0

بھارتی وکیل عالمی عدالت میں کلبھوشن سے متعلق سوالات کے جواب دینے میں ناکام پاکستان آج جوابی دلائل دیگا

Spread the love

پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس کی سماعت ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں گزشتہ روز آج منگل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی ایڈہاک جج جسٹس (ر) تصدق جیلانی اچانک صحت خرابی کے باعث عالمی عدالت انصاف میں نہیں آ سکے، انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔پیر کی سماعت میں بھارت کیس کے میرٹ پر بات کرنے کی بجائے قونصلر رسائی پر بات کرتا رہا، دئیے گئے وقت میں بھارتی وکیل نے آدھا وقت قونصلر رسائی نہ دینے کے حوالے سے دلائل میں گزار دیا۔۔بھارتی سینئر وکیل ہریش سالوے دلائل کی بجائے مفروضے بیان کرتا رہا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق عدالت میں بھارت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کیس میں واویلا کیا گیا ۔بھارتی وکیل نے دہشت گرد کلبھوشن کا کیس فوجی عدالت میں چلنے کا نکتہ اٹھایا تاہم وہ عدالت میں پاکستان کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکا۔قبل ازیں عالمی عدالت انصاف کے 15 رکنی بینچ نے یادیو کیس کی سماعت کی، ججز کے بینچ میں ایک بھارتی جج دلویر بھی موجود تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی وکلا کو اپنے دلائل پیش کرنے تھے، جب کہ آج منگل 19 فروری کو پاکستان جوابی دلائل دے گا۔پاکستان کی طرف سے اٹارنی جنرل انور منصورخان ،پاکستانی وکیل خاور قریشی، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل اور قانونی ٹیم عدالت میں موجودرہی۔پاکستان کی جانب سے 6 سوالات اٹھائے جا چکے ہیں، جن میں سے سرِ فہرست یہ سوال ہے کہ دہشت گرد کمانڈر کلبھوشن کب نیوی سے سبک دوش ہوا، کلبھوشن کو بھارتی اصلی پاسپورٹ مسلمان کے نام سے کیوں بنا کر دیا گیا، جس پر وہ 17 مرتبہ بھارت گیا۔دریں اثناترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کیس میں گزشتہ روز پیش کیے جانے والے بھارتی دلائل میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔۔ بھارت نے ہمارے اعتراضات پر جواب نہیں دیا جبکہ اس بات کا جواب ابھی تک نہیں دیا کہ اس کے پاس حسین مبارک پٹیل کا پاسپورٹ کہاں سے آیا اور سترہ بار سفر کس طرح کیا؟ان کا کہنا تھا کہ کلبوشن یادیو پاکستان میں کیا کر رہا تھا؟ بھارت نے جواب نہیں دیا۔ اگر وہ ریٹائر تھا تو کب ہوا؟ کوئی ثبوت؟ کوئی پینشن بک کی کاپی؟ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ ہندوستان بریت، رہائی اور کلبھوشن کی واپسی کا کہتا ہے لیکن اس بات کا جواب نہیں دیتا کہ کلبھوشن کی دہشت گردی کے باعث متاثرین کو انصاف کیسے ملے گابھارت عالمی عدالت کلبھوشن کی ریٹائرمنٹ کے ثبوت دینے میں ناکام رہا،کلبھوشن یادیو کو حسین مبارک پٹیل کے نام سے جاری پاسپورٹ پر بھی بھارت عدالت میں تسلی بخش جواب نہیں دے سکاسفارتی ذرائع کے مطابق برطانوی ادارے نے کلبھوش یادیو کا پاسپورٹ اصلی قرار دے دیا جب کہ پاکستان نے برطانوی ادارے کی رپورٹ عالمی عدالت میں پیش کر دی۔برطانوی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کلبھوشن کی جعلی شناخت کے لیے بھارت نے اصل پاسپورٹ جاری کیا۔ حسین مبارک پٹیل کے نام سے پاسپورٹ بھارتی حکومت کا جاری کردہ ہے۔رپورٹ کے مطابق کلبھوشن یادیو نے جعلی شناخت اپنا کر حسین مبارک کے نام سے سفر کیا۔ حسین مبارک پٹیل کا پاسپورٹ اصلی ہے تاہم شناخت جعلی ہے۔۔پاکستانی وکلا بھارتی دلائل کے بعد آج منگل کو کلبھوشن کی تخریب کاری سے متعلق شواہد عالمی عدالت انصاف میں پیش کریں گے۔پاکستانی دلائل کے بعد 20 فروری کو ایک بار پھر بھارت کو اپنا موقف دوبارہ پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا جس کے بعد 21 فروری کو پاکستان اپنے حتمی دلائل دے گا۔عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس کی سماعت 18 سے 21 فروری تک جاری رہے گی ۔کلبھوشن نے گرفتاری کے بعد اپنے ویڈیو بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے 2003 میں انٹیلی جنس آپریشنز کا آغاز کیا اور چاہ بہار ایران میں کاروبار کا آغاز کیا جہاں اس کی شناخت خفیہ تھی ۔ کلبھوشن یادیو نے 2003 اور 2004 میں کراچی کے دورے کرنے کا اعتراف بھی کیا۔پاکستان بھارتی کمانڈر کلبھوشن یادیو سے متعلق بھارت کے تمام دعوے مسترد کر چکا ہے، کلبھوشن یادیوکو مارچ 2016 میں بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ کلبھوشن یادیو پر جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات ہیں۔فوجی عدالت میں کلبھوشن یادیو نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن کو فوجی عدالت سے سزائے موت سنائی گئی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 10 اپریل 2017 کو سزائے موت کی توثیق کی تھی۔کلبھوشن یادیو نے 22 جون 2017 کو سزائے موت کے خلاف آرمی چیف سے رحم کی اپیل کی تھی۔ رحم کی اپیل میں کلبھوشن یادیو نے را ایجنٹ ہونے کا اعتراف کیا

Leave a Reply