بھارت کا ٹوئٹر پر دوسرا مقدمہ، فیس بک کیخلاف اجارہ داری کا مقدمہ خارج

بھارت کا ٹوئٹر پر دوسرا مقدمہ، فیس بک کیخلاف اجارہ داری کا مقدمہ خارج

Spread the love

واشنگٹن، نیویارک ( جے ٹی این آن لائن ٹیکنالوجی نیوز) بھارت ٹوئٹر فیس بک

بھارتی حکومت اور ٹوئٹر کے مابین تنازع مزید شدت اختیار کر گیا، ایک ماہ کے

دوران ٹوئٹر پر دوسرا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ جبکہ امریکی عدالت نے سوشل میڈیا

ویب سائٹ فیس بک کے خلاف اجارہ داری کا مقدمہ ناکافی شواہد کی بنیاد پر خارج

کر دیا ہے جس کے باعث فیس بک کے شیئرز 4 فیصد بڑھ گئے ہیں-

=–= سوشل میڈیا سے متعلق ایسی مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

امریکی میڈیا کے مطابق بھارت کے نقشے میں کشمیر اور لداخ کو شامل نہ کرنے

پر ٹوئٹر انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے۔ بھارت میں ٹوئٹر

کے سربراہ منیش مہیشوری کے خلاف ریاست اترپردیش میں مقدمہ درج کیا گیا

ہے۔ چند روز قبل بھی ایک مبینہ جھوٹی خبر کے حوالے سے ان کے خلاف ایف

آئی آر درج کی گئی تھی۔ ٹوئٹر سربراہ کیخلاف تازہ مقدمہ شدت پسند ہندو تنظیم

بجرنگ دل سے وابستہ ایک سرکردہ کارکن پروین بھاٹی نے درج کروایا۔ جس میں

غداری کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ کی ایف آئی آر میں ٹوئٹر کی نیوز

پارٹنرشپ ہیڈ امریتا ترپاٹھی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ ٹوئٹر

نے کیریئر سے متعلق اپنے صفحے پر دنیا کا جو نقشہ شائع کررکھا تھا اس میں

لداخ سمیت جموں و کشمیر کے پورے متنازعہ علاقے کو بھارت سے الگ ایک

علیحدہ آزاد ریاست کے طور پر دکھایا گیا تھا، بھارتی حکومت نے تمام سوشل

میڈیا کمپنیوں کو نئے آئی ٹی ضابطوں پر عمل کرنے اور اس کے بارے میں متعلقہ

عہدیداروں کو آگاہ کرنے کے لیے چھ ماہ کا وقت دیا تھا۔ ٹوئٹر نے آخری تاریخ 25

مئی تک حکومت کو کوئی جواب جمع نہیں کرایا تھا۔

=-،-= مقدمہ اخراج، فیس بُک شیئرز کی مالیت 1 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی

امریکی عدالت نے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک کے خلاف اجارہ داری کا

مقدمہ نا کافی شواہد کی بنیاد پر خارج کر دیا ہے، مقدمہ خارج ہونے پر فیس بک

کے شیئرز 4 فیصد بڑھ گئے ہیں۔ عدالت سے مقدمہ خارج ہونے پر فیس بک کمپنی

کی مالیت ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، کمپنی کے خلاف سوشل میڈیا

پر اجارہ داری کی شکایت درج کی گئی تھی مقدمہ امریکا کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (

ایف ٹی سی ) اورفیس بک پر قانون عدم اعتماد توڑ نے پر کیا گیا تھا، گزشتہ ہفتے

فیس بک کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ عدم اعتماد سے متعلق

مقدمات کو خارج کیا جائے- فیس بک کے خلاف یہ مقدمہ امریکی فیڈرل ٹریڈ

کمیشن کی جانب سے نیویارک کی مقامی عدالت میں دائر کیا گیا- فیڈرل ٹریڈ

کمیشن (ایف ٹی سی) کے مقدمے پر فیس بک نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا عدم

اعتماد کے اقدامات میں عام طور پر الزام لگانے والے کسی بھی نقصان کا الزام

عائد نہیں کیا گیا-

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اٹارنی جنرل آف نیویارک لیٹیٹا جیمز کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں کہا

گیا کہ فیس بک نے صارفین کے حقوق غصب کرتے ہوئے اپنے حریفوں سے

مسابقت ختم کرنے اور اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے غیر قانونی حکمت

عملی اپنائی، مقدمہ غیر قانونی طرز عمل یا صارفین کو نقصان پہنچانے کے لئے

کیا گیا تھا- مقدمے میں کہا گیا فیس بک کی جانب سے حریف کمپنیوں کو کمزور

کر کے ان کی جبری خریداری کے اس استحصالی عمل کو روکنا ضروری ہے

تاکہ مارکیٹ میں سرمایہ داروں کا اعتماد بحال ہوسکے، مقدمے کے خلاف اپنے

جوابی بیان میں فیس نے کہا حکومت کا یہ قدم کامیاب کاروباری کمپنیوں کو سزا

دینے کے سوا کچھ نہیں، صارفین کسی دوسرے پراڈکٹ یا کسی دوسری کمپنی کی

خدمات حاصل کرنے کے حوالے سے بااختیار ہیں، مقدمہ غیر قانونی طرز عمل یا

صارفین کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا گیا تھا، امریکہ سمیت باقی ریاستوں سے

بھی کمپنی پر لگائے گے بے بنیاد الزمات کے مقدمات عدالتوں سے خارج کیے

جائیں کیونکہ اس وجہ سے فیس بک کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

بھارت ٹوئٹر فیس بک

Leave a Reply