بھارتی پارلیمنٹ کے باہر

بھارتی پارلیمنٹ کے باہر انتہا پسند ہندوؤں کا مظاہرہ ،مسلمانوں اور اسلام کیخلاف نعرے بازی

Spread the love

بھارتی پارلیمنٹ کے باہر

نئی دہلی (جے ٹی این آن لائن نیوز) بھارتی دارالحکومت دہلی میں پارلیمنٹ کے قریب سخت گیر

ہندوؤں نے اپنے ایک پروگرام کے دوران مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اشتعال انگیز اور نازیبا

نعرے بازی کی،بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی پارلیمان کے پاس ہی معروف مقام جنتر منتر پر

بعض سخت گیر ہندو تنظیمیں اور ان کے کارکنان احتجاج کے لیے جمع ہوئے اور وہیں پر مسلمانوں

اور اسلام کے خلاف نعرے بازی ہوئی۔ اس پروگرام کا اہتمام حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے

ایک رہنما اور سپریم کورٹ کے وکیل اشونی اپادھیائے نے کیا تھا۔ادھر بھارتی دارالحکومت دہلی میں

پولیس حکام کا کہناتھا کہ جنتر منتر پر لگنے والے اشتعال انگیز مسلم مخالف نعروں کے سلسلے میں

اس نے ایک مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق مختلف گروہوں کے درمیان نفرت کو فروغ

دینے کے الزام میں بعض نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔نئی دہلی حلقے کے سینیئر

پولیس افسر دیپک یادو کا کہنا تھا کہ جس پروگرام کے دوران نفرت انگیز نعرے بازی ہوئی اس

پروگرام کی پہلے سے اجازت نہیں لی گئی تھی اور اس معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔لیکن انسانی

حقوق کے کارکنان کا کہنا تھا کہ جس مقام پر اسلام کی توہین اور مسلمانوں کے خلاف ہندو تنظیموں

نے نفرت انگیز نعرے بازی کی وہاں بڑی تعداد میں پولیس بھی موجود تھی اور اگر وہ چاہتی تو انہیں

روک سکتی تھی تاہم اس نے ایسا نہیں کیا۔ مسلم رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے اس معاملے کو

ایوان میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارتی ایوان سے متصل ہی مسلمانوں کی نسل کشی کی باتیں ہو رہی

تھیں اور اس کی حمایت میں زورشور سے نعرے لگ رہے تھے تاہم قصورواروں کے خلاف کوئی

کارروائی نہیں کی گئی۔ دوسری طرف ہندوانتہا پسند جنونیوں کے ایک گروپ نے یو ٹیوب چینل

’’قومی دستک ‘‘کے ساتھ وابستہ صحافی انمول پریتم کو جو جنتر منتر میں بی جے پی کے سابق

ترجمان اشونی اپادھیائے کی طرف سے بلائے گئے مسلم مخالف جلوس کی کوریج کر رہے تھے کو

جئے شری رام کا نعرہ لگانے پرمجبور کیا۔ انمول پریتم نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو کلپ بھی شیئر کیا ہے

جس میں انہیں ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے نعرے لگانے پر مجبورکرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔

صحافی کو جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنے کے علاوہ اس موقع پر نفرت پر مبنی

تقاریر کی گئیں اور مسلم مخالف نعرے بلند کئے گئے ۔ اس موقع پر ایک گروپ نے نعرہ لگایا ’’جب

مسلمانوں کو ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے گا تو وہ رام رام کے نعرے لگائیں گے‘‘۔سوشل میڈیا

متعددافراد نے ہندوتوا جنونیوں کے حکم نہ ماننے پر انمول پریتم کی تعریف کی ہے ۔ آل انڈیا مجلس

اتحادالمسلمین کے صدر اور حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے جنتر منتر نئی دلی میں

بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمان مخالف نعروں پر بھارتی

حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ایسی بھیڑ اور ایسے نعرے دیکھ کر

بھارت میں مسلمان کیسے خود کومحفوظ تصور کرسکتا ہے۔ اسد الدین اویسی نے ایک ٹویٹ میں نئی

دلی پولیس پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ گزشتہ جمعہ کو دوارکا میں حج ہاؤس کی مخالفت میں

ایک مہاپنچایت بلائی تھی، حسب روایت اس پنچایت میں بھی مسلمانوں کے خلاف پرتشدد نعرے

لگائے گئے، جنتر منتر مودی کے محل سے محض چند منٹ کی دوری پر ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ

گزشتہ سال مودی کے ایک وزیر نے اشتعال انگیز نعرے لگائے تھے اور اس کے بعد فورا دلی

فسادات میں مسلمانوں کاقتل عام کیاگیا ۔انہوں نے کہاکہ ایسی بھیڑ اور ایسے نعرے دیکھ کر بھارت

میں مسلمان خود کوکیسے محفوظ تصور کرسکتے ہیں۔

بھارتی پارلیمنٹ کے باہر

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply