بھارت امریکہ کا اتحادی بننے کا بوجھ اُٹھا پائےگا---؟ 0

بھارت امریکہ کا اتحادی بننے کا بوجھ اُٹھا پائےگا—؟

Spread the love

(تحریر: سینئر صحافی و تجزیہ کار سید اظہر علی شاہ المعروف بابا گل) بھارت امریکہ کا اتحادی

Journalist and annalist Sayed Azher Ali Shah

خطے کی نئی پیچیدہ صورتحال عالمگیر جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے، یہ

پیش گوئی صاحبان نظر آنے والے کچھ ہفتوں یا مہینوں میں خطے کے حالات

مزید پیچیدہ اور پریشان کن بننے کے موصول ہونے والے اشاروں سے کر

سکتے ہیں-

=ضرور پڑھیں= جنگ کا سائرن بج گیا

امریکہ بہادر اور بھارت کے درمیان فوجی اڈوں کے قیام سے متعلق معاملات کا

طے پانا اس نئی صورتحال کا موجب ہوں گے، روسی وزیر خارجہ نے روسی

ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ اعتراف یا انکشاف کیا کہ بھارت امریکہ

کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈے دینے پر آمادہ ہو چکا ہے اور یہ فوجی اڈے

مقبوضہ کشمیر میں بنیں گے-

=ضرور پڑھیں= پاکستان کیخلاف ڈوول ڈاکٹرائن پر عملدرآمد تیز

بظاہر ان فوجی اڈوں کے قیام کا بنیادی مقصد چین کو کاؤنٹر کرنا ہے مگر اس

کے ساتھ ساتھ افغانستان، پاکستان اور ایران میں امریکی اور بھارتی مداخلت بھی

یقینی ہو جائے گی- اگر ہم امریکہ کی ماضی قریب کی پالیسیوں پر نظر دوڑائیں

تو یہ بات باآسانی سمجھ آتی ہے کہ امریکہ نے اپنے حریفوں کو اتنا نقصان نہیں

پہنچایا جتنا کہ اس نے اپنے دوستوں اور اتحادیوں کو برباد کیا- پاکستان اور

عراق اس کی واضح مثالیں ہیں، جبکہ دونوں ممالک بہت بڑی تباہی سے گزرنے

کے بعد اپنے آپ کو سنبھال لیا، مگر کیا بھارت اپنے آپ کو ایسی کسی صورت

حال سے بچا پائے گا؟، بظاہر یہ ناممکن کی حد تک مشکل دکھائی دیتا ہے-

=پڑھیں= عالمی طاقتیں پاکستان میں پُرانا مگر کامیاب تجربہ دُہرانے کیلئے تیار

بھارت کے اندر امریکن پراکسی شروع ہونے کے منفی اور مہلک اثرات سے اس

کے پڑوسی ممالک سمیت افغانستان محفوظ نہیں رہ سکتا، پاکستان، افغانستان اور

ایران میں ممکنہ طور پر بدامنی کی کوئی نئی لہر پیدا ہونے کے قوی امکانات

ہیں، بدامنی کہ یہ لہر پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ جنگ کی شکل بھی

اختیار کرسکتی ہے، جبکہ ایسی کسی بھی صورت حال میں چین اور روس کا

خاموش یا غیر جانبدار رہنا ناممکن ہے، سو لگتا ہے کہ بھارت اور امریکہ مل کر

خطے میں ایک ایسی جنگ کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں جو تیسری عالمی جنگ

کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے-

=لازمی پڑھیں= امریکی فتنہ “داعش” بڑا خطرہ، طالبان کو نکیل ڈالنا ہو گی

اس ضمن میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے کرنے کے کاموں میں خود کو

ایسے حالات اور چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے تیار کرنا ہے، پاکستان کو

بالخصوص اپنے اندرونی مسائل سے جلد چھٹکارا پانے سمیت معاشی طور پر

مستحکم کرنا ہو گا، ایران قدرے حد تک امریکہ سے تو ہوشیار ہے ہی لیکن اسے

بھارت سے بھی چوکنا رہنا ہو گا، جبکہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت

کو بڑا درپیش مسئلہ داعش سے نمٹنا ہے، جس نے حالیہ چند ہفتوں میں افغانستان

میں اپنی گرفت کی مضبوطی ظاہر کر دی ہے اور یقیناََ طالبان کو اس کا ادراک

بھی ہو گیا ہوگا، تاہم یہ تینوں مسلم اور ہمسایہ ممالک متحد ہو جائیں تو دنیا کی

کوئی طاقت ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی-

=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

افسوس اس حوالے سے بڑے دل اور مصلحتوں سے ماورا قیادت اور عوام کی

ضرورت ہے جس کا فقدان شاید ایران اور افغانستان میں تو نہ ملے لیکن پاکستان

میں اس نسلی، لسانی، مسلکی ، گروہی اور علاقائی تفریق بڑی واضح ہے جو

اغیار کے مذموم عزائم کو خطے میں پنپنے میں معاون و ممدو ہو سکتی ہے،

ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی، عسکری اور مذہبی قیادتوں کو ان خامیوں

کو وقت ضائع کئے بغیر دور کرنے کی سنجیدہ سعی کرنا ہو گی- البتہ ہتھیاروں

کی جنگ میں پاکستان امریکہ اور بھارت سے مات نہیں کھا سکتا-

بھارت امریکہ کا اتحادی ، بھارت امریکہ کا اتحادی ، بھارت امریکہ کا اتحادی

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply