PM Pakistan imran khan

بھارت سےدہشتگردی پر بات کرنے کیلئے تیار،حملہ کیا تو ہوش ٹھکانے لگا دینگے ،عمران خان

Spread the love

اسلام آباد،نئی دہلی(جے ٹی این آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اس کا بھرپور جواب دیں گے، جنگ شروع کرنا تو اختیار میں ہے لیکن اس کو روکنا انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا،

بھارت کے پاس پلوامہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ثبوت ہیں تو دیں ہم اس پر کاروائی کریں گے، کوئی پاکستان کی زمین دہشت گردی کیلئے استعمال کررہا ہے تو وہ پاکستان سے دشمنی کررہا ہے،

افغانستان کی طرح مسئلہ کشمیر بھی مذاکرات سے ہی حل ہو گا، دہشت گردی اس خطے کا بڑا ایشو ہے، ہم اسے ختم کرنا چاہتے ہیں، بھارت کے ساتھ دہشت گردی پر بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔

منگل کو وزیراعظم عمران خان کا پلوامہ واقعہ پر قوم سے خطاب میں کہنا تھا چند دن پہلے پلوامہ میں واقعہ ہوا جس کا الزام پاکستان پر لگایا گیا، سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان پر ردعمل میں تاخیر کی،

بھارت نے پاکستان پر بنا ثبوت الزام لگایا، پاکستان کو اس حملے سے کوئی فائدہ نہیں، پاکستان امن کی طرف جارہا ہے، اگر بھارت نے ماضی میں پھنسے رہنا ہے تو کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو گا،

یہ نیا پاکستان ہے اور ہمارے مفاد میں ہے پاکستان سے کوئی دہشت گرد باہر نہ جائے، بھارت پلوامہ واقعے پر جس قسم کی تحقیقات کرانا چاہتا ہے اور آپ کے پاس پاکستان کے خلاف ثبوت ہے تو ہم اس پر سخت ایکشن لیں گے،

بھارت سے جب بھی مذاکرات کی بات کی بھارت نے دہشت گردی ختم کرنے کی شرط رکھی، میں دہشت گردی پر بات کرنے پر بھی تیار ہوں، دہشت گردی پورے خطے کا مسئلہ ہے جس کو حل کرنا ہے،

70ہزارپاکستانی دہشت گردی میں مارے گئے اور 100ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے، بھارت میں بھی نئی سوچ آنی چاہیے کہ کشمیری نوجوان کس وجہ سے موت سے بھی بے خوف ہیں ،

کشمیر کا مسئلہ فوجی آپریشن سے حل نہیں ہو سکتا۔ بھارت کا الیکشن کا سال ہے جس میں پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں،

بھارت اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ پاکستان بھارتی حملے کا جواب نہیں دے گا، پاکستان کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دے گا، امید ہے بھارت حکمت استعمال کرے گا اور مسئلہ کشمیر مذاکرات سے حل ہو گا۔

ادھر بھارت نےروایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پلوامہ حملے کی تحقیقات کی پیشکش کو مسترد کر دیا اور ہرزہ سرائی کی کہ یہ محض حیلے بہانے ہیں، واقعہ پر عمران خان کا رد عمل حیران کن نہیں،

پاکستانی وزیراعظم نے نہ تو دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور نہ ہی سوگوار خاندانوں سے اظہار افسوس کیا،ممبئی حملوں کے ثبوت بھی پاکستان کو پیش کئے گئے لیکن دس سال گزرنے کے باوجود اس مقدمے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،

عمران خان نے واقعہ کی مذمت کی بجائے اس حملے کو بھارت کے عام انتخابات پر منسلک کردیا، پاکستان عالمی برادری کو گمراہ کرنا چھوڑ دے اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور اور نظرآنے والا ایکشن لے، نیا پاکستان یہ ہے کہ وزراء دہشتگردوں کے ساتھ اکٹھے سٹیج پر بیٹھے ہوتے ہیں ۔

بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا جیش محمد اور اس کے لیڈر مسعود اظہرکا پاکستان سے ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے، اس لئے پاکستان ایکشن لے۔

Leave a Reply