بھارتی پارلیمنٹ جرائم پیشہ عناصر کا گڑھ

Spread the love

بھارت سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے اور بھارتی الیکشن بلاشبہ دنیا کے

سب سے بڑے الیکشن بھی ہیں۔ حالیہ جاری لوک سبھا کے انتخابات میں 90 کروڑ

سے زیادہ لوگ ووٹ دینے کے اہل ہیں جو دس لاکھ سے زائد پولنگ سٹیشنوں پر

اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔ اسی طرح بھارت میں ووٹرز کی تعداد آسٹریلیا اور

یورپ کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ بھارتی لوک سبھا کے جاری

انتخابات دنیا کے اب تک مہنگے ترین انتخابات بھی ہیں ایک اندازے کے مطابق ان

انتخابات میں 10ارب ڈالر سے زیادہ اخراجات آئیں گے۔ لوک سبھا کے یہ انتخابات

جن کی ووٹنگ کے دو مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور لوک سبھا کی 543میں سے

189نشستوں کیلئے ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے جبکہ تیسرے مرحلے کیلئے پولنگ

پرسوں منگل 23اپریل کو ہو گی۔اترپردیش، آروناچھل پردیش، آسام، بہار، چھتیس

گڑھ، بھارت کے زیر تسلط جموں کشمیر، مہاراشٹرا، مزورام، مانی پور، میگھالیہ،

ناگالینڈ، اوڈیشا، سکم، تیلانگانا، تری پورا، اتر پردیش، اتر کھنڈ، مغربی بنگال،

اندمن، نکوبر اور لکشادیپ میں ہونیوالے انتخابات کے پہلے مرحلے میں 14 کروڑ

20 لاکھ سے زائد افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔پہلے مرحلے میں

ریاست بہار میں ووٹر ٹرن آؤٹ 50.26 فیصد، تلنگانہ میں 60.57، میگھالیہ میں

62 فیصد،اترپردیش میں 59.77 فیصد، منی پور میں 78.20 فیصد اور لکشادیپ

میں 65.9 فیصد رہا۔کئی علاقوں میں ٹرن آؤٹ صفر بھی رہا۔ 543 نشستوں میں

سے کسی بھی پارٹی کو حکومت سازی کیلئے 272 نشستوں پر کامیابی درکار ہے

۔انڈین الیکشن کے نتائج کا اعلان 23 مئی کو ہوگا۔انڈیا کے پہلے انتخابات52

1951-میں ہوئے تھے جوتین ماہ میں مکمل ہوئے تھے۔ 1962 اور 1989 کے

درمیان 4سے 10دن میں مکمل ہوئے جبکہ انڈیا کے مختصر ترین انتخابات 1980

میں ہوئے تھے جو صرف 4روز میں مکمل کرلئے گئے تھے ۔2014 میں انڈیا میں

8250 امیدواروں اور 464 سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

2014ء کے بھارتی لوک سبھا کے انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں اور

امیدواروں نے تقریباً5ارب ڈالر خرچ کئے تھے اب کی بار ان انتخابات میں یہ خرچ

دوگنا ہو گیا ہے جبکہ امریکہ میں 2016ء کے صدارتی اور کانگریس کے انتخابات

میں کل ساڑھے 6 ارب ڈالر خرچ ہوئے تھے ۔نریندر مودی کی موجودہ حکومت

نے گزشتہ برس انتخابی بانڈ جاری کئے تھے جسکے ذریعے کاروباری ادارے اور

لوگ ذاتی طور پر اپنی شناخت ظاہر کئے بغیر سیاسی جماعتوں کو چندہ دے

سکتے ہیں ان بانڈز سے اب تک ڈیڑھ ارب ڈالر جمع ہو چکے ہیں اور اطلاعات یہ

ہیں ان بانڈز کا زیادہ تر پیسہ بی جے پی کو ملا ہے۔

پاکستان اور بھارت کا سیاسی کلچر تقریباً ایک جیسا ہے۔ بڑے بڑے صنعتکار

سرمایہ دار، جاگیر دار اور وڈیرے یا تو خود انتخابات میں امیدوار ہوتے ہیں یا

سیاسی پارٹیوں پر خوب پیسہ خرچ کرتے ہیں اور جب سیاسی پارٹی برسر اقتدار

آتی ہے تو ان وڈیروں، صنعتکاروں اور جاگیرداروں کو فائدہ پہنچاتی ہے جنہوں

نے الیکشن میں بڑھ چڑھ کر انکی مالی امداد کی ہوتی ہے۔ بھارتی لوک سبھاکے

ارکان کا ریکارڈ دیکھا جائے تو اس میں امراء اور کروڑ پتی افراد کی بھرمار ہے۔

لوک سبھا کے 11اپریل کو ہونیوالے پہلے مرحلے کے انتخابات میں 20ریاستوں

کے 91پارلیمانی انتخابات میں 13سو امیدواروں نے حصہ لیا اس اہم مرحلے میں

جن اہم امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوا ان میں بی جے پی کے اہم رہنما اور

وفاقی وزیر نیتن گڈکری، نائب وزیر خارجہ جنرل ولی کے سنگھ، شعلہ بیان مقرر

اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی، چرن سنگھ کے بیٹے

اور راشٹریہ لوک دل کے سربراہ اجیت سنگھ شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو ایک ترمیم شدہ فارم نمبر 26 بھرنا لازمی قرار

دیاکیونکہ اس فارم میں انہیں اپنی پارٹیوں کو مجرمانہ ریکارڈز اور اپنے خلاف

زیر التوا مقدمات کے بارے میں بھی بتانا ہے۔الیکشن کمیشن سنیل اروڑا نے تمام

سیاسی جماعتوں کو جہاں اس بات پر متنبہ کیاکہ انتخابی مہم کے دوران حاضر

سروس فوجیوں کی تصاویر استعمال کرنے کی اجازت نہیں وہیں الیکشن کمیشن

نے بہتر امیدوار عوام کے سامنے پیش کرنے کیلئے نیا طریقہ متعارف کرواتے

ہوئے امیدواروں کوانتخابی مہم اپنے ہر طرح کے مجرمانہ ریکارڈ کی ٹیلیویژن

اور اخبار ات میں کم از کم تین بار تشہیر کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔

پہلے مرحلے میں قسمت آزمانے والے 1779امیدواروں میں سے 17فیصد کے

خلاف کوئی نہ کوئی مقدمہ درج ہے، پہلے مرحلے کے امیدواروں نے جو حلف

نامے جمع کرائے ہیں ان کے مطابق 146امیدواروں کے خلاف سنگین جرائم کے

مقدمات ہیں ان میں سے 10کیخلاف قتل اور25کیخلاف اقدام قتل کے مقدمات ہیں

کانگریس کے 83میں سے 35امیدواروں یعنی 42فیصد امیدواروں اور بی جے پی

کے 83میںسے 30یعنی 36فیصد امیدواروں نے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث

ہونے کا حلفیہ بیان دیا ہے۔ کانگریس کے 22اور بی جے پی کے 16امیدواروں پر

سنگین جرائم کے مقدمات درج ہیںجبکہ علاقائی جماعتوں کے بھی درجنوں

امیدواروں کے خلاف ایسے ہی مقدمات درج ہیں۔ بھارتی الیکشن کمیشن نے اس بار

تمام امیدواروں کیلئے یہ لازمی قرار دیا تھا وہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت

ایسے حلف نامے بھی جمع کرائیں کہ ان کے خلاف کس قسم کے مقدمات درج ہیں۔

اسی طرح پہلے مرحلے کے انتخاب میں 401امیدواروں نے اپنے حلف ناموں میں

کروڑ پتی ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ اس مرحلے میں حصہ لینے والے کانگریس

کے 69 یعنی 83فیصد اور بی جے پی کے 65یعنی 78فیصد امیدواروں نے ایک

کروڑ سے زائد کے اثاثوں کا حلف نامہ جمع کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان

امیدواروں سب سے امیر اور سب سے غریب امیدوار ایک ہی حلقے میں ایک

دوسرے کے مدمقابل ہیں تیلنگانہ صوبے کے پارلیمانی حلقے چیپویلا سے

کانگریس کے امیدوار کونڈا دیشوا ریڈی نے اپنے اثاثوں کی مالیت 895کروڑ

روپے بتائی ہے جبکہ اسی حلقے سے پریم جنتا پارٹی کے پریم کمار کے اثاثوں

کی مالیت صرف پانچ سو روپے ہے۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد رائے عامہ

کے جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ جن 91حلقوں میں ووٹنگ ہوئی ان میں سے

32سیٹیں بی جے پی کے پاس تھیں جبکہ کانگریس کے پاس ان میں سے صرف

7سیٹیں تھیں مگر اس ووٹنگ میں کانگریس کی سیٹیں بڑھنے اور بی جے پی کی

سیٹیں کم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ بھارت میں 2014ء میں جو لوک سبھا کے

ارکان منتخب ہوئے ان میں سے 33فیصد کے خلاف جرائم کے مقدمات درج تھے

جبکہ2009ء میں یہ تعداد30اور2004میں 24فیصد تھی۔ موجودہ لوک سبھا کے

521میں سے 174ارکان یعنی 33فیصد کے خلاف فوجداری مقدمات ہیں ان میں

سے 106کے خلاف قتل، اقدام قتل، فرقہ وارانہ منافرت ،اغواء، خواتین پر تشدد

جیسے مقدمات ہیں14ارکان کے خلاف قتل کے مقدمات چل رہے ہیں جن میں سے

10کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ اس لوک سبھا میں بی جے پی 92، کانگریس کے

7،آل انڈیاانا دریویدامونیتراکازگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے 6،شوسیناکے

15ترنمول کانگریس کے 7ارکان پر مختلف قسم کے مقدمات درج ہیں۔الیکشن

جیتنے کے جنون میں مودی سرکار نے توتمام حدیں ہی پار کر دی ہیں ،مالی گاؤں

دھماکے کی مرکزی ملزم بدنام زمانہ دہشت گرد سادھوی پراگیا ٹھاکر کو بھوپال

سے امیدوار نامزد کر دیا گیا۔ سادھوی پراگیا ٹھاکر مدھیہ پردیش کے دارالحکومت

میں کانگریس کے سابق وزیراعلیٰ ڈگ وجے سنگھ کے مدمقابل کھڑی ہیں۔

بھارتی انتخابات کے دوران ووٹ کی خریداری کیلئے رقوم کی تقسیم کوئی نئی بات

نہیں،پچھلے ہفتے ووٹنگ کے دوران بھارتی ریاست تامل ناڈو میں لوک سبھا کے

حلقے تھینی میں الیکشن کمیشن کی نگرانی ٹیم اور محکمہ انکم ٹیکس کے مشترکہ

چھاپے میں ایک دکان سے ووٹروں میں تقسیم کیلئے رکھے گئے ایک کروڑ 48

لاکھ بھارتی روپے برآمد کرلئے گئے۔مذکورہ دکان کو مبینہ طور پر تامل ناڈو کی

ایک سیاسی جماعت (اے ایم ایم کے) کا ہمدرد چلاتا تھا۔چھاپے کی کارروائی پر

اعتراض کرنیوالے سیاسی جماعت کے ہمدردوں کو منتشر کرنے کیلئے اہلکاروں

کو ہوائی فائر نگ بھی کرنا پڑی۔قبضے میں لیے گئے نقد رقوم کے پیکٹس پر

ووٹرز کے نام، وارڈ نمبر درج تھے اور ہر پیکٹ پر 3 سو بھارتی روپے لکھا گیا

تھا۔خیال رہے کہ تامل ناڈو میں اس سے پہلے ویلور کے پارلیمانی حلقے میں ایسی

ہی شکایات پر انتخابات ملتوی کردئیے گئے تھے۔

دوسری طرف حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما کپل سبل نے الزام

لگایا ہے کہ مودی سرکارنے 10 کھرب کی جعلی کرنسی بیرون ملک چھاپ کر

بھارت منتقل کی ہے جس میں ’’را‘‘ بھی شامل ہے۔10 کھرب روپے کے جعلی

کرنسی نوٹوںکوبھارتی فضائیہ کے ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے انڈیا منتقل کیا

گیا ہے۔انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ’’را‘ ‘نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار کا

کرپشن میں ہاتھ بھی بٹایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایکسچینج ٹرانزیکشن ریٹ پہلے 15

فیصد بعد میں 40 فیصد کردیا گیا ،اس کام میں بی جے پی کے صدر امیت شانے

لاجسٹکس سپورٹ فراہم کی جبکہ مختلف دفاتر سے 26 افراد شامل کیے گئے جو

انہیں رپورٹ دیتے تھے۔کپل سبل نے بتایا کہ ٹرانزیکشن کے دوران کوئی محکمہ

دخل اندازی نہیں کرسکتا تھا بلکہ دخل اندازی کرنیوالوں کو نئی دہلی سے ’’سرکار

‘‘ کا فون آجاتا تھا اور انہیں جگہ چھوڑنی پڑتی تھی۔

کاروباری سیکٹر کی جانب سے بھی نریندر مودی کی الیکشن مہم کو مالی تعاون

فراہم کیا جارہا ہے ، ممبئی کے معروف صنعتکار انیل امبانی لندن میں مقیم بھارتی

مفرورتاجر وجے مالیا اور نیرو مودی جیسے لوگ انتخابات پر اثر انداز ہونے کی

کوشش کررہے ہیں۔ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز( اے ڈی آر) کی جانب

سے مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 18-2017 میں

کارپوریٹس اور انفرادی شخصیات نے کانگریس سمیت دیگر 6 قومی جماعتوں کے

مقابلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو 12 گنا زیادہ چندہ دیا۔اے ڈی آر کے مطابق

بھارتیہ جنتا پارٹی نے20 ہزار روپے کے 93 فیصد عطیات حاصل کیے جس کی

مد میں بی جے پی کو 4 ارب 37 کروڑ روپے اور کانگریس کو 26 کروڑ 70 لاکھ

روپے ملے تھے۔کاروباری شخصیات عموماًامیدواروں کی حمایت نہیں کرتیں لیکن

مودی کئی بڑے ٹائیکونز کے قریب معلوم ہوتے ہیں۔ان کاروباری افراد سے ملنے

والے عطیات پر کی وجہ سے شفافیت میں کمی آرہی ہے ۔ پلوٹوکریسی ( دولت کی

طاقت ) کے رجحان اور بے قابو سرمایہ کاری آئندہ پالیسیوں پر سنگین اثرات

مرتب کرسکتی ہے۔

چودھری عاصم ٹیپو ایڈووکیٹ (tipu.asim@yahoo.com)

Leave a Reply