بھارت کشمیریوں کو خائف کرنے میں ناکام، اپنے ہی افسروں پر پابندیاں

بھارت کشمیریوں کو خائف کرنے میں ناکام، اپنے ہی افسروں پر پابندیاں

Spread the love

اسلام آباد، نئی دہلی (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) بھارت کشمیریوں کو خائف

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قدغنوں اور پابندیوں

کے باوجود بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے تین بیگناہ شہریوں کے

جنازوں میں لوگوں کی بڑے پیمانے پر شرکت اور بھارت کیخلاف زبردست

احتجاجی مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیری عوام مضبوطی کیساتھ تحریک

آزادی کی پشت پہ کھڑے ہیں۔ دوسری طرف بھارت میں نریندر مودی کی حکومت

نے ریٹائرڈ سیکیورٹی اور انٹلی جنس افسروں کو موجودہ پالیسیوں سے متعلق

امور پر تنقیدی تبصرہ کرنے سے باز رکھنے کیلئے سینٹرل سول سروسز (پنشن)

رولز 1972ء میں ایک ترمیم کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت ریٹائرڈ

افسران کو اپنے متعلقہ ادارے سے پیشگی اجازت کے بغیرکسی ایسے موضوع پر

میڈیا میں کوئی تبصرہ کرنے، کوئی خط یا کتاب یا کوئی دستاویز شائع کرنے پر

پابندی لگا دی گئی ہے-

=-= ایسی ہی مزید معلومات پر مبنی خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

کے ایم ایس کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سوپور کی

شہادتوں سے مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے بھارت کی

طرف سے کئے جانیوالے سفاکانہ قتل عام کے واقعات میں ایک اور واقعے کا

اضافہ ہو کیا ہے۔ تاہم اس قتل عام کا الٹا اثر پڑا ہے اور قتل کے بعد بڑے پیمانے

پر لوگوں نے بھارت کیخلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور ہزاروں لوگوں نے

شہداء سے اظہار عقیدت کیلئے ان کے جنازوں میں شرکت کی۔ رپورٹ میں کہا گیا

ہے کہ سوپور میں شہداء کے جنازوں میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی شرکت

بھارت کیلئے واضح پیغام ہے کہ کشمیری سر نہیں جھکائیں گے اور وہ بھارتی

تسلط سے آزادی تک اپنی جانوں کی قربانیاں دیتے رہیں گے۔ جنازوں میں لوگوں

کی بڑے پیمانے پر شرکت بھارت کو مسترد کرنے کی علامت ہے۔ رپورٹ میں

کہا گیا ہے کہ ہر شہادت کے بعد بھارت سے آزادی حاصل کرنے کا کشمیریوں کیا

عزم مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہداء کا لہو رائیگاں

نہیں جائیگا اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی شکست نوشتہ دیوار ہے۔

=-.-= کشمیریوں کا شہداء کے مشن کو ہرقیمت پر پورا کرنے کا عزم

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری اپنے شہداء کے مشن کو ہرقیمت پر پورا کرنے

کا عزم رکھتے ہیں۔ بھارتی فوجی مقبوضہ جموں و کشمیر میں اب تک 30 قتل عام

کے واقعات میں 600 سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکے ہیں اور بھارت ان قتل

عام کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر میں عوامی تحریک کو کچلنا چاہتا ہے۔

رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں

کشمیریوں کی نسل کشی کو روکنے کے لئے آگے آئے۔

=-.-= مودی سرکار کی ملک میں آزادی اظہار رائے پرمزید پابندیاں

ساوتھ ایشین وائرنے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے اس ترمیم کو

ضابطہ 8 میں شامل کیا گیا ہے جو پنشن سے متعلق ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس

نئی گائیڈ لائن کی کوئی بھی خلاف ورزی سبکدوش افسر کے پنشن کو خطرے میں

ڈال سکتی ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پنشن رولز میں 2008ء کی ترمیم میں

صرف آفیشیل سیکرٹ ایکٹ اور عام جرائم کے قانون کے تحت پابندیوں کو واضح

کیا گیا تھا اور سبکدوش افسران کے حساس مسائل پر لکھنے پر جن میں بھارت کی

خود مختاری اور سالمیت، ریاست کی سلامتی، سفارتی، سائنسی اور اقتصادی

مفادات کو متاثر کرنا یا کسی جرم کو ہوا دینا شامل ہے، پابندی لگائی گئی تھی۔ اب

یہ نیا نوٹیفیکیشن پابندیوں کے دائرے کو کافی بڑھا دے گا۔ وزارت عوامی شکایات

و پنشن جس کے سربراہ نریندر مودی ہیں، کے ذر یعے31 مئی 2021ء کو جاری

نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سرکاری افسرجس نے انٹیلی جنس یا رائٹ

ٹو انفارمیشن ایکٹ میں شامل سلامتی سے متعلق کسی ادارے میں کام کیا ہے،

سبکدوشی کے بعد ادارے کے سربراہ کی پیشگی اجازت کے بغیر کوئی ایسا مواد

شائع نہیں کریگا جو اس ادارے کے دائرہ اختیار میں آتا ہو-

=–= ایسی ہی مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

ادارے کے دائرہ کار اور اس ادارے میں کام کرنے کی وجہ سے حاصل مہارت یا

علم سے وابستہ کسی بھی طرح کی تحریر پر لگائی گئی نئی پابندیاں اتنی وسیع اور

مبہم ہیں کہ عوامی مسائل پر تبصرہ کرنے والے سکیورٹی اور انٹلی جنس اداروں

سے ریٹائر ہونیوالے کچھ افسر اسکو حکومت کے ناقدین کو ڈرا دھمکا کر خاموش

کرانے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک

سابق افسر نے بتایا کہ پورے بیانیے پر کنٹرول کرنے کے لئے موجودہ حکومت کا

رویہ جارحانہ ہے۔ میرااندازہ ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے والے

سبکدوش بیوروکریٹس کیخلاف بھی کارروائی کریں گے۔ آئینی کنڈکٹ گروپ جس

میں سابق سیکیورٹی اور انٹلی جنس افسر شامل ہیں کی طرف سے مختلف

موضوعات پر لکھے جا نے والے خطوط بھی حکومت کے وزیروں کے ذہن میں

رہے ہونگے۔ جہاں متعصبانہ سیاسی ایجنڈوں سے قانون کی حکمرانی کمزور

ہونے سے ان اداروں کے کئی سبکدوش افسر پریشان ہیں، وہیں بھارتی حکومت یہ

بالکل بھی نہیں چاہتی کہ اس کے ناقدین کی فہرست اپنی بات رکھنے کے خواہش

مند نئے سبکدوش افسران کا نام شامل ہونے سے مزید لمبی ہو جائے۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

نئے ضابطے کا مطلب ہے کہ ” را ” کے سابق افسر کسی خارجہ مسئلے یا

پاکستان، افغانستان یا چین جیسے سلامتی سے متعلق موضوعات پر اجازت لیے

بغیر میڈیا میں کوئی مضمون نہیں لکھ سکتے۔ انٹیلی جنس بیورو کے کسی سابق

افسر کو فرقہ وارانہ تشدد یا داخلی سلامتی کے معاملے سے نمٹنے میں ناکامی یا

گھریلو سیاست پر بھی کچھ لکھنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ سی آر پی ایف، بی

ایس ایف وغیرہ کے سبکدوش افسران کے لیے بھی سرکار سے پیشگی اجازت لیے

بغیر مختلف موضوعات پر جن میں ان کی مہارت ہے، کچھ بھی تبصرہ کرنا مشکل

ہو جائیگا۔ ترمیم شدہ پنشن ضابطوں میں ایک نیا فارم شامل کیا گیا ہے جس پر

اداروں کے ملازمین کو اب سے دستخط کرنا پڑیگا اور یہ وعدہ کرنا ہو گا کہ وہ

سروس کے دوران یا سبکدوشی کے بعد ادارے کے دائرہ کارسے متعلق یا اس

ادارے میں کام کرنے کی وجہ سے حاصل ہوئی کوئی معلومات یا مواد کو کسی

بھی طرح سے شائع نہیں کریں گے۔

بھارت کشمیریوں کو خائف ، بھارت کشمیریوں کو خائف ، بھارت کشمیریوں کو خائف

Leave a Reply