117

بھارتی پنجاب ،کرونا وائرس کا پہلاشکار سکھ مبلغ سیکڑوں کو لے ڈوبا

چندی گڑھ (خصوصی رپورٹ) بھارت کے شمالی پنجاب میں 20دیہات کے 40ہزار شہریوں کو

قرنطینہ کر دیا گیا ہے اور کسی کو بھی گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔بھارتی میڈیا کے

مطابق شہید بھگت سنگھ کا رہائشی70 سالہ سکھ مبلغ بلدیو سنگھ اٹلی اور جرمنی کا دورہ کر کے

6مارچ کو نئی دہلی پہنچا تھا جہاں سے اس نے بیماری کی حالت میں ہی پنجاب کا سفر ا ختیار کیا تھا۔

بلدیو سنگھ 10 سے 12 روز تک مسلسل سینکڑوں لوگوں سے ملااس دوران بیماری کی شدت سے 18

مارچ کو دم توڑگیا تھا۔بتایا گیا ہے کہ بلدیو سنگھ نے براہ راست 500 سے زائد افراد سے ملاقات کی

تھی ۔اس نے خود حکومتی مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے خود کو قرنطینہ نہیں کیا تھااور لوگوں

سے ملاقات جاری رکھی۔صرف اس ایک شخص کے باعث پنجاب میں25 مارچ تک29 افراد کے

کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ نواں شہر میں 18 ، موہالی میں 5 ، جالندھر

میں3 ، امرتسر میں2 اور ہوشیار پور میں ایک مریض سامنے آ ئے۔ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ اب

تک ہم ان سے براہِ راست ملاقات کرنے والے 550لوگوں کا پتا چلانے میں کامیاب رہے ہیں اور یہ

تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔اس علاقے کے پاس ہم نے 15دیہات سیل کر دیئے ۔قریبی ضلع کے بھی پانچ

دیہات سیل کر دئے گئے ہیں ۔ بلدیو سنگھ جو اب تک پنجاب میں کرونا وائرس سے مرنے والا پہلا

شخص تھا ،اس کا 500 افراد سے براہ راست رابطہ تھا جو مزید آگے سینکڑوں افراد سے ملے۔

Leave a Reply