171

بھارت میں نفرت پر مبنی جرائم کی شرح عروج پر، رواں سال181واقعات ریکارڑ،ایمنسٹی انٹرنیشنل

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک )انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ بھارت

میں2016 سے منافرت پر مبنی جرائم کی شرح انتہائی بڑھ چکی ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بھارت شاخ نے اپنی ویب سائٹ پر نفرت کو روک دوکے عنوان سے جاری

اعداد وشمار میںکہا کہ رواں برس(2019)کے پہلے چھ ماہ میں بھارت میں نفرت پر مبنی جرائم کے

181واقعات ریکارڑ کیے گئے جو گزشتہ تین برس میں ہونے والے جرائم سے تقریبا د وگنا زیادہ ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل بھار ت شاخ کے ڈائریکٹر آکار پاٹل نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت

میں جہاں لوگوںکو نسل ، مذہب ، ذات پات اور صنف کی بنیادوں پر نشانہ بنایا جاتا ہے پہلے اس طرح

کے جرائم کے پیچھے کارفرما تعصب کو تعزیراتی قوانین کے ذریعے پہلے تسلیم کر لیا جائے اور

پھر ان واقعات کی دستاویزت تیار کی جائیں۔اعداد وشمار میں کہا گیا کہ رواں برس جنوری اور جون

کے درمیان جن لوگوںکو نفرت پر مبنی جرائم کا نشانہ بنایا گیا ان میں 40 مسلمان، آدہیواسی 21،

عیسائی 4جبکہ دیگر دلت ذات سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔اعداد وشمار میں کہا گیاکہ

فروری 2019 میں ہونے والے پلوامہ واقعے میں 42 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے ، کے بعد

بھارت میں کشمیریوں پر حملوں کے چودہ واقعات پیش آئے۔ اعداد و شمار میں کہا گیا کہ فروری

میں ہی منافرت پر مبنی جرائم کے سب سے زیادہ 37واقعات ریکارڑ کیے گئے جبکہ مارچ میں ایسے

36واقعات دیکھے گئے۔ مجموعی طور پر نفرت پرمبنی حملے کے 72 واقعات پیش آئے جن میں سے

37 مسلمانوں پر کئے گئے ۔ ستمبر 2015 سے بھارتی ریاستوں اترپردیش ، گجرات ، راجستھان اور

ہریانہ جہاںبھارتیہ جنتا پارٹی کی اورتامل ناڈو میں مسلسل نفرت پر مبنی جرائم کے سب سے زیادہ

واقعات پیش آئے ہیں۔اتر پردیش میں سب سے زیادہ ایسے واقعات پیش آئے جہاںستمبر 2015 سے

رواں سال جون تک نفرت پر مبنی 216 واقعات رپورٹ کئے گئے ۔بدقسمتی سے ، بھارت میں نفرت

پر مبنی کی اصل تعدادکے بارے میں اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ قانون نفرت پر مبنی جرائم کو

دیگر جرائم سے جدا نہیں کرتا ۔جس کی وجہ سے جرائم کے پس پردہ امتیازی مقاصد کے بارے

میں سرکاری اعداد و شمار لاپتہ ہیں۔آکار پٹیل نے کہاکہ نفرت پر مبنی جرائم سے نمٹنے کیلئے

ضروری ہے کہ ہر سطح پر جداگانہ اعداد و شمارمرتب کئے جائیں جن میں جرم کی نوعیت

،رپورٹنگ ، تفتیش ، استغاثہ اور سزاکا ریکارڈ شامل ہواور حکام اس سلسلے میں فوری ، غیر

جانبدرانہ اور جامع تفتیش کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں