بھی ہو-

پوچھو بھلا کیوں؟

1) ۔۔۔۔۔ دین اسلام میں میاں بیوی کا رشتہ صرف جسمانی نہیں روحانی بھی ہے ۔

2)۔۔۔۔۔ ایسی کمزور ذہنیت کے شوہر یورپ میں تو ہوسکتے ہیں ہمارے یہاں نہیں ۔۔بصورت دیگر ۔۔رلاَمِلا(مرد نامرد)ہی کہا جاسکتا ہے۔

3)۔۔۔۔۔ ایسی باتوں کو ہمارے یہاں چونچلے کہا جاتا ہے،یعنی حقیقی نہیں بناﺅٹی پیار،اُنس،مُحبت،ورنہ ایسی بونگیوں کی ضرورت تو کُجا تصو ر تک نہیں آتا۔

4)۔۔۔۔۔ یورپ کے محققین کی کامیاب ہم بستری سے متعلق یہ اپروچ بھی ان کے اپنے ہی معاشرے میں جچتی ہے ،اسلامی یا مشرقی معا شروں میں اسے غیر اخلاقی فعل گردانا جاتا ہے ،لیکن نئی نسل اسی یورپی لت میں پڑتی جا رہی ہے جس کا سبدباب کرنا ہم سب کی پہلے انفرا د ی،خاندانی اور پھر معاشرتی ذمہداری ہے۔

5)۔۔۔۔۔ یورپی محققین کا پانچواں نسخہ بھی صرف جسمانی رشتے کی حد تک میاں بیوی ہونیوالوں کیلئے ہے ورنہ پھر ہم یہی کہیں گے کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے سے بھرپور جسمانی وجنسی تسکین لینے کیلئے ایسے چونچلوں کی نہیں حقیقی پیار،محبت کی ضرورت ہوتی ہے ۔

6)۔۔۔۔۔ البتہ یورپی محققین کا چھٹا نکتہ ہمارے معاشروں سے بھی مطابقت رکھتا ہے ،تاہم اسے محض جسمانی و جنسی تسکین کیلئے اختیار نہیں کیا جاتا بلکہ مشترکہ خاندانی نظام یا دیگر وجوہات کی بناپر۔۔۔

7)۔۔۔۔۔ کامیاب ازدواجی زندگی گزارنے کیلئے یورپی محققین کا تجویز کردہ ساتواں طریقہ بھی ایسے ہی شریک حیات افراد کیلئے ہے جن کے درمیان محض جنسی رشتہ ہے — بصورت دیگر ایسی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی —– مختصراََ یہ تمام طریقے روحانی پسماندگی کا مظہر ہیں۔

بھرپور ازدواجی زندگی

۔۔۔۔۔ کامیاب ازدواجی زندگی کے حوالے سے ہمارا یورپی محققین اور اہل یورپ کو یہ مشورہ ہے کہ وہ اپنی روحانی پسماندگی کو ختم کرنے پر تحقیق کریں ۔۔۔ورنہ دین اسلام میں بتائے گئے طریقہ کار کو اپنا لیں توایسی تمام خرافات سے بچ جائیں گے اور جنسی تسکین بھی ویسی ہی حاصل کرپائیں گے جیسی وہ چاہتے ہیں ۔ یقین نہیں آتا تو آزماکر دیکھ لیں۔

بھرپور ازدواجی زندگی

Leave a Reply