corona virus 98

بھارت سمیت80ممالک کرونا وائرس کا شکار ،3200 ہلاکتیں

Spread the love

تفتان، اسلام آباد ،بیجنگ ، نئی دہلی(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی بینک نے مہلک وائرس

کرونا سے نمٹنے کیلئے 12ارب امریکی ڈالر کے پیکیج کا اعلان کردیا۔عالمی بینک کے اعلامیے کے

مطابق کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو 12ارب ڈالر کی امداد فراہم کی جائے

گی۔ ہنگامی امدادی پیکیج میں کم شرح سود کا قرض، امداد اور تکنیکی معاونت شامل ہے۔امداد کی

تقسیم کے دوران انتہائی غریب ترین اور انتہائی خطرے سے دوچار ممالک کو ترجیح دی جائے گی

تاکہ وائرس کے اثرات سے نمٹا جاسکے۔عالمی بینک کے سربراہ نے کہا کہ 12ارب ڈالر صحت سے

متعلق آلات کی خریداری اور دیگر اقدامات کے لیے ہوں گے۔ادھر ایران میں کرونا وائرس پھیلنے کے

بعد بلوچستان سے منسلک پاک ایران تفتان بارڈر12ویں روز بھی بند رہا جبکہ پاک ایران اور پاک

افغان دو طرفہ تجارت مکمل طور پربند ہے تاہم زائرین اور پاکستانی باشندوں کی وطن واپسی کا

سلسلہ جاری ہے۔ پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق گزشتہ روز پاک ایران تفتان باڈر سے مزید4سو

زائرین پاکستان میں داخل ہوئے، تمام زائرین بارڈر کے بجائے دیگر راستوں سے پاکستان میں داخل ہو

رہے تھے جنہیں سکیورٹی فورسز نے پکڑ کر ایف آئی اے کے حوالے کیا، ان افراد کی امیگریشن

اور سکریننگ کا کام جاری ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان ہاوس اور قرنطینہ میں اب 2800 کے

قریب خواتین بچے اور بوڑھے افراد مقیم ہیںجبکہ تمام زائرین کی ہر 48گھنٹوں کے بعد سکرینگ کی

جا رہی ہے۔دریں اثناء وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں

کرونا وائرس کے کیسز چھپانے کی باتوں کو یکسر مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ عوام خوف نہ

پھیلائیں اور بلا ضرورت ماسک کے پیچھے نہ بھاگیں،کوئی غیر ضروری چیز نہ کریں، ہر نزلہ

زکام کو وائرس نہ سمجھیں، ملک میں بہت لوگوں کو نزلہ ہوتا ہے،چین میں موجود طلبہ کیلئے بہت

کچھ کررہے ہیں،چینی حکومت پابندیوں کو نرم کرے گی تو ہم اپنے لوگوں کو لائیں گے۔اسلام آباد میں

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ چینی شہر ووہان میں 20طلبہ ہیں اور ہوبئی

صوبے میں 1094پاکستانی ہیں، ہم ان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور چینی حکومت کے ساتھ مل کر ان

کی فلاح کے لیے بہت کچھ کررہے ہیں جبکہ طلبہ کو واپس لانے کے لیے چینی حکومت کے قوانین

کا احترام کررہے ہیں، چین کی حکومت نے اپنے لوگوں پر بھی ایسی پابندیاں لگائی ہیں، چینی

حکومت پابندیوں کو نرم کرے گی تو ہم اپنے لوگوں کو لائیں گے۔دوسری جانب چین سے شروع اور

پھر دیگر ملکوں میں پھیلنے والے جان لیوا کرونا وائرس سے دنیا کے 80 ممالک متاثر ہوچکے ہیں۔

دنیا بھر میں وائرس 3 ہزار 206 افراد کی موت کا باعث بن چکا ہے جبکہ 92 ہزار 883 افراد بیمار

ہیں۔چین میں کرونا سے مزید 38 افراد ہلاک اور 119نئے مصدقہ مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

البتہ یہاں نئے کیسز میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ ۔ امریکا میں کرونا کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 9

ہے۔ اٹلی 79 اور ایران میں 77 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ دنیا بھر میں لگ بھگ 47 ہزار 900

افراد صحت یاب بھی ہو ئے ہیں۔علاوہ ازیںبھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے کرونا وائرس کے خوف

سے ہولی کی تقریبات میں شرکت سے انکار کردیا اور کہا ہے کہ دنیا میں ماہرین وائرس

کاپھیلائوروکنے کیلئے اجتماعات پرپابندی لگا رہے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے

بیان میں مودی نے کہا کرونا وائرس کے باعث ہولی کی تقریبات میں شرکت نہیں کروں گا۔بھارت میں

کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 28ہوگئی ہے اور6کیس آگرہ میں رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد

ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔بھارت میں پندرہ اطالوی سیاحوں میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس

کے بعد بھارتی حکام نے کرونا سے متعلق معلومات کیلیے 104خصوصی ہیلپ لائن بھی متعارف

کرادی ہے۔ حکام نے کرونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے باعث ریاست اتر پردیش کے شہر نوئیڈا

میں دو اسکول بند کردیئے ہیں جبکہ دارالحکومت میں بہت سے اسکولوں نے والدین سے درخواست

کی ہے کہ اگر بچوں میں سردی اور کھانسی کی علامات ظاہر ہوں انہیں گھروں میں ہی رکھیں۔

Leave a Reply