46

بھارت کو میزائل سسٹم اور دوسرا دفاعی ساز و سامان دینے کو تیا رہیں، صدر ٹرمپ

Spread the love

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت دورے پر آئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

مودی کے سامنے ہی پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے بھارتی شہر احمد

آباد میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ

دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کیساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، اپاکستان

اچھا دوست ہے جس کیساتھ تعلقات بھی بہت ہی شاندار ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا

تھا کہ ہمارے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کاسہراا ان کوششوں کو جاتا ہے

جو پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کیں انہون نے کہا کہ ، اسلام آباد

کے ساتھ بڑی پیش رفت کے آثا ر سامنے آناشروع ہوگئے ہیںہم کشیدگی میں کمی،

وسیع استحکام اور جنوبی ایشیا کی تمام اقوام کے لیے بہتر مستقبل کے لیے پرامید

ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب سے قبل بھارتی شائقین اونچی اونچی

آوازیں لگا رہے تھے تاہم امریکی صدر کی طرف سے پاکستان کی تعریف کرنے

کے بعد بھارتیوں کو سانپ سونگھ گیا اور سب کے سب خاموش ہو گئے۔ڈونلڈ

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور بھارت دہشت گردوں کو روکنے اور ان کے

نظریے سے لڑنے کے لیے پرعزم ہیں، جب سے صدارتی دفتر سنبھالا ہے میری

انتظامیہ پاکستان کے ساتھ بہت مثبت انداز میں کام کر رہی ہے۔ احمد آباد میں ڈونلڈ

ٹرمپ کی آمد پر ان کے سیاسی کیریئر کی سب سے بڑی ریلی کے لیے دنیا کے

سب سے بڑے کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک لاکھ سے زائد افراد موجود تھے۔اپنی تقریر

کے آغاز میں ان کا کہنا تھا کہ 8 ہزار میل سفر کرکے یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ

بھارت کیساتھ لگاؤ ہے، بھارت کو ڈرون سے لیکر ہیلی کاپٹر اور میزائل سسٹم تک

دفاعی ساز و سامان فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ

واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان خلائی تعاون کو بڑھانے کے منتظر ہیں، دونوں

فریقین کے درمیان ناقابل یقین تجارتی معاہدہ حتمی مراحل میں ہے۔ریلی سے

خطاب میں انہوں نے انتہا پسندوں پر حملے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میری

انتظامیہ میں ہم نے داعش کے قاتلوں پر امریکی فوج کو مکمل اختیار دیا اور آج

داعش کی علاقائی خلافت 100 فیصد تباہ ہوچکی، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ

البغدادی مرچکا ہے۔ریلی سے خطاب میں بھارت کی تعریف کے گن گاتے ہوئے

امریکی صدر نے کہا کہ وہ بھارت کی قابل ذکر مہمان نواز یاد رکھیں گے، بھارت

ہمارے دلوں میں ایک خصوصی جگہ رکھتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا

اور بھارت اسلامی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اکٹھے ہیں،

میری حکومت نے داعش کے خلاف پوری فوجی طاقت سے کارروائی کی جس

کے نتیجے میں اس کی خلافت مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور خلیفہ ابوبکر البغدادی

کو ہلاک کردیا گیا۔3 امریکی صدر نے بھارت کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے دفاعی

معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس دنیا کے بہترین ہتھیار موجود ہیں

اور بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے ہم اسے دنیا کے خطرناک

ترین ہتھیار دیں گے، بھارت کی شاندار میزبانی کو ہمیشہ یاد رکھوں گا، ہمارے

دلوں میں بھارتیوں کے لیے خصوصی جگہ ہے۔امریکہ اور بھارت دہشت گردوں

کو روکنے اور ان کے نظریے سے لڑنے کے لیے پرعزم ہیں،جب سے دفتر

سنبھالا ہے میری انتظامیہ پاکستانی سرحد سے آپریٹ ہونے والی دہشت گرد

تنظیموں اور عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان کے ساتھ

بہت مثبت انداز میں کام کر رہی ہے، مودی کامیاب رہنما ہے ،امریکہ، بھارت کو

ڈرون سے لے کر ہیلی کاپٹر اور میزائل سسٹم تک دفاعی ساز و سامان فراہم کرنے

کو تیار ہے، اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ،

صاحبزادی اور داماد کے ہمراہ 24 فروری کو بھارت پہنچے تھے، جہاں نریندر

مودی نے ان کا استقبال کیا تھا اور گلدستہ پیش کرتے ہوئے گلے لگایا تھا۔دونوں

رہنما ایئرپورٹ کے بعد تاریخی تاج محل پہنچے تھے، اس موقع پر تاج محل کے

ارد گرد کے راستوں سے آوارہ کتوں سمیت دیگر جانوروں کو بھی ہٹالیا گیا تھا

جبکہ سیکیورٹی کے سخت انتطامات کیے گئے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے

دوران احمد آباد میں 14 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ، جہاں جہاں

امریکی صدر جائیں گے، ان علاقوں کی خصوصی صفائی بھی کرائی گئی۔ڈونلڈ

ٹرمپ کے دورے کے راستوں میں بسی کچی آبادیوں کو بھی پہلے سے ہی خالی

کرالیا گیا تھا جبکہ امریکی صدر کے دورے کو یادگار بنانے کے لیے ہر 10 میٹر

پر انہیں خوش آمدید کہنے کے بینر آویزاں کیے گئے ہیں اپنے پہلے بھارتی دورے

کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ، نریندر مودی سے براہ راست ملاقات کریں گے اور

امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارت کو بڑھانے سمیت کئی اہم معاملات پر

مذاکرات کریں گے۔ بھارت کے دو روزہ دورے پر روانہ ہونے سے قبل صحافیوں

سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں طالبان کے ساتھ معاہدے پر

اپنا نام ثبت کروں گا۔ا۔اس جنگ بندی سے ہی امریکا اور طالبان مزاحمت کاروں

کے درمیان مستقل امن معاہدہ طے پانے کی راہ ہموار ہوگی اور اس پر 29 فروری

کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دونوں فریق دست خط کریں گے۔

Leave a Reply