66

بھارت میں متنازعہ شہریت قانون کیخلاف اپوزیشن جماعت کانگریس بھی سڑکوں پر آگئی

Spread the love

نئی دہلی، بنگلور(مانیٹرنگ ڈیسک )بھارتی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کی جانب سے ملکی دارالحکومت نئی دہلی

میں اقلیتوں کے حوالے سے متعارف کرائے گئے حکومت کے متنازع قانون کیخلاف احتجاج کیا گیا۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھا ر تی

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کی جانب سے ملکی دارالحکومت نئی دہلی میں اقلیتوں کے حوالے سے متعارف

کرائے گئے حکومت کے متنازع قانون کیخلاف احتجاج کیا گیا، احتجاج کی قیادت پارٹی لیڈر سونیا گاندھی کر رہی تھیں اس موقع پر انہوں

نے کہا یہ احتجاج شہریت سے متعلق حال ہی میں منظور ہونیوالے نئے قانون کی مخالفت میں کیاگیا۔ بھارتی مسلمان اس نئے قانون کو

متنازعہ قرار دیتے ہیں اور اس پر ملک گیر سطح پر ہونیوالے مظاہروں میں پولیس کی کارروائی میں اب تک تیئس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز اپنی ایک تقریر میں اس قانون کا بھرپور دفاع کیا۔ادھربھارت میں نئے قانون شہریت اور این آر سی

کیخلاف بڑے پیمانے پر جاری احتجاجی مظاہروں کے باوجود مرکزی حکومت نے خاموشی سے ریاستی حکومتوں کو مسلمان تارکین وطن

کیلئے حراستی کیمپ تعمیر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی اخبارات میں شائع ہونیوالی خبروں میں کہاگیا

ہے کہ بنگلورو کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس امرکمار پانڈے نے بتایا بنگلورومیں ایک حراستی کیمپ تعمیر ہوچکا ہے اور جنوری میں

اس کا فتتاح کیا جائیگا۔ بھارتی حکومت نے این آر سی اور نئے قانون شہریت کے نفاذ سے قبل تمام ریاستوں میں حراستی کیمپ تعمیر کرنے

کا منصوبہ بنایا تھا۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شا نے اعلان کیا ہے کہ 2024ء تک ملک بھر میں این آر سی کے نفاذ کا عمل مکمل کرلیا

جائے گا۔ بنگلورو کے محکمہ داخلہ نے بتایا شہر سے 40کلو میٹر دور علاقہ نیلا منگلا میں حراستی کیمپ کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے

جس میں غیر قانونی تارکین وطن کو رکھا جائے گا۔انہیں متعلقہ ممالک کو واپس کئے جانے سے قبل انہیں حراستی کیمپوں میں رکھا جائے

گا۔ملک بھر میں تارکین وطن کو گرفتارکرلیا جائے گا۔ محکمہ سماجی بہبود کے کمشنر آر ایس پیڈاپیا نے بتایا کہ ایک سرکاری ہاسٹل کی

عمارت خالی پڑی ہوئی تھی جسے حراستی کیمپ میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست کرناٹک میں اب تک 750تارکین

وطن کی شناخت کرلی گئی ہے۔ حراستی کیمپوں کی تعمیر کی خبر پھیلنے پر عوام باالخصوص مسلمانوں میں تشویش اور فکرمندی کی لہر

دوڑ گئی ہے۔ بنگلورو میں خاص طورپر بنگالی اور کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد قیام پذیر ہے۔

Leave a Reply